عمران خان کا سوات میں خطاب!

عمران خان کا سوات میں خطاب!
عمران خان کا سوات میں خطاب!

  

دو روز پہلے (اتوار 22مئی 2016ء) کو سوات میں تحریکِ انصاف کا جلسہ تھا۔ میرے ذہن میں سوات سے متعلق ایک موضوع ایسا تھا جس پرمیں کالم لکھنے کا ارادہ کر رہا تھا۔میرے خیال میں اس موضوع کے اثرات و نتائج بڑے دور رس تھے۔ اتفاقاً مجھے خیال آیا کہ دیکھتے ہیں آج عمران خان سوات میں اس موضوع پر بھی کوئی گفتگو کرتے ہیں یا نہیں جس کا تعلق نہ صرف پختونخوا سے تھا بلکہ سارے پاکستان اور پاکستانی قوم کے دفاع سے تھا۔ چنانچہ میں نے از اول تا آخر ان کی تقریر سنی جس میں کوئی نئی بات، کوئی نیا موضوع نہیں تھا۔۔۔ کرپشن، پانامہ اور حکومت کو کوسنے دینا۔۔۔ مجھے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی الٹ پلٹ ہونے والی ہے۔دنیا اتنی سکڑ چکی ہے کہ وزیراعظم کا بغرض علاج لندن جانا پاکستان کے کئی حلقوں میں ان کے اس مرض کا بندوبست سمجھا جا رہا ہے جو پانامہ کے ایک بین الاقوامی ادارے نے طشت ازبام کر دیا ہے۔ اگر کوئی سابق مسٹر ٹین پرسنٹ میاں صاحب کو اس بھنور سے نکلنے کا کوئی راستہ بتا سکتا تو 2013ء کے الیکشن میں ان کی اپنی پارٹی کو جو بری طرح شکست ہوئی کیا وہ سانحہ ان کے اپنے لئے سبق آموز نہیں ہو سکتا تھا؟ اگر کسی بھولے بھٹکے کو سیدھا راستہ پوچھنے کی ضرورت آن ہی پڑی ہے تو کوئی مشہور و معروف گم کردہ راہ، اس بھولے بھٹکے کو کوئی صراطِ مستقیم کیسے دکھلا سکتاہے؟ اگر میاں صاحب واقعی اپنے طبی علاج کے لئے لندن گئے ہیں تو ہم ان کی صحت یابی کے لئے دعاگو ہیں لیکن اگر ان کی وزٹ میں کسی سیاسی مرض کے لئے سابق صدرِ پاکستان سے کوئی مشاورت بھی شامل ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ آنے والا وقت میاں صاحب کے لئے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

عمران خان یکے بعد دیگرے اور ہر روز اگر پاکستان کے کسی نہ کسی شہر میں جلسہ کر رہے ہیں اور گرم ترین موسم کے باوجود عوام کے جم غفیر ان جلسوں میں آ رہے ہیں تو یہ مظہر (Phenominon) ملک کے سیاسی ماحول میں کسی سٹیٹس کو کے تسلسل کی نشاندہی نہیں بلکہ کسی بڑی ہلچل کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔لیکن پاکستان اب مزید کسی اندرونی طوفان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ دنوں میڈیا پر اس موضوع پر ایک طویل بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے کہ پاکستان آرمی کا منشا ہے کہ پاناما لیکس کے گرداب سے جلد از جلد نکلا جائے کہ اس میں تاخیر حکومت کی داخلی گڈ گورننس کے لئے سمِ قاتل بنتی جا رہی ہے۔ آرمی کا استدلال ہے کہ اربابِ اختیار کو یہ مسئلہ جلد حل کر لینا چاہیے تاکہ داخلی اور خارجی گورننس کے لئے Space نکل سکے۔ خارجی طور پر ملک جن مسائل میں گھر رہا ہے اس کو سیکیورٹی فورسز آخر کب تک سنبھالیں گی؟

