کیا رمضان پیکیچ کے تحت وفاقی حکومت کی سبسڈی کا فائدہ غریب عوام کو منتقل ہو گا ؟

کیا رمضان پیکیچ کے تحت وفاقی حکومت کی سبسڈی کا فائدہ غریب عوام کو منتقل ہو گا ...

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 وفاقی حکومت نے رمضان پیکج کے تحت ایک ارب 75 کروڑ روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے سستی اشیا فراہم کی جائیں گی۔ اگر تو یہ سبسڈی صحیح معنوں میں ان عوام تک پہنچے جو اس کے مستحق ہیں اور اس کا فائدہ دکاندار اور دوسرے ایسے لوگ نہ اٹھا لے جائیں جو یوٹیلیٹی سٹوروں کے لئے اشیائے صرف کی خرید و فروخت پر مامور ہیں اور حیلوں، بہانوں سے اس سبسڈی کو عوام تک نہیں پہنچنے دیتے۔ مثلاً کبھی تو یہ شرط لگا دی جاتی ہے کہ چینی صرف اس خریدار کو ملے گی جو ایک مقررہ قیمت کی دوسری اشیا بھی یوٹیلیٹی سٹور سے خریدے گا۔ اب ایک کلو چینی پر پانچ سات روپے بچانے کے لئے کون تین چار سو کی دوسری اشیاء خریدے جو عام طور پر بازار کے نرخ پر ہی فروخت کی جاتی ہیں۔ یہ سال ہا سال کی پریکٹس ہے جو یوٹیلیٹی سٹورز پر جاری رہتی ہے۔ ہر رمضان المبارک میں یہی ہوتا ہے، لوگ روتے پیٹتے رہتے ہیں۔ ہفتہ دس دن تک احتجاج بھی ہوتا رہتا ہے، اخبارات میں شور مچتا ہے، مزید ایک ہفتہ یونہی گزر جاتا ہے اور لوگوں کا دھیان عید کی تیاریاں کرنے پر لگ جاتا ہے۔ یوں ڈیڑھ پونے دو ارب کی سبسڈی کی رقم سے غریبوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ یوٹیلیٹی سٹورز پر ایک اور بری پریکٹس برسوں سے جاری ہے، رمضان سے کوئی دو مہینے پہلے چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور پھر سبسڈی کے بعد ان قیمتوں پر اشیا فروخت کرکے عوام پر احسان کیا جاتا ہے جو دو ماہ پہلے تک پہلے ہی ان نرخوں پر بک رہی تھیں۔ یہ مسلمانوں کا نہیں، یہودیوں کا طریقہ ہے جو انہوں نے ’’یوم السبت‘‘ کو مچھلیاں پکڑنے کے لئے رائج کر دیا تھا۔

کوئی ڈیڑھ مہینہ پہلے یوٹیلیٹی سٹورز پر بعض اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا تھا، کیونکہ انتظامیہ کو معلوم تھا کہ حکومت سبسڈی دے گی، چنانچہ پہلے قیمتیں بڑھانے اور پھر کم کرنے کی دھوکہ دہی کی واردات کرنے کی اس بار بھی کوشش کی گئی لیکن وزیراعظم نے بروقت نوٹس لے کر یہ واردات ناکام بنا دی۔ اب بھی اگر عوام کو فائدہ پہنچانا مقصود ہے تو متعلقہ حکام کو اس بات کا دھیان رکھنا ہوگا کہ سبسڈی کا فائدہ عوام تک پہنچے، یوٹیلیٹی سٹور سرکاری ادارہ ہے لیکن حیرت کی بات ہے یہاں غیر معیاری اور ملاوٹی اشیا بھی فروخت ہوتی ہیں۔ غالباً اشیا سپلائی کرنے والے باقاعدہ پلاننگ کے تحت غیر معیاری اشیا یوٹیلیٹی سٹورز کو سپلائی کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے خریداری کرنے والے حکام کو بھی حصہ دینا ہوتا ہے، اس لئے وہ یہ نقصان غیر معیاری اشیا سپلائی کرکے پورا کرتے ہیں۔

