کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے کنونشن کے رکن ایشیائی ملکوں کا 3 روزہ اجلاس ایران میں شروع

کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے کنونشن کے رکن ایشیائی ملکوں کا 3 روزہ اجلاس ...

  

تہران( اے این این ) کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے کنونشن کے رکن ایشیائی ملکوں کا تین روزہ اجلاس پیر کوایران کے دارالحکومت تہران میں شروع ہو گیا جس میں25 ملکوں کے 54 نمائندے شریک ہیں ۔ کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کا کنونشن انیس سال سے نافذالعمل ہے کنونشن میں دنیا کے ایک سو بانوے ممالک شامل ہیں ۔ کنونشن پر عمل درآمد کا قومی اور بین الاقوامی دو سطح پر جائزہ لیا جاتا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر اس کنونشن پر عمل درآمد یا خلاف ورزی کا جائزہ لینا کنونشن کے عہدیداروں اور انسپکٹروں کی ذمہ داری ہے جبکہ قومی سطح پر اس کام کے لئے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے قومی کنونشن بنائے گئے ہیں ۔ سب سے پہلے کیمیائی ہتھیار پہلی عالمی جنگ میں استعمال کئے گئے تھے۔ پہلی عالمی جنگ کے زمانے میں کیمیائی ہتھیاروں کا وسیع استعمال رائج تھا جس سے انسانی معاشروں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے وسیع تخریبی اثرات کے پیش نظر 1925 میں کیمیائی اسلحے کے استعمال کی روک تھام کے لئے جنیوا پروٹوکول تیار کیا گیا جس میں کیمیائی اسلحے کا استعمال غیر قانونی قرار دیا گیا ۔ پھر انیس سو انچاس میں جنیوا کنونشن کے انسان دوستانہ قواعد و ضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر کیمیائی اسلحے کے استعمال پر پابندی کی شقیں اس میں شامل کی گئیں۔

مزید :

علاقائی -