حکام کی یقین دہانیوں کے باوجود انڈسٹری کے ریفنڈز نہیں دیے جا رہے: پیاف

حکام کی یقین دہانیوں کے باوجود انڈسٹری کے ریفنڈز نہیں دیے جا رہے: پیاف

  

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے کہا ہے کہ متعلقہ حکام کی یقین دہانیوں کے باوجود انڈسٹری کے ریفنڈز نہیں دیے جا رہے۔ بزنس کمیونٹی ریفنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث تاریخ کے بد ترین بحران کا شکار ہے۔ چئیرمین عرفان اقبال شیخ نے گزشستہ روز وائس چیئرمین خواجہ شاہ زیب کے ہمراہ صنعتکاروں کے ایک بڑے وفد سے اپنے دفتر میں ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ ٹیکس کولیکشن بہتر ہونے کے باوجود انڈسٹری کے ا یف بی آر کے تحت سیلز ٹیکس ریفنڈ ، کسٹم ریبیٹ اور انکم ٹیکس ریفنڈ کی مد میں پھنسے ہزاروں ملین روپے کے ریفنڈز نہیں دیے جا رہے ۔ کیش فلو کے رک جانے سے گزشتہ سال کے مقابلے میں ملکی برآمدات میں 13.42 فیصد کمی آئی ہے جبکہ مد مقابل بنگلہ دیش کی برآمدات میں 11.82 فیصد اضافہ ہو اہے۔

چئیرمین عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ جولائی تا اپریل 2345 ارب ر وپے کی ریکارڈ ریونیو وصولی کے باوجود ایکسپورٹرز ریفنڈ سے محروم ہیں جس سے بزنس کمیونٹی کے آئندہ کے کے لائحہ عمل شدیدمتا ثر ہورہے ہیں۔جس وجہ سے متعد دیونٹس بند ہو چکے ہیں اور بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وائس چئیرمین خواجہ شاہ زیب اکرم نے کہا کہ ایک سال سے زائد عرصے کی برآمدات کے ریفنڈز ابھی تک جاری نہیں کئے گئے انڈسٹری کا کیش فلو رکنے کی وجہ سے 40 فیصد تک انڈسٹریل کیپیسٹی بیکار ہو گئی ہے جس سے بیروزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے انھوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز کے تمام ریفنڈز بلا امتیاز اور غیر جانب دارانہ فوری ادائیگی کی جائے تاکہ انڈسٹری کا پہیہ چلتا رہے۔ خواجہ شاہ زیب اکرم نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بزنس کمیونٹی اپنے مسائل کی صحیح طرح سے لابنگ کرے اور متعلقہ افسران کوگراؤنڈ رئیلیٹیز بتائی جائیں تاکہ اصل ایشوز کی جڑ تک پہنچا جا سکے۔

مزید :

کامرس -