جی ڈی اے بمقابلہ پیپلز پارٹی

جی ڈی اے بمقابلہ پیپلز پارٹی
جی ڈی اے بمقابلہ پیپلز پارٹی

  

گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے سربراہ پیر پگارو نے تو کھل کر کہہ ہی دیا کہ اگر فوج کو پانچ سال کے لئے ملک کا اقتدار دے دیا جائے تو کیا حرج ہوجائے گا؟آخر مردم شماری ہو یا سیلاب سے بچاؤ فوج کو طلب کیا جاتا ہے نا۔ ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے اگر اقتدار فوج کو دے دیا جائے تو کوئی کام تو ہو جائے گا۔ پیر پگارو حیدرآباد میں جی ڈی اے کے تحت ایک کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں جی ڈی اے میں شامل جماعتوں کے امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے۔ کنونشن کے تمام مقررین نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور وزراء کے خلاف بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے ۔ انہوں نے مشرف کا نام لے کر کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے انہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے کیوں کہ بی بی اور ان کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا تھا کہ مشرف پانچ سال صدر رہیں گے۔ بی بی کی شہادت کی خبر پاکر تو مشرف کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔ پھر اسی مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کیا گیا۔ اگر ملک کا جنرل ہی غدار ہو تو وفا دار کون ہو سکتا ہے؟ جی ڈی اے میں پیر پگارو کی جماعت پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور قومی عوامی تحریک کے علاوہ دیگر ایسی کوئی جماعت نہیں جس کا کسی حد تک بھی کوئی نیٹ ورک موجود ہو۔ ارباب غلام رحیم سندھ کے سابق وزیر اعلی ضرور رہے ہیں، لیکن آج تنہا ہیں، لیاقت علی جتوئی و زیر اعلی رہے، مشرف کے دور میں وزارت پانی و بجلی کے وفاقی وزیر رہے بعد میں نواز شریف کے ساتھ ہو گئے۔ اپنی ایک سیاسی جماعت بھی منظم نہیں کر سکے۔ غوث علی شاہ اس دور میں وزیر اعلی رہے جب جنرل ضیاء الحق کی حکمرانی تھی۔ انہیں خیر پور سے اٹھا کر صوبے کا مالک بنادیا گیا۔ پھر انہوں نے پیر پگارو کے مقابلے میں نواز شریف کو ترجیح دی اور طویل عرصے ساتھ رہے، لیکن ممنون حسین کے صدر پاکستان کی نامزدگی نے ا نہیں دل برداشتہ کر دیا اور انہوں نے نواز شریف سے قطع تعلق کر لیا۔ غوث علی شاہ بھی ایسی صلاحیتوں سے محروم ہیں جن کے نتیجے میں لوگ اپنا مقام خود بناتے ہیں۔ پیر پگارو خود غوث علی شاہ کابینہ میں وزیر آبپاشی رہے ۔ اگر وہ پیر پگارو نہیں ہوں تو ان میں بھی کئی کمزوریاں تھیں۔ وہ تنظیم سازی اور سیاسی جماعت سازی کے ہنر سے نا بلد ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی صدر الدین راشدی نواز شریف کابینہ میں وفاقی وزیر ہیں ۔ ان میں بھی جماعتی تنظیم کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ وفاق میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، صوبے میں حکومت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر وہ حروں کی جماعت فنکشنل میں نہ ہوں تو انہیں بھی کڑے وقت کا سامنا رہے گا۔ غلام مجتبے جتوئی بھی جی ڈی اے کا حصہ ہیں۔ اپنے والد کی بنائی گئی نیشنل پیپلز پارٹی کو نواز لیگ میں ضم کرنے کے بعد جتوئی وفاقی وزیر مقرر ہو گئے۔ انہیں بھی نواز شریف سے و ہی شکایات ہیں جو سندھ سے نواز لیگ میں شامل ہونے والے اکثر لوگوں کو ہیں۔ ممتاز بھٹو وزیر اعلی رہے، نگران وزیر اعلی رہے، وفاقی وزیررہے ،گورنر رہے، لیکن لاڑکانہ سے انتخاب میں کامیابی حاصل کرنا ان کی خواہش ہے۔ پیر پگارو ہوں یا دیگر سیاسی ر ہنماء، سب ہی واقف ہیں کہ کرپشن کے لئے حکومت میں ہونا ضروری ہے اور حکومت میں آنے کے لئے سیاست میں ہونا ضروری ہے ۔ جب آپ سیاست میں ہوں گے تو ہی تو انتخابات یا بغیر انتخابات حکومت کاحصہ بن سکیں گے۔ جی ڈی اے کا قیام ہو یا حکومت پر دباؤ ڈالنے کے دیگر ہتھکنڈے، سب کا مقصد پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ اور اس کے مخالفین کی حکومت میں شمولیت ہے۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوگا کہ کسی کو ہاتھ پکڑ کر نکال دیا جائے اور کِسی کا ہاتھ پکڑ کر اسے داخل کر دیا جائے۔ عام انتخابات 2018 ء میں ہونا ہیں جو بقول پیر پگارو نہیں ہوں گے۔ اگر 2018 ء کے انتخابات سے قبل کسی ماورائے آئین قدم کی صورت میں کچھ ہونا ہے تو وہ دوسری بات ہے ۔ ماضی میں بھی اس قسم کے قدموں سے اس ملک کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوسکا، البتہ افراد خوب پھلے پھولے ۔ اگر پیپلز پارٹی میں شامل لوگ گنگا نہائے ہوئے نہیں ہیں تو پیپلز پارٹی کے مخالفین بھی تو گنگا نہائے نہیں ہیں۔ افسوس ناک کہانیاں سب کی داستان حیات میں شامل ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ میں ایسے عناصر کا مسلسل سامنا رہتا ہے جو گزشتہ کئی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ عام انتخابات میں کامیابی یا ناکامی اپنی جگہ، لیکن کسی کو جلسہ کرنے یا جلوس نکالنے سے روکا تو نہیں جا سکتا ہے۔ گرینڈ ڈیموکریٹک آلائنس پیپلز پارٹی کے خلاف سندھ میں ان سیاسی جماعتوں یا عناصر کا بنایا گیا اتحاد ہے جو پیپلز پارٹی حکومت کو ایک نا اہل حکومت تصور کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے نااہل ہونے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔ صرف نا اہل ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ کئی لوگوں کی بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کی کہانیاں عام ہیں۔ بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی طرح سندھ میں تو اب تک کسی کے گھر سے لوٹی گئی سرکاری رقم بازیاب نہیں کی گئی ہے ،لیکن سندھ میں اس طرح کی کارروائی ڈالی بھی نہیں گئی ہے۔ بہتی گنگا میں سندھ کے سیاست دانوں اور سرکاری افسران نے بھی ہاتھ دھوئے تھے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تھا تو رینجرز کے پہلے ہی چھاپے کے فوری بعد محکمہ سندھ بلڈنگ کنٹرول کے سربراہ منظور کاکا ملک سے کیوں فرار ہو گئے؟ اور بھی کئی افسران ملک سے سرکاری اجازت حاصل کئے بغیر چلے گئے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ساتھ اکثر رہنماؤں نے اپنے نام کا ڈنکا خود اپنے ہاتھوں پیٹا ہے۔ کرپشن تو ایک چھوٹا سا لفظ لگتا ہے۔ لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کی ایسی وارداتیں کی گئی ہیں کہ ان کے طریقہ واردات پر عقل حیران رہ جاتی ہے۔ متعلقہ سرکاری افسران خاموشی اختیار کرتے رہے یا حصہ دار بنے رہے ۔ سرکاری رقومات میں ہیرا پھیری، لوٹ مار، کرپشن کی داستانیں اس ملک میں پرانی ہیں، اکثر سیاست دانوں اور فوجیوں کے نام ان داستانوں کا حصہ ہیں۔ ملک میں کبھی سنجیدگی کے ساتھ احتساب کا عمل شروع ہی نہیں کیا گیا۔ سارے کام یہاں برائے نام ہوتے ہیں۔

مزید :

کالم -