پیمرا صرف فحش گانوں کے پیچھے پڑا ہے،پاکستان پر فاشزم نافذ نہ کریں :سپریم کورٹ

پیمرا صرف فحش گانوں کے پیچھے پڑا ہے،پاکستان پر فاشزم نافذ نہ کریں :سپریم کورٹ
پیمرا صرف فحش گانوں کے پیچھے پڑا ہے،پاکستان پر فاشزم نافذ نہ کریں :سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق پر عمل ہو تو سارے مسئلے حل ہو جائیں،پیمرا صرف ایڈوائس اور وارننگ ہی جاری کرتا ہے ایسی سزائیں دینے کی ضرورت ہے جو مثال بنے۔پیمرا صرف فحش گانوں کے پیچھے پڑا ہے،پاکستان پر فاشزم نافذ نہ کریں .

سپریم کورٹ میں ٹی وی پر قابل اعتراض مواد نشر ہونے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انورظہری جمالی کی سربراہی میں ہوئی ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ضابطہ اخلاق پر عمل ہو تو سارے مسئلے حل ہو جائیں،پیمرا صرف ایڈوائس اور وارننگ ہی جاری کرتا ہے ایسی سزائیں دینے کی ضرورت ہے جو مثال بنے۔

عدالت کے روبرو اپنا موقف پیش کرتے ہوئے پیمراکے وکیل نے کہا کہ کونسل آف کمپلین کی سفارش پر نجی چینل کو 10لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا لیکن جرمانے کے خلاف نجی چینل نے ہائی کورٹ سے حکم امتناع حاصل کرلیا۔انہوں نے کہا پیمرا کو قوانین مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسی سزائیں دینے کی ضرورت ہے جو مثال بن جائے۔انہوں نے کہا ایک پروگرام کر کے جسکی چاہیں پگڑی اچھال دیں اس کیلئے پیسے لیکر پروگرام کیے جاتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کیا فرقہ ورانہ تقسیم کو ہوا نہیں دی جاتی؟کیا ٹی وی پر شدت پسندی کے حق میں بات نہیں ہوتی؟۔

دوران سماعت اپنے ریمارکس میں جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ پیمرا صرف فحش گانوں کے پیچھے پڑا ہے،کیا ٹی وی پر نظام لپیٹنے کی بات نہیں ہوتی؟کیا ٹی وی پر علامہ اقبال اور قائد اعظم کے نظریات کے خلاف بات نہیں ہوتی؟

انہوںنے کہا پاکستان پر فاشزم نافذ نہ کریں ،کہنے والوں نے تو منٹو کو بھی فحش کہہ دیاتھا۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایسا کام نہیں کرنا کہ پاکستان کی معلومات بی بی سی سے لینا پڑیں،ہر چیز میں مداخلت ختم ہونی چاہئے ۔آمر کے دور میں نیوز کاسٹر دوپٹہ نہ لے تو اسے ہٹا دیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا معاملے کو ایسے نہیں چھوڑیں گے ،قانون پر عملدرآمد کرایا جائے گا۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -