ٹیکس نظام میں معنی خیز اصلاحات سے بجٹ خسارہ ختم جائیگا ،میاں زاہد حسین

ٹیکس نظام میں معنی خیز اصلاحات سے بجٹ خسارہ ختم جائیگا ،میاں زاہد حسین

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ٹیکس نظام میں معنیٰ خیز اصلاحات سے بجٹ خسارے کا نام و نشان مٹ جائے گا اور ملک کسی کا محتاج نہیں رہے گا۔ اس سے ملکی دفاع مستحکم، سماجی شعبے کی ترقی اور غربت کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا کیونکہ موجودہ سوشل سیفٹی پروگرام کم بجٹ کی وجہ سے دس فیصد آبادی کو بھی فائدہ پہنچانے میں ناکام ہیں۔ اس سلسلے میں ایف بی آر کو خود مختار ادارہ بنانے اور ٹیکس جوڈیشری کے قیام کو ترجیح دی جائے۔ ٹیکس آڈٹ کو کمشنرز کی صوابدید پر چھوڑنے کے بجائے بیلٹنگ کا طریقہ وضع کیا جائے تاکہ ٹیکس سسٹم کو جمہوری بنایا جا سکے جس سے کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافہ ہو گا۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ مرکزی اور صوبائی ٹیکس اتھارٹیز میں ہم آہنگی کی کمی ہے جس سے ٹیکس دھندگان کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے فیصلوں سے اختلاف رکھنے والوں کو اسی ادارے میں اپیل کرنی پڑتی ہے جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

اسکے لیئے الگ ٹیکس جوڈیشری قائم کی جائے جس کا ایف بی آر سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ براہ راست ہائی کورٹ کے تابع ہوں۔ موجودہ نظام میں ٹیکس کی رقم کا بڑا حصہ حکومت کے بجائے وکیلوں کی نظر ہو جاتا ہے۔ٹیکس سسٹم میں اصلاحات اور اسے جمہوری بنانے سے جس میں خام مال کی درآمد پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ ، کارپوریٹ ٹیکس میں کمی اور معیشت کے مختلف شعبوں میں عائد ٹیکسوں میں توازن پیدا کرنا شامل ہیں سے مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی ہو گی جوملک کو ٹریڈنگ اسٹیٹ بننے سے روکیں گی اور صنعتی شعبہ جو اس وقت کل محاصل کا 73 فیصد بوجھ اٹھا رہا ہے غیر ضروری دباؤ سے آزاد ہو جائے گا۔موجودہ نظام انگریز کا چھوڑا ہوا ہے جس پر وہ خود عمل نہیں کر رہے مگر ہم اسے چھوڑنے کو تیا رنہیں۔ترقیافتہ ممالک میں ٹیکس ریٹرن جمع کروانے میں پندرہ سے بیس منٹ لگتے ہیں اور یہاں کئی ہفتے درکار ہوتے ہیں جو آن لائن سسٹم کی کمزوری ہے جسے جلد از جلد دور کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ قرضے ملکی ترقی کو یقینی بنانے کیلیئے لیئے جائیں اور ان قرضوں کے صحیح استعمال کو یقینی بنانے کیلیئے موثراور شفاف آڈٹ کا نظام تشکیل دیا جائے۔#/s#

مزید :

کامرس -