جدید ٹیکنالوجی کا طریقہ تفتیش بھی تھانہ کلچر نہ بدل سکا ، جسمانی تشدد جاری

جدید ٹیکنالوجی کا طریقہ تفتیش بھی تھانہ کلچر نہ بدل سکا ، جسمانی تشدد جاری

  

 لاہور(رپورٹ :شعیب بھٹی ) پولیس میں اصلاحات کی باتیں تو بہت ہوتی ہیں۔ لیکن پولیس نے اپنے روایتی طور طریقے نہیں بدلے،زمانہ بدل گیا مگر پولیس کے تھانیداروں کے تیور نہ بدلے،پاکستان میں پولیس کی جانب سے ملزموں اور بے گناہ افراد پرتشدد کرناکوئی نئی بات نہیں ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بعض اوقات متاثرہ افراد تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے جان سے گزرجاتے ہیں۔ گذشتہ16 سالوں میں اعداد و شمار کے مطابق:جنوری 2000 تا مئی 2016 کے دوران پاکستان بھر سے پولیس تشدد کے کل14421 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اعداد و شمار کے سالانہ جائزے کے مطابق 2000 میں 231 ، 2001 میں555 ، 2002 میں996، 2003 میں 838، 2004 میں1260، 2005 میں1356، 2006 میں1662، 2007 میں1723، 2008 میں1105 , 2009 میں1011 واقعات ہوئے جبکہ ہر سال ان واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہاہے۔تفصیلات کے مطابق 26 جون 1987ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے زیر حراست ملزمان پر قبول جرم کے لیے بہیمانہ تشدد، انسانیت سوز اور توہین آمیز برتاؤ کے خلاف کنونشن کی منظوری دی تھی۔ جون 2010ء میں حکومت پاکستان نے بھی اس کنونشن کی توثیق کر دی تھی۔ مگر ملک میں تھانہ کلچر تبدیل نہ ہونے کی وجہ سے ہماری ریاست کا سیاسی، سماجی اور انتظامی ڈھانچہ پولیس تشددکی وجہ سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے پولیس تشدد کا شکار بیشتر لوگ ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دوران تفتیش زیرحراست افراد پرتھری ڈگری تشدد کے اس قدر ظالمانہ اور سفاکانہ طریقے اختیارکئے جاتے ہیں کہ جن کے ذکر سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جن میں"چھترمارنا" ,ڈانگ پھیرنا، چھت سے لٹکانے کے مختلف طریقے، رسہ پر چڑھانا، پنکھا چلانا، پاؤں اور سر کو رسی سے باندھ کر ایک کر دینا، شلوار میں چوہے چھوڑنا، ٹائر ڈالنا،گوبر لگانا، ٹانگیں رسی سے باندھ کر چوڑی کرنا، جسم کے نازک حصوں کو مختلف طریقوں سے ضرب دے کر تکلیف پہنچا نا،پان لگانا، سگریٹ سے داغنے کے علاوہ غلیظ گالیاں دینا مقدمہ میں ملوث افراد کے اہل خانہ کو گرفتار کر کے ان کی تذلیل و بے حرمتی کرنا، خواتین ملزموں کے ساتھ بد اخلاقی جیسے واقعات بھی رونماہوئے ہیں۔ پولیس تشدد کے واقعات میں پنجاب پولیس پہلے نمبر پر ہے جبکہ سندھ پولیس دوسرے نمبر پر ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں تحقیق اور جدید سائنسی طریقوں کے متعارف کیے جانے کے بعد یہ تصور ابھرا کہ کسی جرم کی تفتیش اور اقبالِ جرم کے لیے مشکوک فرد یا افراد پر تشدد کے علاوہ دیگرسائنسی طریقے جیسے پولی گرافک ٹیسٹ اور نفسیاتی طریقے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں جو خاصی حد تک کامیاب ہیں۔جبکہ پنجاب پولیس کے تربیتی اداروں میں پولیس افسروں اور اہلکاروں کو تفتیش کیلئے سائنسی بنیادوں پر تربیت دینے کی بجائے روایتی طریقوں سے تشدد اور بد تمیزی کا سبق دیا جاتاہے۔ مقدمہ کے اندارج کے بعد تفتیشی افسر جب ملزم کو گرفتار کر کے اس کا جسمانی ریمانڈلیتا ہے تو ہمارے ہاں جسمانی ریمانڈ کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ اب پولیس کو ملزم پر تشدد کرنے کا قانونی حق مل گیا ہے۔ حالانکہ پولیس کو کسی بھی زیر حراست ملزم پر تشدد اور خاص طور پر سرعام تشدد کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ مہارت سے جرم کا سراغ لگائے۔بااثر افراد کے قائم کیے ہوئے عقوبت خانے طاقت کے اظہار کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں، اس لیے حکمرانوں، سیاستدانوں اور مراعات یافتہ طبقے کی شہ پر پولیس نے بھی تھانوں میں عقوبت خانے قائم کیے ہوئے ہیں، جہاں مختلف تعزیرات کو بنیاد بنا کر ملزمان پر اقبال جرم کے لیے بدترین تشدد کیا جاتا ہے۔ اس تشدد کے نتیجے میں اندرونی چوٹوں کی تاب نہ لاتے ہوئے کئی ملزمان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔جبکہ یہاں بے گناہ شہریوں کو ہراساں کر کے ان سے رقم بٹوری جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نجی طور پر قائم کردہ پولیس کے عقوبت خانے اوپر سے نیچے تک پولیس افسران اور اہلکاروں کی ناجائز آمدنی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔پاکستان پینل کوڈ اور کرمنل پروسیجر کوڈ پولیس کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی بھی جرم کے شک میں گرفتار کیے گئے ملزم کو 24 گھنٹوں کے اندر فوجداری عدالت کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے اس سے تفتیش کے لیے ریمانڈ حاصل کرے، مگر بیشتر کیسوں میں ایسا نہیں کیا جا رہا۔ پولیس ایکٹ کی دفعہ156کے تحت تشدد کرنے والے پولیس ملازمین کو 3سال کی قید ہو سکتی ہے جبکہ تعزیرات پاکستان کے تحت پولیس تشدد، زخم لگانے یا حبس بے جا میں رکھنے کی سزا بھی موجود ہے اورکسی بھی زیر حراست یا گرفتار ملزم پر تشدد قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔ اورذمہ دار پولیس افسر یا اہلکار کو پانچ سال قید اور جرمانہ کی سزا دی جا سکتی ہے تا ہم تشدد کا جرم قابل راضی نامہ ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق جن خاص خاص شہروں میں پولیس تشدد کے سب سے زیادہ واقعات رونماہوئے ان میں ملتان سر فہرست رہا اس کے بعدلاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، کراچی، سکھر، خیرپور، نواب شاہ ، حیدرآباد اور گجرانوالہ شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ملک بھر میں پولیس تشدد کی ہر ماہ پانچ سو سے زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں۔چند رو ز قبل لا ہور پو لیس کی جا نب سے دو واقعات منظر عا م آئے ،ایس ایچ او لٹن روڈ مقصود گجر نے ہوٹل ملازم طیب کو پہلے خود تشدد کا نشانہ بنایابعد ازاں راہگیر سے بھی چھترول کرادی۔ ہوٹل مالک امتیاز کے مطابق پولیس اہلکاروں نے تین روز میں ہوٹل پر دو بار چھاپہ مارا۔ پہلے روز ملازم کو دھمکیاں دی اور چیکنگ کے بعد واپس چلے گئے جبکہ جمعرات کو ملازم پر تشدد کیا۔اس کا کہنا تھا کہ تشدد کا شکار ملازم طیب تاحال تھانے میں بند ہے۔دوسرا واقع۔ تھانہ شالیمار میں انویسٹی گیشن پولیس نے دو افراد کو برہنہ کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ شالیمار انویسٹی گیشن پولیس نے دو نوجوانوں فراز اور ڈویا کو نوسربازی کے الزام میں پکڑا۔ دونوں نے صحت جرم سے انکار کیا تو پولیس نے بدنام زمانہ روایتی طریقے اپنائے۔ برہنہ کر کے چھترول کی۔ پھر بھی وارداتیں قبول نہ کرا سکی تو تشدد کا انتہائی سخت طریقہ اپنایا۔ دونوں کو ’’منجی‘‘ لگا دی۔ ملزم کے ہاتھ پاؤں چارپائی کے ساتھ باندھ کر انہیں الٹا لٹکا دیاگیا ۔

مزید :

علاقائی -