موسم کی شدت اور تعلیمی اداروں کی چھٹیاں!

موسم کی شدت اور تعلیمی اداروں کی چھٹیاں!

  

موسم کی شدت کی وجہ سے سندھ کے بعد پنجاب حکومت نے بھی تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان کر دیا جو آج (24مئی) سے 15 اگست تک ہوں گی۔ سندھ حکومت نے دو ماہ کے لئے چھٹیاں دی تھیں، ہر دو صوبائی حکومتوں نے یہ اعلان سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے لئے کیا، پہلے سندھ اور اب پنجاب میں بھی نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے تعمیل سے گریز کیا اور طلباء کے امتحانات کا عذر پیش کیا ہے جبکہ اصل وجہ ان کی طرف سے طلباء کے والدین سے چھٹیوں کی وجہ سے چار چار ماہ کی فیس اکٹھی وصول کرنا ہے جس کے لئے نوٹس جاری کئے گئے، سندھ حکومت نے تو فوری طور پر قریباً دو سو نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کرکے حالات پر قابو پایا، اسی طرح پنجاب میں نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے حکومتی اعلان کے مقابلے میں اپنی طرف سے کہا کہ طلباء و طالبات کے امتحانات ہیں اس لئے 4جون سے چھٹیاں کی جائیں گی جبکہ اصل صورت حال یہاں بھی فیسوں کی وصولی ہے اور یہ مالکان بھی دو سے چار ماہ کی اکٹھی فیس وصول کر رہے ہیں، اکثر والدین سکول انتظامیہ کے نوٹس کے جواب میں فیسیں جمع بھی کرا چکے ہیں، ان کے پاس دوسرا حربہ یہ بھی ہوتا ہے کہ طلباء کا ہوم ورک روک لیا جاتا ہے کہ فیس کی ادائیگی کے بعد ملے گا۔اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے یہاں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا ہے، ہمارے سٹاف رپورٹر کی خبر کے مطابق حکومت نے قطعی اور حتمی طور پر کہا ہے کہ کسی نجی تعلیمی ادارے کو بیک وقت یا یکمشت فیس لینے کی اجازت نہیں، والدین ہر ماہ معمول کے مطابق فیس ادا کریں، جو سکول یا تعلیمی ادارہ خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، اسی طرح چھٹی کے فیصلے پر بھی عمل ہوگا کہ یہ چھٹیاں بچوں کی صحت کے پیش نظر جلدی دی گئی ہیں۔ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔حکومت کا یہ فیصلہ مستحسن ہے کہ محکمہ موسمیات کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی کہ گرمی کی شدت جون میں بھی برقرار رہے گی۔ شدید گرمی کی وجہ سے ننھے اور معصوم طالب علم اور طالبات پہلے ہی نڈھال چلے آ رہے ہیں۔ نجی مالکان کو اپنے منافع سے غرض ہے حالانکہ معمول کے مطابق ماہانہ فیس لیتے ہیں۔ چھٹیاں ہوں گی تو والدین ہر ماہ فیس جمع کرانا اپنا فرض جانیں گے۔ ان کو نقصان تو بہرحال نہیں ہوگا کہ فیس نہ آئے تو یہ جرمانہ کرتے اور زیر تعلیم بچے بچی کا نام بھی خارج کر دیتے ہیں جو والدین کے لئے مشکل مسئلہ ہے۔ حکومت کے تعلیمی اداروں اور طلباء و طالبات کے حوالے سے یہ فیصلے مستحسن ہیں اور ان پر عمل درامد بھی پوری صحت کے ساتھ کرانا چاہیے۔ اس فیصلے کو عوام کی تائید حاصل ہوگی۔

مزید :

اداریہ -