’’ جلسوں میں احمق جاتے ہیں ‘‘

’’ جلسوں میں احمق جاتے ہیں ‘‘
 ’’ جلسوں میں احمق جاتے ہیں ‘‘

  

میں نے گر می میں جلتے بھنتے شہروں کو دیکھا، ٹی وی پرسیاسی رہنماوں کو ایک کے بعد دوسرے شہر میں لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح اکٹھے کر کے تقریری مقابلے کرتے ہوئے سنا ، میں نے کہا، جلسوں میں احمق جاتے ہیں ، بھولے نے میرا فقرہ سنا تومجھ پر برس پڑا، کہنے لگا تم سیاسی کارکنوں اور سیاسی عمل کی توہین کر رہے ہو، تم بہت آئین، قانون اور جمہوریت کی باتیں کرتے ہو ، بتاو، کیا یہ جلسے آئین، قانون اور جمہوریت کے تقاضوں کے عین مطابق نہیں؟میں نے اس کی بات سے اتفاق کیا اوربھولے سے پوچھا، تمہارے سامنے ایک بارہ منزلہ عمارت ہے جس میں لفٹ بھی موجود ہے اور تمہیں ہر طرح کاحق حاصل ہے کہ تم اس کی آخری منزل تک جاو، تم بغیر ضرورت کے بار بارسیڑھیاں چڑھتے ہوئے بارہویں منزل پر جاؤ گے تو میں تمہیں احمق نہیں کہوں تو اورکیا کہوں گا۔میں نے بھولے سے پوچھا، کیا ایسا ہی آج کل پے در پے ہونے والے جلسوں بارے نہیں ہے۔ ہر گھر میں ٹی وی سیٹ بھی موجود ہے اوراخبارات بھی شائع ہوتے ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے شیرہ بھی لگا یا جا سکتا ہے اور زہر بھی تھوکا جا سکتا ہے۔ پھر ان جلسوں کی کیا ضرورت ہے۔ جدید ،مہذب معاشروں میں تو اب انتخابات کے دوران بھی اس قسم کے شہر شہرعوامی جلسے منعقد کرنے کا رواج کم ہوتا چلا جا رہا ہے ، ہمارے ہاں تو انتخابات کا دور، دور تک کوئی امکان بھی نہیں ، ایک طرف درجہ حرارت پینتالیس سے اکاون ڈگری سینٹی گریڈ تک رپورٹ ہو رہا ہے اور دوسری طرف سیاسی رہنما لوگوں کو جمع کر کے یکطرفہ بھاشن دئیے جا رہے ہیں۔

بھولے نے نکتہ نکالا، بھولا اب سوشل میڈیا پر بھی ایکٹو ہے اور نکتے خوب نکالتا ہے، بولا، سیاسی کارکنوں کو حق ہے کہ وہ اپنے لیڈر کی تقریر کو سنیں، اس سے گائیڈ لائن لیں ا ور دوسرے سوات میں کسی طور بھی درجہ حرارت اتنا زیادہ نہیں ہے۔ میں نے جواب دیا، بھولے، اگر سیاسی کارکنوں کو ہی گائیڈ لائنز دینی ہیں تو پھر ورکرز کنونشن منعقد کرلیں،جن سیاسی کارکنوں کواپنے لیڈروں کا چہرہ دیکھنے اور تقریر سننے کی خواہش ہے وہ وہاں پہنچ جائیں۔ یوں بھی سیاسی کارکنوں پر بھی یہ ظلم کوئی ضروری تو نہیں کہ لاہور کے سیاسی کارکن فیصل آباد، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے جلسوں میں شرکت کے بھی پابند بنائے جا رہے ہوں اور وفاقی حکومت اپنے اداروں اور صوبائی حکومت اپنے محکموں کے ملازمین کو دھکیل دھکیل کے جلسہ گاہ میں بھیج رہی یا مقامی رہنما عام لوگوں کو مجبور کرتے پھررہے ہوں۔ اب تو نواز شریف بھی بدل گئے ہیں، عمران خان کووہ طعنے بھی دے رہے ہیں جو انہوں نے انتخابی مہم میں بھی نہیں دئیے تھے، ایک طرف نواز شریف جگت لگاتے ہیں اور جواب میں دوسری جگت آجاتی ہے، اگر ہمارے رہنماوں نے جگت بازی ہی کرنی ہے تو وہ یہ کام ٹویٹ کر کے بھی کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے ہزاروں لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح جلسوں میں باندھنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے لیڈروں سے بہت سارے سوالوں کے جواب چاہئیں مگر جلسوں میں صرف سوال ہوتے ہیں، جواب نہیں دئیے جاتے۔ اگر یہ لیڈر واقعی سیاسی صورتحال کو واضح کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پلیٹ فارم کو استعمال کریں ، اخبارات اور ٹی وی ان کی تقاریر اور موقف عوام تک پہنچا دیں گے۔وہ اس سے مطمئن نہیں ہوتے تو پریس کانفرنسیں کر لیں، وہ بھی ناکافی ہیں تو پھر انٹلکچوئل لیول کی میٹنگز رکھ لیں تاکہ وہ وہاں سے سوالوں کے جواب مل سکیں۔ رہ گئی بات سوات کے درجہ حرارت کی، یقینی طور پر بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت باقی شہروں کا درجہ حرارت سوات سے مختلف ہے۔

