پانامہ لیکس، تحقیقات، تاخیر کے اسباب پیدا کرنا درست عمل نہیں!

پانامہ لیکس، تحقیقات، تاخیر کے اسباب پیدا کرنا درست عمل نہیں!

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پاناما لیکس کا معاملہ کچھ کچھ سرد خانے میں چلا گیا۔ٹی او آر کمیٹی کے لئے حزب اختلاف کی طرف سے نام دے دیئے گئے سرکاری نام ابھی آنا ہیں۔ بقول سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق یہ نام آج (سوموار) آنا تھے جو اب تک ان کو مل جانا چاہئیں لیکن بوجوہ تاخیر نظر آ رہی ہے۔ وزیر اعظم محمد نوازشریف اطمینان سے طبی معائنہ کے لئے لندن پہنچ گئے ہیں۔ وہ پانچ دن قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یوں یہ پورا ہفتہ وہ دستیاب نہیں ہوں گے۔ جدید ترین مواصلاتی دور میں ان سے رابطہ نا ممکن نہیں لیکن تاخیر مقصود ہو تو یہ عذر بھی ہے کہ وزیر اعظم سے منظوری لینا ہے۔ اگرچہ سپیکر کو توقع ہے کہ بدھ کو بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہو جائے گا اسے دو ہفتوں کے اندرٹی او آر تیار کرنا ہیں جو متفقہ ہوں۔ یہ کوئی نا ممکن کام نہیں۔ نیت اور ارادہ ہو تو یہ سب دو دنوں میں بھی ممکن ہے کہ حزب اختلاف کے نکات موجود ہیں۔ حکومت اس سے بھی پہلے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط کے ساتھ ٹی او آر بھی بھیج چکی ہے اور اب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کل پاکستان وکلاء کنونشن نے جو نکات تیار کئے وہ بھی دستیاب ہیں یوں یہ سب مواد موجود ہو تو اس کو سامنے رکھ کر متفقہ نکات ہی تو تیار کرنا ہیں۔ یہ کوئی مشکل عمل تو نہیں۔ ارادہ بن جائے تو دو دن کی مسلسل نشستوں میں یہ سب ہو سکتا ہے اور وزیر اعظم کی آمد کے ساتھ ہی یہ پھر سے چیف جسٹس کو بھجوا کر کمشن کی درخواست کی جا سکتی ہے۔

یہ سب ہماری خوش فہمی ہے ورنہ اس سلسلے میں خود اپوزیشن نے گنجائش پیدا کر رکھی ہے جس کی طرف سے 1956ء کے قانون کو رد کیا گیا اور پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے نئی قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا۔ وکلاء کنونشن نے بھی نئی قانون سازی کے ذریعے کمشن کو زیادہ با اختیار بنانے کی تجویز دی ہے۔

اب سوال اپوزیشن اور حکومتی نقطہ نظر کا ہے۔ حزب اختلاف تحقیقات وزیر اعظم سے شروع کر کے اسے ایک محدود مدت میں مکمل کرنے کی حامی ہے۔ حکومت اسے طول دینے کی کوشش میں ہے اور قرضے معاف کرانے والوں کے محاسبے کا بھی ذکر ہے۔ یوں ایک پنڈورا بکس کھلنے کی بات ہے اپوزیشن کے پاس اس کا حل یہی ہے جو خود تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پیش کیا ہے کہ ان اور وزیر اعظم کا احتساب ایک ہی وقت میں شروع کیا جائے۔ انہوں نے تو آف شور کمپنی کے ساتھ شوکت خانم ہسپتال کے امور کو بھی تحقیقات کا حصہ بنانے کی پیش کش کر دی ہے۔ عمران خان کی یہ پیشکش پہلے سے موجود ہے ایسے میں وزیر اطلاعات کا یہ بیان کہ اگر عمران خود کو مسٹر کلین سمجھتے ہیں تو خود کو خم ٹھونک کر احتساب کے لئے پیش کریں، یہ پیشکش تو عمران کر چکے جو وزیر اعظم کے احتساب کے ساتھ مشروط ہے۔ اس حوالے سے خود قائد حزب اختلاف نرم لہجے میں بھی ٹھوس بات کرتے ہیں کہ جو نکات مرضی شامل کر لیں احتساب کا عمل وزیر اعظم سے شروع ہونا چاہئے کہ وہ برسر اقتدار اور سربراہ حکومت ہیں۔ پھر خورشید شاہ دھیمے انداز میں یہ بھی جتاتے ہیں کہ پارلیمینٹ میں بات نہ سنی جائے یا نہ بنے تو پھر سڑکوں پر آنا ہی پڑتا ہے۔ یہ عمران خان کی بھی تائید ہے جو کہتے ہیں کہ کوئی آئے نہ آئے وہ سڑکوں پر آئیں گے۔

