ریاستی وزیر لال سنگھ کا جموں کے مسلمانوں کیخلاف بیان اس کے ذہنی خلجان کی علامت ہے،کل جماعتی حریت کانفرنس (گ)

ریاستی وزیر لال سنگھ کا جموں کے مسلمانوں کیخلاف بیان اس کے ذہنی خلجان کی ...

  

سرینگر(کے پی آئی)کل جماعتی حریت کانفرنس (گ)، نیشنل فرنٹ، فریڈم پارٹی، لبریشن فرنٹ، مسلم لیگ نے ریاستی وزیر لال سنگھ کے جموں کے مسلمانوں کیخلاف دیئے گئے بیان پرسخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے ان ریمارکس کو ذہنی خلجان سے تعبیر کیا ہے۔حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے ریاستی وزیرِ جنگلات چودھری لعل سنگھ کے مسلم مخالف ریمارکس پر اپنی گہری فکرمندی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آر ایس ایس اور جن سنگھیوں کی ذہنیت کی اصل عکاسی ہے اور وہ عملا بھی جموں صوبے میں ایک اور 1947دہرانے کی تاک میں بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے البتہ خبردار کیا کہ کسی بھی جموی مسلمان کو ذرہ برابر بھی گزند پہنچی تو ایسا طوفان اٹھے گا کہ لعل سنگھ اور اس قبیل کے دوسرے تمام لوگوں کو بہاکر لے جائے گا اورزمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود ان کے لیے تنگ پڑ جائے گی ۔ گیلانی نے لال سنگھ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بیمار ذہنیت اور پاگل پن کا مظاہرہ کیا ہے اور ان کی جگہ وزارت کی کرسی پر نہیں بلکہ سلاخوں کے پیچھے ہونی چاہیے ۔نیشنل فرنٹ چیئرمین نعیم احمد خان نے کہاکہ کشمیر اور مسلمان مخالف عناصر کو مسلمانوں کیخلاف زہر اگلنے کی کھلی چھوٹ ہے مگر امن پسند کشمیریوں کو مفتوحہ غلام سمجھ کر ان پر آئے دنوں پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔

نعیم خان نے کہا کہ مسلمانان جموں کو دھمکی دیکر مسلمان مخالف عناصر نے آخر کار اپنے مکروہ اور خفیہ منصوبے کو اگل ہی دیا لیکن مذکورہ مسلم مخالف عناصر یہ بھول گئے ہیں کہ یہ 1947نہیں بلکہ 2016ہے اور گذشتہ67برسوں کے دوران یہاں کے مسلمانوں نے عملی اسباق سیکھ لئے ہیں جن میں سر فہرست یہ ہے کہ اب جنونی ہندؤں پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرنا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ جنونی ہندو عناصر مسلمانان جموں وکشمیر کو تقسیم کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ اپنے مکروہ منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکیں اوربد قسمتی سے ان عناصر کو بعض کشمیریوں کی بھی پشت پناہی حاصل ہے جن سے ان کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔نعیم خان نے کہاہم نئی دلی سے سرینگر تک سرگرم سبھی مسلم مخالف اور کشمیر مخالف عناصر کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ اپنا وطیرہ بدل دیں اور اپنی زبانوں کو لگام دیں۔انہوں نے کہاسیاسی طور سے بھارت کشمیریوں کی جد و جہد کے سامنے ہار چکا ہے اس لئے اب اس نے فرقہ پرستی کا کارڈ استعمال کرنے کا آغاز کیا ہے تاکہ ہماری جائز اور برحق جد و جہد کو غلط نام دیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا تاہم ان مسلم مخالف عناصر کو یاد رکھنا چاہئے کہ کشمیری عوام کسی بھی حال میں بھائی چارے اور انسان دوستی کا دامن ہاتھ سے نہیں جانیں دیں گے۔ فریڈم پارٹی جنرل سیکریٹری مولانا محمد عبداللہ طاری نے کہا کہ لال سنگھ ہمیشہ کے لئے اس بات کو ذہن نشین کرے کہ ریاستی مسلمان ان گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔مولانا طاری نے لال سنگھ کے دھمکی آمیز بیان کو بوکھلاہٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں صوبے کے مسلمان خود کو تنہا محسوس نہ کریں بلکہ ریاست کے سبھی خطوں کے لوگ ان کی پشت پر ہیں ۔ مولانا طاری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم 6جنوری1947کو قتل کئے گئے مسلمانوں اور ان کے قاتلوں کو نہیں بھولیں ہیں ،زخم ابھی تازہ ہیں اور جموں کشمیر کے حل کے ساتھ ہی یہ زخم مندمل ہوں گے ۔مولانا طاری نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر جموی مسلمانوں کو کوئی گزند پہنچی تو آگ کی لپٹیں اقتدار کے ایوانوں اور ان تک پہنچے گی جنہوں نے اس کی شروعات کی ہو ۔مولانا طاری نے لال سنگھ کی ہرزہ سائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے ان لوگوں کو ہمیشہ کے لئے اس بات کو ذہن نشین رکھناچاہئے کہ ریاست کسی کی جاگیر نہیں۔لبریشن فرنٹ (آر )سرپرست اعلی بیرسٹرعبدالمجید ترمبو نے کہاکہ لال سنگھ جیسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ جموں کے مسلمانوں کو کوئی گزند پہنچی تو جموں وکشمیر کے سارے لوگ ان کی پشت پر کھڑے ہوں گے ۔بیرسٹر ترمبو نے لال سنگھ جیسے جنونی لوگوں کی سماج میں موجودگی کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ یہ آدمی اقتدار کی خاطر کسی بھی حد تک جاسکتا ہے لیکن ہم نے تہیہ کیا ہے کہ جموں کے مسلمانوں کو کسی بھی صورت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔مسلم لیگ قائمقام چیئرمین محمد یوسف میر نے کہاکہ لال سنگھ نے ماضی سے پردہ اٹھاتے ہوئے حال و مستقبل میں مسلمانوں کو اسی نوعیت کے قتل عام سے سابقہ پڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس کے عزائم اور مسلمانوں کے تئیں اپنی پسِ پردہ پالیسی کا اظہار کر کے جموں کشمیر خصوصا جموں کے مسلمانوں کو غیرمحفوظ کرکے اپنے خفیہ ایجنڈے سے پردہ اٹھادیا ہے ۔ یوسف میر نے کہا کہ لال سنگھ کا دیا گیا بیان دراصل سنگھی ذہنیت اور ناگپوری نصاب کا نتیجہ ہے جو جموں کشمیر میں مسلمانوں کی بیخ کنی کر نے کے پرانے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ۔حریت (ع)کے سینئر لیڈر مختار احمد وازہ نے کہاکہ آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پسند طاقتوں کو کسی بھی صورت میں پھر ایک بار جموں و خطہ چناب میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔

مزید :

عالمی منظر -