شریف فیملی کا پیسہ

شریف فیملی کا پیسہ
شریف فیملی کا پیسہ

  

شریف فیملی کے پاس میاں محمد شریف کا پیسہ ہے یا کرپشن کا ؟

یہ ہے وہ سوال جس پر اس وقت کی اپوزیشن اپنی سیاست چمکا رہی ہے اور پاکستانی قوم جواب کی منتظر ہے۔

شریف فیملی کو پرانا جاننے والے برملا اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ میاں محمد شریف نے کاروباری صلاحیتوں کے بل بوتے پر شروع دن سے پیسہ کمایا ہے ۔ NetSol Technologiesکے مالک سلیم غوری کے والد رحمت اللہ غوری بتاتے ہیں کہ پچاس کی دہائی کے اوائل میں وہ بہاولپور سے لاہور زمین سے پانی نکالنے والے موٹر پمپ خریدنے آئے تو میاں محمد شریف کی دکان پر آئے تھے جو اس وقت ایک کڑیل جوان تھے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ سرخ و سپید میاں شریف دھوتی کرتا پہنے ایک تخت پوش پر براجمان تھے اور ان کے برابر میں لوہے کی ایک تجوری پڑی تھی ، موٹر پمپ خرید لیا تو میاں شریف نے ہم سے پوچھاکہ آپ کہاں سے آئے ہیں ۔جب انہیں معلوم ہوا کہ ہم بہاولپور سے آئے ہیں تو کہنے لگے کہ دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیے گا۔ چنانچہ دکان کے پچھلے حصے میں زمینی دسترخوان پر ان کے ساتھ کھانا کھایاگیا۔ رحمت اللہ غوری کا کہنا ہے کہ اتنا لذیذ آلو گوشت انہوں نے آج تک نہیں کھایاجس کے بعد میٹھے میں انہیں تربوز بھی کھلایا گیا۔ بعد میں جب ساٹھ کی دہائی میں خود رحمت اللہ غوری ایک بہت بڑے بزنس مین کے طور پر باہر سے روڈ رولر امپورٹ کرکے پاکستانی مارکیٹ میں بیچنے لگے تو ان کا دوسرا تعارف میاں محمد شریف سے تب ہوا جب ان کی اتفاق فونڈری نے مقامی سطح پر روڈ رولر بنانا شروع کردیئے اور یوں پاکستان میں غیر ملکی روڈ رولرز کی امپورٹ بند ہوگئی ۔

اسی طرح آئی ڈی بی پی کے ایک سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ ستر کی دہائی میں جب اتفاق فونڈری کو قومیائی اثاثہ ڈکلیئر کردیا گیا تو دبئی کے حکمران نے انہیں دبئی میں سٹیل مل لگانے کا کہا جس کے لئے اس نے انہیں بینک سے پانچ ملین ڈالر کا قرضہ بھی لے کردیا تھا۔ میاں شریف کے ایک اور جاننے والے جو کہ نواز شریف کے دوست بھی ہیں اور لبرٹی میں ہوٹلنگ کا کاروبار کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ میاں شریف نے انہیں بتایا کہ جب دبئی میں ان کی سٹیل مل منافع کرنے لگی تو وہاں کی حکومت نے انہیں بجلی کا بل دوگنا بھیج دیا اور ایسے حالات پیدا کردیئے کہ میاں شریف کو دبئی کی مل بیچنا پڑی اور یوں وہ اسی کی دہائی میں پاکستان واپس آگئے۔جاوید عمر انٹرپرائز کراچی( جو 1982سے 1992تک میاں شریف کے کلیئرنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرتے رہے )میں موجود ذرائع بتاتے ہیں کہ جوناتھن جہاز کا قضیہ شروع ہونے سے پہلے تک میاں محمد شریف فرنسوں کی تعداد چھ سے بڑھا کر چودہ کر چکے تھے ۔ روز کے روز امریکہ اور دبئی سے جتنا سکریپ امپورٹ کیا جاتا ، اتنی ہی ڈیوٹی جمع کروادی جاتی تھی ، اکثر تو ڈیوٹی ایڈوانس جمع کروائی جاتی تھی ۔ ایک اور ہم بات یہ ہے کہ کسی بھی کام کو کل پر نہیں ٹالتے تھے بلکہ ایک طرح سے دوڑ لگا کر کام پورا کرتے تھے ۔ اس دوران شریف فیملی نے ڈیوٹی چوری کی نہ کبھی ڈاکومینٹیشن میں کمی رکھی۔1986سے نواز شریف کو کمپنی کی ڈائریکٹرشپ سے ہٹادیا گیا تھا ۔ اس کے بعد ہی وہ 1988میں وزیراعلیٰ پنجاب بنے تھے اورپیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر خالد کھرل نے جوناتھن جہاز کے جھگڑے کے دوران شریف فیملی کے اکاؤنٹس کی تفتیش کی لیکن انہیں کوئی فراڈ نہیں ملاتھا۔

اب اپوزیشن کی جماعتیں ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں کہ شریف فیملی نے کرپشن سے مال بناکر لندن میں فلیٹ خریدے۔ وہ اس طرف آ ہی نہیں رہی کہ شریف فیملی کے پاس میاں محمد شریف کا حق حلا ل سے کمایا ہوا پیسہ ہو سکتاہے۔ وہ کرپشن ثابت کرکے وزیر اعظم نواز شریف کی عوامی ساکھ متاثر کرنا چاہتی ہیں تاکہ 2018کے انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھاسکیں ،ان کے شوروغوغا کا مقصد ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہرگز نہیں ہے۔ اپوزیشن جماعتیں قانون کے سیاسی استعمال پر تلی ہوئی ہیں اور چیف جسٹس آف پاکستان سے توقع باندھے ہوئے ہیں کہ وہ ان کے اکسانے پر وزیر اعظم کو کٹہرے میں لا کھڑا کریں گے ۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عمران خان، جہانگیر ترین اور علیم خان سے لے کر چھ سو سے اوپر پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں جائز اور ایک صرف وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کی آف شور کمپنیاں ناجائزہوں۔ایک صرف وزیر اعظم نواز شریف ہی اتنے غبی کیسے ہو سکتے ہیں کہ اپنے ناجائز پیسے کو جائز نہ بناسکے جبکہ وہ تو جہانگیر ترین کے مقابلے میں بہت پہلے سے امیر ترین ہیں۔اسی لئے چیف جسٹس نے کہہ دیا ہے کہ وزیر اعظم کسی طریقے اور ضابطہ کار سے بتائیں ، ٹی او آر بنا کر لائیں ، تب ہم دیکھیں گے کہ وزیراعظم کو بتانے کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ گویا کہ عدالت کے لئے وہ اہم نہیں ہے جو اپوزیشن کے لئے ہے ، اسی لئے اپوزیشن کو چاروناچار ٹی او آر بنانا پڑرہے ہیں ۔ اپوزیشن کی پے درپے ہزیمت دیکھ کر آہستہ آہستہ عوام میں یہ نعرہ مقبول ہوجانا ہے کہ ٹی او آر تے بیڑے پار!

مزید :

کالم -