افغانستان کا امن ملاّ اختر منصور کے بعد؟

افغانستان کا امن ملاّ اختر منصور کے بعد؟

  

امریکہ کے صدر باراک اوباما نے افغان طالبان کے سربراہ ملاّ اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے دہشت گردوں کو پاکستان میں محفوظ ٹھکانے نہیں ملنے چاہئیں اس سے قبل گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا ملاّ اختر منصور بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ڈرون حملے میں مارا گیا حملے سے قبل پاک افغان قیادت کو اطلاع اور وزیر اعظم نوازشریف کو ٹیلی فون کیا تھا۔ ملاّ اختر منصور افغان مفاہمتی عمل کا مخالف تھا اور مذاکرات سے انکار کر کے مستقل خطرہ بن چکا تھا جان کیری کا کہنا ہے کہ اس عمل سے دنیا کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ پر امن اور خوشحال افغانستان کے لئے کام کرتے رہیں گے امریکی محکمہ دفاع (پنٹا گون) نے بھی ملاّ اختر منصور کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ پنٹا گون کے ترجمان کے مطابق امریکی فوج نے ملاّ اختر منصور پر پاک افغان سرحد کے قریب فضائی حملہ کیا۔ متعدد جاسوس طیاروں نے ایک گاڑی پر میزائل داغے جس کے نتیجے میں ملاّ منصور اور ایک نوجوان جنگجو مارا گیا۔ ترجمان کے مطابق حملہ صدر اوباما کی منظوری سے کیا گیا اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جاسوس طیاروں نے ملاّ منصور کو نشانہ بنایا۔ ملاّ اختر منصور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن اور مصالحت کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ انہوں نے طالبان رہنماؤں کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لینے سے روکے رکھا۔

امریکہ میں اعلیٰ ترین سطح پر ڈرون حملے کے ذریعے میزائل داغ کر ملاّ اختر کو ہلاک کرنے کا فیصلہ غالباً طالبان کی طرف سے افغان انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کے بعد کیا گیا۔ پاکستان نے طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کئی کوششیں کی تھیں لیکن تا حال ان میں کامیابی نہیں ہو سکی تھی۔ ملاّ اختر منصور ایک سال تک افغان طالبان کے امیر رہے انہیں ملاّ عمر کی موت کی اطلاعات منظرِ عام پر آنے کے بعد گزشتہ مئی میں سربراہ بنایا گیا تھا اس وقت طالبان کے ساتھ افغان انتظامیہ کے مذاکرات کا ایک دور ہو چکا تھا کہ اچانک ملاّ عمر کی موت کی خبر منظرِ عام پر آ گئی جو طویل عرصے تک خفیہ رکھی گئی تھی امکان تھا کہ نئے امیر کے انتخاب کے بعد طالبان کے افغان انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور مناسب وقت پر ہوگا لیکن ایک برس گزر جانے کے باوجود ایسا نہ ہوسکا۔ پاکستان نے بھی اس سلسلے میں کافی کوششیں کیں جو کامیاب نہیں ہو سکیں اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا ملاّ اختر منصور کا جانشین افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے گا یا نہیں؟ اور اگر مذاکرات کا سلسلہ شروع نہ ہو سکا تو کیا حالات اسی طرح چلتے رہیں گے۔ ملاّ عمر افغان انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے مخالف تھے ان کے بعد ملاّ اختر منصوربھی اسی پالیسی پر گامزن رہے۔ امریکی غالباً ان کی تلاش میں لگے ہوئے تھے اور ان کا مسلسل پیچھا کیا جا رہا تھا جہاں انہیں موقع ملاّ انہوں نے ڈرون حملہ کر کے ملاّ اختر منصور کا خاتمہ کر دیا۔ اب مذاکرات کا تمام تر انحصار اس بات پر ہے کہ ان کا جانشین کیا پالیسی اختیار کرتا ہے اگر نیا امیر بھی مذاکرات کا مخالف نکلا تو افغانستان میں امن بہت عرصے تک خواب و خیال بنا رہے گا۔

اگرچہ امریکی انتظامیہ ملاّ اختر منصور کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی تصور کر رہی ہے اور اس کا موازنہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی موت سے کیا جا رہا ہے جس کے بعد حالات کا دھارا امریکہ کی حمایت میں بہہ نکلا اور اسامہ کے خلاف کامیاب آپریشن کی وجہ ہی سے صدر اوباما کو اپنی دوسری صدارتی ٹرم میں کامیابی حاصل ہوئی، اب امریکہ میں جس انداز میں اس کامیابی کا تذکرہ ہونے لگا ہے محسوس یوں ہوتا ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کو اپنے صدارتی انتخاب میں اس سے بڑی مدد ملے گی اور صدر اوباما اسے اپنی اہم ترین کامیابیوں میں شمار کریں گے۔ البتہ یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ امریکہ کے لئے یہ کامیابی جتنی بھی اہم ہو کیا اس کے نتیجے میں افغانستان میں امن قائم کرنے میں کوئی مدد مل سکتی ہے؟ اگرچہ وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اس حملے سے امریکہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ ہم افغانستان میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن اس کا نتیجہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کے قیام کی مدت میں اضافہ کرنا پڑے اور اگر افغان طالبان کے حملوں میں شدت پیدا ہو تو افواج کی تعداد بھی بڑھانا پڑے۔صدر باراک اوباما نے اپنی پہلی صدارتی مدت کی انتخابی مہم کے دوران یہ اعلان بڑی شد و مد سے کیا تھا کہ وہ صدر بن کر افغانستان سے امریکی فوج واپس بلا لیں گے لیکن جب عملاًّ یہ فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو امریکی فوجی کمانڈر اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے چنانچہ انہوں نے فوجی کمانڈروں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد امریکی افواج کی واپسی کے جس پروگرام کا اعلان کیا اس کے تحت دس ہزار سے زیادہ امریکی فوج اب بھی افغانستان میں موجود ہے۔صدر باراک اوباما 20 جنوری 2017ء کو عہدے کا چارج چھوڑ دیں گے۔ اور ایسے لگتا ہے کہ نئے امریکی صدر کو ہی اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرنا ہوگا اور اس کا بہت زیادہ انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس وقت تک افغانستان کے حالات کیا ہوتے ہیں۔ ملاّ اختر منصور کی ہلاکت کے واقعہ کو وہ حلقے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کریں گے جو پہلے ہی پاکستان کی فوجی امداد کو مختلف نوعیت کی شرائط کے ساتھ مشروط کر رہے ہیں۔ واشنگٹن میں بھارتی لابی بھی اس واقع کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرے گی جس نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی ڈلیوری رکوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

مزید :

اداریہ -