ماضی کاماتم

ماضی کاماتم
 ماضی کاماتم

  

عرصہ ہائے دراز سے اس خطہ خاک میں سیاست سازشوں ،جمہوریت جلادوں اور عقل مکاشفوں کی زد میں ہے۔مدت مدید سے سیاست دانوں کو دشنام تو بہت دیئے جا رہے مگر انہیں داد کبھی نہیں دی گئی۔ دفاعی اداروں کو داد تو بہت دی گئی پر ان سے حساب کبھی نہیں لیا گیا۔ ہر آنے والا دن حقیقت پر التباسات و انحرافات کی دھند دبیز ہی کرتا جاتا ہے ۔ عامیوں کو چھوڑیئے۔۔۔ عالموں کو بھی کیا خبر کہ مولانائے روم جلال الدین رومی اپنی مثنوی میں دراصل اپنے اسماعیلی امام شمس الدین کی اتباع کا دم بھرتے رہے۔جی ہاں وہی شمس الدین جو سقوطِ الموت کے بعد بر بنائے مصلحت اپنی شخصیت پر پردہ ڈالنے پر مجبور تھے۔ پھر عامۃالناس کس شمارو قطار میں ! ان پر حقیقت کیسے منکشف ہو کہ سیاست کے مروج مظاہر،کچھ کی شعلہ بیانی اور آئے روز احتجاجی جلسہ و جلوس ،احتساب اور کرپشن کا پیہم پروپیگنڈا ۔۔۔دراصل سیاست اور جمہوریت کو بدنام و بے توقیر کرنے کی پختہ عیاری واداکاری ٹھہری۔تاریخ اور صحافت کے روایتی ذہن اور موجودہ فکری فریم ورک میں اتنی وسعت اور ظرف نہیں صدق و کذب الگ الگ چھانٹ سکے۔

ملکی صورتحال کے مجموعی اشاریئے مثبت اورارتقا کے امکانات درست جادے پر جا نکلے ہیں ۔نالہ وشیون کے رسیا مگرماتم کے موسم میں ہی زندہ ہیں۔22 ویںآئینی ترمیم کے بعد۔۔۔آنے والے ایام میں توانتخابی دھاندلی کا راستہ مسدود کرنا عین ممکن ہوا چاہتا ہے ۔اساطیر واباطیل کے بل بوتے پر جو لوگ دھاندلی یا 35پنکچر کا ناکام و نامراد پے بہ پے پروپیگنڈا کیا کئے ۔۔۔انہیں چاہئے ماضی کے ملبے کے نیچے سے نکل آئیں۔آئندہ دھاندلی کا راستہ روکنے کے لئے پارلیمنٹ میں موزوں تجاویز اور مستحکم تدابیر کااہتمام و ساماں کر گزریں۔عوام کے اژدہام عام میں الزام و دشنام دینے کی بجائے مذاکرات کی میز پر معقول دلائل کے ساتھ من کی منشا پائیں۔اخباری کالموں اور بازار ی زبان میں ہی ممدوح اخبار نویس اہلیت کے بغیر منصب اور حق کے بغیر حصہ دے سکتے ہیں ۔۔۔باشعور جمہور نہیں۔امکانات کی دنیا میں کم کوشوں اور کوتاہ دستوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ،کوئی حصہ نہیں۔ماتم کرنے والے منزل نہیں پاتے اور سازشوں و پروپیگنڈوں سے حقائق بھی بدلا نہیں کرتے ۔یہ الگ بات کہ ایسا کرنے والے اپنی ہی لہر میں حیران و سرگرداں پڑے پھرتے ہیں۔سیاست میں شیر کے جبڑوں سے نوالہ کھینچ لینے والے خواہش مندوں کو خبر ہو کہ شیخ چلی کے قصے کہانیوں میں ہی ایسا ممکن ہے ۔۔۔حقیقی دنیا میں اس کے لئے دل گردہ چاہئے۔

کہاجاتا ہے پوچھنے والے نے پطرس بخاری سے پوچھا کہ کبھی آپ لاجواب بھی ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہاں ایک بار ایسا ہوا ۔ میری گھڑی خراب تھی اور میں ٹھیک کرانے کے لئے بازار میں گھڑیوں کی دکان تلاش کررہا تھا۔ ناگاہ نگاہ ایک دکان پر پڑی جہاں گھڑیاں لٹکی ہوئی تھیں ۔میں نے کہا میری گھڑی خراب ہے ٹھیک کر دیجئے۔دکان دار بولا۔۔۔معاف کیجئے ہم گھڑیاں ٹھیک نہیں کرتے ۔میں نے کہا تو پھر آپ کیا کرتے ہیں؟ہم بچوں کے ختنے کرتے ہیں ۔ہیں؟ہاں!پطرس روایت کرتے ہیں کہ میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔میں نے زچ کرنے کے لئے غصے سے کہا کہ پھر آپ نے یہ گھڑیاں کیوں لٹکا رکھی ہیں؟صیحح بخاری اپنی کم مائیگی کااعتراف کر گزرے کہ مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا ۔داد تو خیر بعد میں دیجئے کہ کہاں کی بات کہاں ٹانکی ہے ۔پہلے کوئی کپتان سے تو پوچھے کہ حکومت سڑکیں تعمیر نہ کرے تو کیا کرے ؟ چلو شیخ رشید ہی بتا دیں دکان دار کیا لٹکائے ؟