جب ایک بڑا سیاسی رہنما پارلیمنٹ میں خطاب کرتا ہے تو اس کی آواز پوری قوم تک جاتی ہے ۔ اس کے لئے وہ صرف اپنے گھر یا دفتر سے پارلیمنٹ تک کا سفر طے کرتاہے مگر جب اس نے جلسے سے خطاب کرنا ہوتا ہے تو ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر استعمال کرتا ہے۔ ہم بار بار کہتے ہیں کہ ہم ایک غریب قوم ہیں مگر ہم وقت، وسائل اور توانائی غیر پیداواری امور پر ضائع کرتے ہیں۔ ایک جلسے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں بینرز اور ہورڈنگز بنتے ہیں، کرسیاں، سٹیج اورساؤنڈ سسٹم لگائے جاتے ہیں، میں مانتا ہوں کہ اس سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے مگر یہ تمام تر کاروباری سرگرمیاں دلہن کا وہ لہنگا بنانے جیسی ہوتی ہیں جو پچیس ہزار سے پچیس لاکھ تک میں تیار کروایا جاتا ہے اور پھر دلہن اسے رخصتی یا ولیمے کے ایک فنکشن پر پہننے کے بعدلپیٹ کے رکھ دیتی ہے۔ عمران خان صاحب نے اسلام آباد میں جلسہ کیا اوراس کے بعد لاہور کے جلسے کا اعلان کر دیا، لاہور میں جلسے کے دوران سب سے بڑا اعلان فیصل آباد کے جلسے کا تھا، فیصل آباد کا جلسہ مقررہ تاریخ پر نہ ہوسکا اور میاں نواز شریف نے انہیں ان کے ہی صوبے میں اپنے جلسوں کے ٹرک کے پیچھے لگا لیااور جب فیصل آباد کا جلسہ ہوا تو اس میں سب سے بڑی کامیابی راجا ریاض کی پی ٹی آئی میں شمولیت ٹھہری۔ مجھے یہاں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کو بھی یاد کرنے دیں، جلسوں میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی نے ہمارا سماجی اور اخلاقی چہرہ مزید بگاڑا ۔ نجانے ان بے چاری مظلوم خواتین کو لازمی شرکت کی کیا مجبوری ہے۔ بات ہو رہی ہے قومی وسائل کے ضیاع کی، کسی بھی ضلع میں کوئی سیاسی رہنما جلسہ رکھ لے تو اس علاقے کے لوگوں کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور وسائل بھی ، جلسہ حکومت کا ہو یا اپوزیشن کا، سرکاری انتطامیہ کی سب سے بڑی ذمہ داری اس کا امن و امان کے ساتھ انعقاد ہی رہ جاتی ہے۔ لاکھوں اور کروڑوں روپے ایک سیاسی رہنما کی اس تقریر کی خاطر لگا دئیے جاتے ہیں جو وہ ایک پریس کانفرنس کی صورت بھی کر سکتا ہے۔

