رواں مالی سال میں مقامی طور پر تیار کی گئی ، گاڑیوں کی طلب 29فیصد بڑھ گئی

رواں مالی سال میں مقامی طور پر تیار کی گئی ، گاڑیوں کی طلب 29فیصد بڑھ گئی

  

 اسلام آباد (اے پی پی)گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے دوران مقامی طور پر تیارکی گئی گاڑیوں کی ضرورت میں 29 فیصد کا اضافہ ہواہے اور رواں مالی سال میں جولائی تا اپریل 2015-16ء کے دس ماہ کے دوران مقامی طور پر تیار کی گئی ایک لاکھ 84 ہزار 99گاڑیاں فروخت کی گئیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران ایک لاکھ 42 ہزار 814گاڑیاں فروخت کی گئی تھیں ۔ پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری ، بینکوں کی جانب سے گاڑیوں کی خریداری پر حاصل کیے جانے والے قرضوں پر شرح سود کی کمی اور پنجاب حکومت کی ٹیکسی سکیم سے مقامی طورپر تیار کی جانیوالی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ کے بنیادی اسباب ہیں ۔رپورٹ کے مطابق انڈس موٹرز نے رواں سال میں 52ہزار 987گاڑیاں فروخت کی ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلہ میں 1.15 فیصد زائد رہی ہیں تاہم اپریل 2016ء کے دوران کمپنی نے 5ہزار 483 یونٹس فروخت کئے جو اپریل 2015ء کے مقابلہ میں 6فیصد کم ہیں ۔ پاما کی رپورٹ کے مطابق سوزوکی کی فروخت میں جاری مالی سال کے دوران 41فیصد کانمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے اور جاری مالی سال کے دوران کمپنی کی تیار کردہ 1لاکھ 9ہزار 628گاڑیاں فروخت کی گئی ہیں ۔ اسی طرح رواں مالی سال میں ہنڈا کی تیار کردہ گاڑیوں کی فروخت میں 1.13فیصد کا اضافہ ہونے سے کمپنی کی تیار کردہ گاڑیوں کی فروخت کاحجم 21 ہزار 292یونٹس تک بڑھ گیا۔ گاڑیوں کی فروخت میں ہونے والے 29فیصد کے مجموعی اضافہ سے ملکی معیشت کی ترقی و بہتری کی عکاسی ہوتی ہے جو ملک میں تجارتی و صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔

مزید :

کامرس -