بجٹ میں معاشی ماہرین سمیت تاجروں کی تجاویز پر بھی غور کیا جائیگا ،ناصر سعید

بجٹ میں معاشی ماہرین سمیت تاجروں کی تجاویز پر بھی غور کیا جائیگا ،ناصر سعید
بجٹ میں معاشی ماہرین سمیت تاجروں کی تجاویز پر بھی غور کیا جائیگا ،ناصر سعید

  

لاہور ( اسد اقبال ) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے نائب صدر اور وزیر اعلی پنجاب کے مشیر ناصر سعید نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکو مت آئندہ مالی سال کے بجٹ برائے 2106-17 میں معاشی اصلاحات کا ایجنڈا مکمل کر لے گی جبکہ ملکی معاشی حالا ت کے پیش نظر عوام دو ست بجٹ پیش کیا جائے گا ۔جس کے لیے ماہرین معاشیا ت کی خد مات سمیت تاجروں و صنعتکاروں کی تجاویز پر بھی خصو صی غور کیا جائے گا ۔جس سے ملکی ترقی اور استحکام کے نئے دور کا آغاز ہو گااور قوی امکان ہے کہ عوامی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس دہندگان پر مذید ٹیکسز کا بو جھ ڈالنے سے اجتناب کر تے ہوئے ریلیف سے ہمکنار کر ے گی۔ان خیا لا ت کا اظہار انھو ں نے گزشتہ روز "پاکستان بجٹ تجا ویز" میں اظہار خیا ل کر تے ہو ئے کیا ۔ناصر سعید نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکو مت سے عوام کو بہت سی امید یں وابستہ ہیں ۔اور امید ہے کہ حکو مت معاشی اصلا حات اور ملک میں جاری توانائی و گیس بحران پر قابو پانے کے لیے تھنک ٹینک پا لیسی ترتیب دے گی۔انھو ں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے مطا لبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کرے تاکہ ٹیکس چوری اور پیداواری لاگت میں کمی واقع ہو سکے اور بجٹ کی تیاری سے قبل تاجروصنعتکار نمائندوں کی تجاویز کو بجٹ سازی کا حصہ بنائے اور نئے ٹیکس لگانے کی بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے اقدامات کرے کیونکہ نئے ٹیکس لگانے سے تاجر برادری پر دباؤ بڑھے گا اور معیشت سست روی کا شکار ہوگی جس کے نتائج ریونیو میں کمی کی صورت میں سامنے آئیں گے۔انھو ں نے کہا کہ فیڈرل بو رڈ آف ریو نیو کو چائیے کہ براہ راست ٹیکس کا نظام پروان چڑھانا چائیے اوربالواسطہ ٹیکسوں کے زریعے آمدنی بڑھانے کا کلچر ختم ہو جانا چائیے ۔انھو ں نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس پیئرزکے گرد گھیرا تنگ کرنے یاٹیکس کی شرح میں اضافہ کے بجائے آمدنی کے نئے زرائع ڈھونڈے۔انھوں نے مذید کہا کہ حکو مت ود ہو لڈنگ ٹیکس پر انحصار کم کر ے اور ڈیو ٹی کی شرح میں کمی کر ے تاکہ سمگلنک میں کمی واقع ہو سکے جبکہ ایف بی آر پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ایسا ٹیکس نظام متعارف کروائے جس سے ٹیکس نا دہندگان بخوشی ٹیکس پیئر بن سکے ۔

ناصر سعید

مزید :

صفحہ آخر -