داعش کے بعد عرب ملک میں ایک اور تنظیم نے اپنی ریاست قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا، کونسے علاقے میں کس تنظیم کی جانب سے قائم کی جارہی ہے؟ انتہائی پریشان کن تفصیلات منظر عام پر

داعش کے بعد عرب ملک میں ایک اور تنظیم نے اپنی ریاست قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا، ...
داعش کے بعد عرب ملک میں ایک اور تنظیم نے اپنی ریاست قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا، کونسے علاقے میں کس تنظیم کی جانب سے قائم کی جارہی ہے؟ انتہائی پریشان کن تفصیلات منظر عام پر

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام اور عراق میں داعش کی ریاست کے اعلان کے بعد مغربی ممالک پر دہشت گردی کے سائے بہت گہرے ہوچکے ہیں۔ امریکا اور یورپ ابھی اس خطرے کا سامنا نہیں کرپارہے تھے کہ شام میں ایک اور شدت پسند تنظیم نے اپنی ریاست قائم کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

اخبار ڈیلی سٹار کے مطابق اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ شام پہنچ چکے ہیں اور حال ہی میں ان کا آڈیو پیغام سامنے آنے کے بعد القاعدہ کے جنگجوؤں نے بڑی تعداد میں شام کے علاقے ادلیب میں جمع ہونا شروع کردیا ہے۔ حمزہ بن لادن نے جنگجوؤں کو متحد ہونے اور مغرب پر مل کر حملہ آور ہونے کی ہدایت کی تھی۔ مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی اس ہدایت پر عمل شروع ہوچکا ہے اور القاعدہ کے جنگجو ناصرف ادلیب میں جمع ہورہے ہیں بلکہ عنقریب القاعدہ کی حمایتی و ذیلی تنظیم جماعت النصرہ یہاں اپنی الگ ریاست کا اعلان بھی کرنے والی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ریاست مغربی ممالک کے لئے داعش سے بھی بڑا خطرہ ثابت ہوگی۔ داعش میں بڑی تعداد میں نئے جنگجو شامل ہوئے ہیں لیکن جماعت النصرہ کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں ایسے جنگجو ہیں کہ جو کئی سالوں سے جنگ کے میدان میں ہیں۔ ادلیب میں نئی ریاست کے اعلان کا یہ مطلب بھی ہو گا کہ القاعدہ مقامی طور پر خود کو مضبوط اور محفوظ تصور کرتی ہے اور اب مغرب کی طرف قدم بڑھانے کے لئے تیار ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیا لشکر اس قدر طاقتور اور تجربہ کار ہوگا کہ یہ مغرب کی ناک کو لہولہان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا اور اسے ختم کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔ داعش کے برعکس جماعت النصرہ کے شام میں لڑنے والی اپوزیشن جنگجوؤں کے ساتھ تعلقات بہتر ہیں جبکہ شامی معاشرے میں ا ن کی جڑیں بھی گہری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ شام میں ایک اور ریاست کا اعلان اس ملک کے پہلے سے دگرگوں حالات کو مزید خرابی کی طرف لیجائے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ مغربی ممالک شامی اپوزیشن کو جماعت النصرہ سے علیحدہ کرنے کے لئے مزید اسلحہ اور مدد فراہم کریں گے، جس کے نتیجے میں پہلے سے جاری جنگ میں مزید شدت آجائے گی، اور شام کے مظلوم عوام کو مزید تباہی و بربادی دیکھنا پڑے گی۔

مزید :

عرب دنیا -