مارکیٹ فورسز یعنی سپلائی اور ڈیمانڈ کا اصول ایسا ہے جس کے تحت قیمتوں کا تعین ہوتا ہے، مصنوعی طریقے سے اگر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ وقتی طور پر تو شاید کامیاب ہو جائے، مستقل طور پر کامیاب نہیں ہوتی، اس لئے اگر حکومت اپنی دی ہوئی سبسڈی کو ضائع نہیں کرنا چاہتی ہے تو یوٹیلیٹی سٹورز پر قیمتوں اور کوالٹی کو بھی چیک کرنا ضروری ہے، اگر چند روپے بچانے کے لئے سستی اور غیر معیاری چیز خریدنی ہے تو بہتر ہے بازار سے معیاری چیز مہنگے داموں خرید لی جائے، بیسن میں ملاوٹ رمضان میں معمول بن جاتی ہے، اس طرح اور بھی بہت سی اشیاء کی کوالٹی کی شکایت یوٹیلیٹی سٹورز پر بکنے والی اشیا کے متعلق رہتی ہے۔ اس کے مقابلے میں سی ایس ڈی پر ملنے والی اشیا مارکیٹ کے مقابلے میں 15 فیصد رعایت پر ہر موسم میں ملتی ہیں۔ رمضان میں بھی اگر قیمتیں مزید کم نہ ہوں تو بھی ان سٹورز پر جو پاک فوج کے ماتحت ہیں، ہمیشہ معیاری اشیاء ملتی ہیں، بہتر یہ ہے کہ آئندہ سبسڈائزڈ اشیا سی ایس ڈی کے ذریعے فروخت کی جائیں، جہاں اشیا میں ملاوٹ کی شکایت کبھی نہیں سنی گئی۔

جب سے بڑے شہروں میں سپر مارکیٹوں نے کاروبار شروع کیا ہے ویسے بھی مارکیٹ کے مقابلے میں ان سٹوروں پر اشیا کی قیمت نسبتاً کم ہوتی ہے، ایک سپر سٹور کا تو دعویٰ ہے کہ وہ 2200 ایسی اشیا فروخت کرتا ہے جن کی قیمتیں مارکیٹ سے دس فیصد کم ہیں۔ یہ بڑے سپر سٹور اگر قیمتیں سستی رکھ سکتے ہیں تو یوٹیلیٹی سٹوروں پر تو قیمتیں بہت کم ہونی چاہئیں جبکہ عملاً ایسا نہیں ہے، خریداروں کو لائنوں میں لگ کر خریداری کی ذلت اس کے علاوہ برداشت کرنا پڑتی ہے۔

وفاقی حکومت کے رمضان پیکج کے تحت 22 اشیا یوٹیلیٹی سٹوروں پر 4 روپے سے 50 روپے تک سستی فروخت ہوں گی۔ محدود آمدنی والے لوگ اگر یوٹیلیٹی سٹوروں سے صحیح معنوں میں استفادہ کرسکیں اور سبسڈی سے مستفید ہوسکیں تو یہ اچھی بات ہے۔

پنجاب کی حکومت ہر سال بڑے شہروں میں جو رمضان بازار لگاتی ہے، ان کی مینجمنٹ بہت بہتر ہوتی ہے۔ ان بازاروں میں صبح سے شام تک ضرورت کی تمام اشیا مقررہ نرخوں پر، جو مارکیٹ سے بہت کم ہوتے ہیں، میسر ہوتی ہیں۔ بعض دکاندار اگر وقت مقررہ سے پہلے اپنی دکان بند کرنے کی کوشش کریں تو انہیں ایسا کرنے سے سختی سے روک دیا جاتا ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ وقت مقررہ پر دکان بند کریں اور اس سے پہلے سودا بھی ختم نہ ہونے دیں۔ گزشتہ برس ایسی شکایات سامنے آنے پر انتظامیہ نے فوری طور پر دکانداروں کو اس کا پابند بنایا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب رمضان بازاروں میں سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں اور انتظامی افسروں کو سخت نگرانی کی ہدایت کرتے ہیں۔ تاہم یہ بازار بہرحال ایک محدود آبادی کی ضروریات کو ہی پورا کرسکتے ہیں، اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کوئی ایسا میکانیزم تیار کرے جس کے تحت سارا سال اشیائے صرف عوام کو مناسب نرخوں پر ملتی رہیں۔ تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باعث جو ریلیف عوام کو ملنا چاہئے تھا وہ انہیں نہیں مل سکا، اور بعض اشیاء کی قیمتیں تو بالکل کم نہیں ہوئیں اور جہاں کہیں ہوئی ہیں وہ بھی برائے نام۔ اس لئے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے وسیع تر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید :

تجزیہ -