پاکستان کے حوالے سے خطے اور دنیا میں بھی روز بروز حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں، بھارت کی طرف سے پاکستان کا ہر محاذ پر مقابلہ کرنے یا راستہ روکنے کا عمل بالکل ظاہر ہے۔ بھارت ایک طرف تو اقتصادی راہداری پر احتجاج کرتا ہے حتیٰ کہ چین تک سے تحفظات کا اظہار کیا گیا اور دوسری طرف اس سی پیک کے مقابلے میں اپنی راہداری ہموار کر رہے ہیں۔ نریندر مودی ایران میں ہیں۔ جہاں وہ ایران میں چاہ بہار کی بندر گاہ کو جدید ترین بندر گاہ بنانے کے لئے معاہدہ کر رہے ہیں، یہ بندر گاہ پاکستان کی گوادر بندر گاہ کے مقابلے میں بنے گی اور پھر براستہ ایران اسے سڑک کے ذریعے بھارت اور وسطی ایشیا سے ملایا جائے گا۔ یوں بھارت اس بندر گاہ سے مستفید ہو گا اور وسطی ایشیا کے ممالک یا ریاستوں سے تجارت بڑھائے گا اور اسے افغانستان کے لئے بھی پاکستان کی راہداری کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہم پاکستانیوں کو یہ سب دیکھنا اور زیر غور لانا ہوگا کہ بھارتی عزائم اپنی جگہ مسلمان ملک ایران بھی اس کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے جبکہ امریکہ کا رجحان بھی پاکستان کی نسبت بھارت کی طرف زیادہ ہے۔ افغانستان چاہ بہار کے مسئلہ پر ایران اور بھارت کے ساتھ شامل ہوچکا۔

یہ حالات خطے کی سیاست کا رخ تبدیل کرنے والے ہیں اور پاکستان دباؤ میں ہے ایسے میں ’’چین ہمارا یار ہے‘‘ اور پاکستان کی طرف مضبوطی سے کھڑا ہے کہ اب اس کے معاشی اور اقتصادی مفادات بھی خط پاک سے منسلک ہو گئے ہیں۔ یہ بہت نازک حالات ہیں۔ پاکستان کی تمام جماعتوں کو یہ سوچنا ہوگا۔ کہ اعتراض برائے اعتراض اور تنقید برائے تنقید کی جگہ عملی حل تلاش ہو۔ اس سلسلے میں برسر اقتدار جماعت کی ذمہ داری زیادہ ہے کہ وہ کچھ دینے یا کر گزرنے کی اہل ہے اور یہ تمام بیرونی ملکی مسائل بھی اسے ہی حل کرنا ہیں، یہ سب اسی طرح ممکن ہے کہ قومی اتفاق رائے ہو، اب سب کو پاناما لیکس سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ اگر اراکین کی تنخواہوں کے مسئلہ پر بیک آواز سو فیصد اتفاق ہو سکتا ہے تو قومی امور پر کیوں نہیں؟ ذات کو ایک طرف رکھیں ملک اور قوم کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ انتخابی اصلاحات لے آئیں۔ ان کو مزید بہتر بنا لیں اور احتساب کا بھی مستقل نظام اسی طرح مرتب کر کے اسے بھی منظور کر لیں، پھر قومی امور پر نکات طے کر لیں۔

جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو اس پر کئی قسم کے دباؤ ہیں، اندرونی طور پر نئی تنظیم سازی کا معاملہ ہے پھر مفاہمت اور مقابلے کی بات ہے۔ اگرچہ جماعت میں دراڑ والی بات نہیں لیکن نقطہ نظر کا اختلاف موجود ہے اور بعض امور پر بلاول تمام تر احترام کے باوجود اختلاف کر رہے ہیں، اور یہ ادا پسند بھی کی جا رہی ہے پیپلزپارٹی خود کو منظم کرے تو برسر اقتدار جماعت کو سب سے خوشگوار تعلقات بھی بنانا ہوں گے کہ وقت کا تقاضہ ہے۔

مزید :

تجزیہ -