ہمارے وزیر داخلہ پاکستان آرمی پر پہلے ہی برہم تھے کہ طورخم کا بند راستہ کھولنے کے لئے کسی افغان اہلکار کو آرمی چیف کے پاس جانے کی کیا ضرورت تھی۔ اب انگور اڈہ کا معاملہ بھی درپیش ہے۔ وزیرِ داخلہ نے وزیراعظم کو خط لکھ کر بتا دیا ہے کہ انگوراڈہ چیک پوسٹ کو افغانستان کے حوالے کرنے پر ان کے تحفظات ہیں۔ میڈیا پر یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ ان کے ذہن میں اس موضوع پر کئی سوالات ہیں جن پر وزیراعظم کے لندن سے واپس آنے پر ہی ان سے بات چیت ہو سکے گی۔ یہ موضوع کہ آیا یہ چیک پوسٹ افغانستان کے حوالے کی جائے یا نہ کی جائے ایک بڑا نازک اور اہم موضوع ہے۔ میرے خیال میں اس کا زیادہ تعلق امورِ داخلہ سے نہیں، امورِ دفاع سے ہے۔ اور امور دفاع کے وزیر اور پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کی جو ’’گرم جوشی‘‘ اور ’’ ہم آہنگی‘‘ ایک عرصے سے دیکھنے کو مل رہی ہے، اس سے ملک کا ہر طبقہ واقف ہے۔ وزیرستان کے آپریشن کے آغاز سے لے کر اس کے حالیہ اختتام تک پاکستان آرمی اور پاک فضائیہ نے جو قربانیاں دی ہیں ان کا علم کسے نہیں؟۔۔۔ لیکن گزشتہ دو برسوں کے دوران ہمارے وزیر داخلہ یا وزیر دفاع نے میرن شاہ، دتہ خیل، وادی ء شوال، وانا اور انگورا ڈہ وغیرہ کا کتنی بار دورہ کیا ہے، اپنی افواج کے شہدا سے کیسا پیمانِ وفا نبھایا ہے اور دن رات، دہشت گردوں سے نبردآزما ہونے والے ٹروپس کا کتنا حوصلہ بڑھایا ہے، اس کی خبر بھی کسے نہیں؟ اگر ان وزرائے داخلہ و خارجہ کا کام صرف اپنے آرام دہ ہیڈکوارٹروں میں بیٹھ کر پریس کانفرنسوں سے خطاب کرنا ہی کافی ہوتا تو اپنے فوجیوں کو شوال اور انگور اڈہ کے وحشیوں کے سپرد کرنے کی کیا تُک تھی؟

میں سوات میں پی ٹی آئی کے اتوار کے جلسے کی بات کررہا تھا۔۔۔ جب عمران خان نے 6بجے شام اپنی تقریر ختم کی تو حاضرینِ جلسہ کو کہا کہ اب کی بار اگر وزیراعظم نوازشریف مینگورہ (یا سوات کے کسی اور شہر) کا دورہ کریں تو ان سے تین سوال ضرور پوچھیں، جو یہ تھے:

1۔ کیا خیبرپختونخوا کو بجلی کا شیئر مل رہا ہے؟

2۔کیا خیبرپختونخوا کو گیس کا حصہ مل رہا ہے؟

3۔کیا خیبرپختونخوا کو پانی کا حصہ مل رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس اور پانی چونکہ وفاقی موضوعات ہیں اس لئے اگر پختونخوا بجلی، گیس اور پانی کا ایک بڑا حصہ جنریٹ کرتا ہے تو اس صوبے کو زیادہ حصہ ملنا چاہیے۔ ان سوالوں کے فوراً بعد خان صاحب ’’تھینک یو‘‘ کہہ کر رخصت ہو گئے اور میں سوچتا رہا کہ ان کی محدود سوچ کا دائرہ اتنا تنگ کیوں ہے۔ کیا ان کو نظر نہیں آتا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس خواہ کتنی بھی ’’عظیم اور مثالی‘‘ بن جائے (یا بنا دی جائے) وہ صوبے میں ایسا امن و امان نہیں لا سکتی جو آج سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے شدید درہم برہم اور ناپید تھا؟ کیا ان کو سوات آپریشن (جنرل کیانی کے دور والا) یاد نہیں؟ کیا ان کو صوفی محمد یاد نہیں؟ کیا صوفی کا داماد مولانا ایف۔ ایم یاد نہیں؟ کیا فضل اللہ اور موجودہ افغان حکومت کی ملی بھگت کا خان صاحب کو اندازہ نہیں؟۔۔۔ اگر ہے تو سوات کے عوام کا مطالبہ اپنے وزیراعظم کے آئندہ دورے میں کیا ہونا چاہیے؟ کیا وہ پانی، گیس اور بجلی کا رونا روتے رہیں گے؟۔۔۔ یہ رونا تو سارے پاکستان کا رونا ہے۔ کے پی کا اس میں کوئی اختصاص نہیں۔

میں نے کئی بار سوچا ہے کہ عمران خان اگر ملک کے آئندہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کی آرزو دل میں پال رہے ہیں تو ان کی سوچ میں صوبائیت کیوں ہے؟ کیا کے پی کی پولیس، تعلیم، صحت اور جنگلات وغیرہ ہی ایسے موضوعات رہ گئے ہیں، جن کی عظمت کا ڈھنڈورہ وہ آئے دن پیٹتے رہتے ہیں۔ ان کو چاہئے تھا کہ وہ صوبائی حصار سے نکل کر پورے پاکستان کی بات کرتے۔ سچی بات یہ ہے کہ موجودہ وزیر اعظم کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کا کوئی شعو رو ادراک تحریک انصاف کے رہنماؤں میں دیکھنے یا سننے کو نہیں ملتا۔ خان صاحب اقتدار میں آنے کے بعد نوازشریف کو جیل بھجوانے کا وعدہ تو ایک سے زیادہ مرتبہ کر چکے ہیں لیکن جن سٹرٹیجک مسائل و مشکلات کا سامنا آج پاکستان کو ہے ان کے حل کا وعدہ کون کرے گا؟ ان کا علاج کون بتائے گا؟ ان کا مداوا ڈھونڈنے کا روڈ میپ کون دے گا؟ کون ہوگا جو پاکستان کی اوورآل سلامتی، سیکیورٹی اور اس کے علاقائی و بین الاقوامی چیلنجوں کی بات کرے گا اور ان کا کوئی علاج بھی بتائے گا؟ پاکستان آرمی کا مطمحِ نظر نوازشریف کی تبدیلی نہیں، اچھی حکمرانی کی شروعات ہیں۔