میاں نواز شریف نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ہم سڑکیں بناتے رہیں گے اور وہ سڑکوں پر آتے رہیں گے۔ اچھا طنزیہ فقرہ تھا کسی پریس ٹاک میں بھی کہا جا سکتا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد الزام نہیں لگائیں گے بلکہ میاں صاحب کو براہ راست جیل بھیج دیں گے، بڑا اعلان تھا جو ایک ٹویٹ ، کانفرنس یا ریلیز کی صورت بھی ہو سکتا تھا۔بھولے نے مجھے ٹوکا، کہا، سب لوگ شوق سے نہیں جاتے، مجبوری سے بھی جاتے ہیں ،سرکاری ملازم ہی نہیں مولانا فضل الرحمان کے مکتبہ فکر کے مدرسوں کے تمام طالب علم ان کی ہدایت پر پہنچیں گے لہذا احمق کے ساتھ ساتھ مجبور کا لفظ بھی شامل کر لو، میں نے بھولے سے اتفاق کر لیا مگر سوچنے لگا کہ کیا ہمارے سیاسی رہنماؤں کو کوئی یہ بتانے والا نہیں کہ ان جلسوں اور جلوسوں کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے، سیاسی سرگرمیوں کی فراوانی ہونے سے لوگوں میں برداشت کی کمی ہوتی ہے اور یہ عوامل ہمارے معمول کے سیاسی، سماجی ، معاشرتی اور اخلاقی روئیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ جلسوں میں جانے والے اپنی دیہاڑیاں توڑتے ہیں، نوکریوں سے چھٹی لیتے ہیں، کاروباروں کو نظرانداز کرتے ہیں، خاندانی اور سماجی ذمہ داریوں اور مصروفیات کو پس پشت ڈالتے ہیں، ایسے اخراجات کرتے ہیں جن کا حاصل ، حصول کچھ بھی نہیں ہوتا سوائے یہ کہ ایک شخص جسے ہم سیاسی رہنما کہتے ہیں اس کی انا کی تسکین ہوتی ہے۔ سٹیج پر کچھ چالاک لوگوں کا قبضہ ہوتا ہے اور وہ اپنے لیڈر کو اشارے کر کے بتاتے ہیں کہ فلاں جگہ پر جن لوگوں کا ڈھیر ہے وہ انہوں نے جمع کر رکھا ہے۔ سیاسی رہنما ان کی طرف دیکھتا ہے، ان کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا دیتا ہے تو وہ لوگ خوشی سے پاگل ہوجاتے ہیں اور رہنما بھی خوشی سے پاگل ہوجاتا ہے کہ اس کا جلسہ کامیاب رہا۔ بھولا درست کہتا ہے بہت سارے لوگ تو زبردستی لائے جاتے ہیں اور انہیں سیاسی رہنما کی تقریر میں دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی موقف سے اتفاق ہوتا ہے۔

آپ بھولے کے دوست ہیں اور ایسے ہی کسی سیاسی جلسے میں جا رہے ہیں تو یقین کریں میں آپ کو ٹی وی کی سکرین یا انٹرنیٹ کی لائیوسٹریم کے ذریعے شدید گرمی میں اپنا وقت ، پیسہ اور توانائی ضائع کرتے ہوئے دیکھوں گا، آپ پر ہنستے ہوئے اپنے ٹھنڈے کمرے میں، اپنا کام کروں گا اور آپ کے لیڈر کی تقریر آپ سے بہتر انداز میں نہ صرف سنوں گا بلکہ اس کے بعد اپنے پسندیدہ ماہرین کے تجزیوں سے بھی مفت میں استفادہ کروں گا۔ آپ خواری کر کے واپس آئیں گے اور میں آپ کو ایسی نظر سے دیکھوں گا جس نظر سے کسی احمق کو دیکھا جاتا ہے۔

مزید :

کالم -