سڑک تجارت کی شاہ کلید ہوتی ہے اور تجارت کو معیشت کا قلب کہا جاتا ہے ۔سڑک دہقان کے کھیت کھلیان کو منڈی سے ہی نہیں ملاتی ۔۔۔اس کے سینے پر اقوام و ملل کی تعمیر وترقی کا سفینہ سفر کرتا آیاہے ۔سڑک کے چوڑے چکلے سینے پر چلتے ہوئے کارواں غریبوں،محنت کشوں،مزدوروں اور ریڑھی بانوں کی روٹی و روزی کا سندیسہ لاتے ہیں ۔سڑکیں انسانوں کو انسانوں سے ہی نہیں ملاتیں ۔۔۔معیشت و تجارت کو بھی کشاں کشاں رواں دواں رکھا کئے ۔جب بھی،کہیں بھی کوئی نئی سڑک تعمیر ہوتی ہے ۔۔۔ایسا لگتا ہے حیاتی کا پہیہ تمام تر مخالفتوں اور مزاحمتوں کو کچلتا ہوا آگے کی جانب چل نکلا ہو ۔سہمی اور سوئی ہوئی زندگی کو نئی توانائی مل گئی ہو ۔سیاست کا وہی ثقہ سا اصول کہ ملکی تعمیرو ترقی جانچنے اور پرکھنے کا پیمانہ کیا ہے ؟ پولیٹیکل سائنس کے ماہرین اور شناورین کے بقول کہ پھر ملکی اداروں کو دیکھو کس حال میں ہیں یا کس مقام اور منزل پر کھڑے ہیں۔اس کے بعد؟اس کے بعد سڑکیں اور شاہراہیں ہی دیکھی بھالی جائیں گی بابا۔ماتم کے ماروں کو جانے دیجئے جو عمر بھر رونا روتے رہے کہ ہائے ہائے سڑکوں کے لئے شہر کے شہر ادھیڑ دیئے گئے ۔مطلب کہ سکوت اور جمود ہی رہے تو اچھا۔کتنا اچھا کہ کوئی طاقت رکھتا ہو ان نابالغ اخبار نویسوں کے دماغ میں ڈال دے کہ تعمیر سے قبل تخریب ہی ہو تی آئی ہے ۔

سیاست کو بے توقیر و بے افتخار کرنے اور ماضی کا ماتم کرنے میں کچھ فکر راست کے نقیب سیاست دانوں نے خود بھی حصہ ڈالا۔نادانستگی اور بھولپن میں ہی سہی ۔۔۔ان کی تلواریں آپس میں ہی الجھ کر رہ گئیں۔رضا ربانی ایسا زود رنج بھی جب بار بار بچوں کی طرح روٹھنے اور مننے لگے ۔۔۔تو سیاست کو اعتبار عطا ہو تو کیسے اور وقار ملے تو کیونکر۔فرمایا سینٹ کے چیئرمین نے ۔۔۔سینٹروں کی تنخواہیں میں اضافہ نہیں ہونا چاہئے ،میں اسے غیر قانونی سمجھتا ہوں۔جی ہاں فریب کی بات کیجئے کہ بازار میں بھاؤ بڑھے ،حقائق کی بات مت کیجئے کہ دل کو گھاؤ لگے ۔ربانی کی دہائی روایتی سی ہے ۔کہیں سے کوئی اجنبی صدا نہیں سنائی دیتی کہ بھائی بڑھنی چاہئے۔آخر ان کی تنخواہوں میں کیو ں اضافہ نہیں ہونا چاہئے؟پروٹو کول کے لحاظ سے ممبر قومی اسمبلی وفاقی سیکرٹری سے بالا،تنخواہ کے حساب سے پست کیوں؟ذرا دیکھئے تو قومی اسمبلی کے سیکرٹری کی تنخواہ ساڑھے تین لاکھ سے زائد اور سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ سے بھی کم ٹھہری۔ملٹی نیشنل کمپنیوں ،بیکنگ،سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے اور دنیا بھر کے دیگر اداروں میں مشاہرے اور مراعات منصب کے لحاظ سے ہی فیصل ہوا کئے ۔پاکستانی پارلیمنٹرین کا بابا آدم انوکھا ہے کہ اماں حوا نرالی ؟ آپ ان کو دیں کچھ بھی نہیں اوران سے آس لگائے رکھیں کہ یہ امین و صادق بھی ہوں۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایسے رہیں بھی بھائی پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے اعلیٰ و ارفع لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔یہ ہو نہیں سکتا کہ پارلیمان میں بیٹھنے والے اور پارچے بیچنے والے کی یکساں تنخواہ ہو ۔خوشا خیر ہو کمیٹی نے یہ بھی تجویز دی کہ تنخواہیں 2018 کے عام انتخابات کے بعد بھی بڑھائی جا سکتی ہیں۔ادھر ذرا اپنے ایپکا کو تو دیکھو ۔۔۔ ماشاء اللہ ! مرحبا!قیام پاکستان سے تاایں دم درجہ چہارم والوں کے لئے بھی تولہ بھر سونا کے برابر تنخواہیں مانگتے ہیں۔ سیاست اور جمہوریت کو معاف کیجئے ۔۔۔بتلایئے ناں صاحب عقل بھی مکاشفوں کی زد میں ہے کہ نہیں؟

مزید :

کالم -