کسان اتحاد کا پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا، ٹریفک بلاک، شہریوں سے جھڑپیں

کسان اتحاد کا پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا، ٹریفک بلاک، شہریوں سے جھڑپیں

  

لاہور ( این این آئی) پاکستان کسان اتحاد نے اپنے مطالبات کے حق میں پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیدیا ، کسانوں نے ٹائر جلا کر مال روڈ کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا اور احتجاجاً آلو اور ٹماٹر سڑک پر بکھیر دیئے ، مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی ، احتجاج کے باعث شہر کی اہم شاہراہ پر ایک بار پھر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا جس کے باعث ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ گئیں جس کے باعث شہریوں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی اور مظاہرین کی جانب سے متعدد شہریوں کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، حکمرانوں نے کسانوں کو دلاسوں کے سوا کچھ نہیں دیا ،حکومت کی پالیسی عوام کے مسائل حل کرنا ہوتا تو آج کسان سڑکوں پر رل نہ رہے ہوتے ،حکومت نہ جاگی تو انقلاب کسان ہی لیں کر آئیں گے ،عید کے بعد راشن ساتھ لانا حکمرانو ں کیساتھ جنگ ہو گی ‘ شاہ محمود قریشی ، شفقت محمود ، چوہدری محمد سرور ،راجہ ریاض اور شیخ رشید کا کسانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے احتجاج میں شرکت کے موقع پر خطاب ۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل کسان اتحاد محمد انور گروپ اور محکمہ صحت کے ملازمین نے مال روڈ پر دھرنے دیئے رکھے او ر ان کی واپسی کے کے چند روز بھی ہی پاکستان کسان اتحاد خالد گروپ کے نام سے کسانوں کا دوسرا دھڑا مال روڈ پر آگیا ۔ اس دھڑے کے بھی وہی مطالبات ہیں جو پہلے دھڑے کے تھے اور جنہیں پنجاب حکومت منظور کر چکی ہے ۔ مظاہرین نے پہلے فیصل چوک میں احتجاج کیا اور بعد میں مال روڈ پر ٹائر جلا کر دھرنا دیدیا اور ٹریفک کو نظام معطل کر دیا ۔ جس سے آنے جانے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کے جمع ہونے کے باعث پنجاب اسمبلی کے مال روڈ کی طرف سے مرکزی دروازے کو بیرئیر اور خار دار تاریں لگا کر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ۔ اراکین اسمبلی کو مال روڈ کی طرف سے راستہ بند ہونے کے باعث کوپر روڈ سے اسمبلی جانا پڑا۔ مال روڈ بند ہونے کے باعث شہریوں اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعات بھی پیش آئے۔جبکہ مظاہرین کی جانب سے متعدد شہریوں پر تشدد بھی کیا گیا ۔ کسان مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ گندم کا ریٹ مقرر کرنے کا اختیار دیا جائے ،کھادوں پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے، بجلی کے ٹیوب ویل کے لئے ٹیرف کم کیا جائے ۔ اجناس کی امدادی قیمتوں پر عملدرامد یقینی بنایا جائے ۔ بنجر زمینیں آباد کرنے والے کسانوں کو ترجیحی بنیادوں پر مالکانہ حقوق دئیے جائیں ۔ یہ بھی مطالبہ ہے مظاہرین کا اور زرعی پالیسی میں کسانوں کی مشاورت یقینی بنائی جائے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جائز مطالبات پورے ہونے تک احتجاج ختم نہیں کریں گے ۔

مزید :

صفحہ آخر -