خبر ہے کہ ملا اختر منصور امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔ افغان انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے افغانستان اور پاکستان سے اجازت لے کر یہ حملہ کیا ہے۔ افغانستان سے کوئی یہ پوچھے کہ اگر ملا منصور کی گاڑی کو دالبندین یا احمد وال یانوشکی کے پاکستانی علاقے میں نشانہ بنایا گیا تو اس کے لئے افغانستان سے اجازت کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر افغان سرحد کے کسی علاقے میں ملا منصور پر ڈرون حملہ کیا گیا تو پاکستان کو مطلع کرنے یا اس سے اجازت مانگنے کی کیا ضرورت تھی؟۔۔۔۔۔۔ اور کیا دالبندین یا احمد وال پاک افغان سرحد پر واقع ہے؟ وہ تو کوئٹہ، نوشکی، احمد وال، تفتان روڈ پر واقع ہے۔ تفتان، پاکستان۔ ایران سرحد پر پاکستان کا آخری شہر ہے۔ راقم الحروف کو متعدد بار ان علاقوں میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ان کا تعلق پاک افغان سرحد سے نہیں، پاک ایران سرحد سے ہے۔ چنانچہ اگر اشرف غنی یا عبداللہ عبداللہ یہ دعویٰ کریں کہ ملا منصور دالبندین میں ’’پاک افغان سرحد‘‘ پر مارے گئے تو اس تضاد بیانی کو کیا نام دیا جائے؟

ملا اختر منصور کا مارا جانا طالبان کے لئے ایک نیا سانحہ ہے لیکن ان کی موت کو طالبان کی شکست نہیں سمجھنا چاہئے۔ نہ ہی اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ چونکہ ملا منصور چار فریقی کانفرنس میں شرکت کے مخالف تھے اس لئے ان کے مارے جانے سے وہ مخالفت ختم ہو جائے گی۔ اگر طالبان، ملا منصور کی ہلاکت کے نتیجے میں متعدد گروپوں اور گروہوں میں بٹ جاتے ہیں تو اس کا نتیجہ نہ پاکستان کے حق میں ہوگا، نہ افغانستان کے، نہ امریکہ کے اور نہ ہی چین کے۔۔۔ مختلف طالبان گروہوں کے نمائندوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا بہ نسبت ایک طالبان گروہ کے، زیادہ مشکل ہوگا۔ چنانچہ مستقبل قریب میں اگر افغانستان میں طالبان کی سرگرمیاں تیز تر ہوتی ہیں تو یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہو گی۔ اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ پاکستان نے ملا منصور پر حملے کی پیشگی اجازت امریکہ کو دے دی تھی تو اس کے نتائج خود پاکستان کے لئے پریشان کن ہو سکتے ہیں۔ اور اگر ایران نے امریکی یا افغان حکومت کو ملا کی موجودگی کی اطلاع دی تو بھی اس سے بہتوں کا ’’برا‘‘ ہوگا! ۔۔۔ تازہ صورت حال یہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کل ہی ایران سے چاہ بہار کی ڈویلپ منٹ کا معاہدہ کر کے گئے ہیں۔۔۔ بھارت کا اثر و رسوخ اور بھارت۔ افغان ملی بھگت ایک عرصے سے چل رہی ہے۔ سندھ (کراچی) اور بلوچستان میں ’’را‘‘ کی سرگرمیاں کوئی ڈھکی چھپی باتیں نہیں ہیں۔ امریکہ کے دس ہزار سے زائد ٹروپس اب بھی کابل و قندھار میں موجود ہیں۔ بگرام اور شیندند ایئر بیسوں پر امریکن ایئر فورس کا کنٹرول ہے اور وہاں سے بلوچستان کے پاکستانی علاقوں تک ڈرون آپریشنوں کا یہ نیا سلسلہ وغیرہ پاکستان کے وہ خارجی اور علاقائی مسائل ہیں جن پر عمران خان کو بحث کرنی چاہئے اور اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔۔۔ اور جہاں تک سوات کے اس مسئلے کا ذکر ہے جو اس کالم کے آغاز کا باعث ہوا تھا تو وہ یہ تھا کہ سوات میں ایک مستقل چھاؤنی تعمیر کی جائے۔۔۔ اس موضوع پر انشاء اللہ آئندہ بحث کی جائے گی۔

مزید :

کالم -