’چابہار سے گوادر کی بندرگاہ متاثر ہو گی‘ بی بی سی

’چابہار سے گوادر کی بندرگاہ متاثر ہو گی‘ بی بی سی
’چابہار سے گوادر کی بندرگاہ متاثر ہو گی‘ بی بی سی

  

تہران (ویب ڈیسک) بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے ایران کے دوروزہ دورے کے پہلے دن دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں 12 معاہدے کیے ہیں جن میں خطے میں کیلئے سیاسی طور پر سب سے اہم چابہار کی بندرگاہ کی تعمیر کا منصوبہ ہے ۔ ایران اور بھارت کے درمیان تعلقات بلخصوص معیشت میں حالیہ برسوں میں زیادہ گرمجوشی نہیں پائی جاتی تھی اور اس کی خاص وجہ ایران پر امریکی پابندیوں کے دباﺅ کی وجہ سے یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری میںہونے والی کمی تھی۔ تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک ایسے وقت ایران کے دورے پر پہنچے ہیں جب ایران سے غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے ایک نیا ماحول بن چکا ہے اور اس منظر میں ایرانی تیل کا پرانا اور بڑا خریدار بھارت داخل ہو ا ہے۔ ایران بھارت کے تعلقات کو دونوں کے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے سیاق و سباق کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ پاکستان کا روایتی حریف بھارت امریکہ کے قریب ہو رہا ہے جبکہ ایران کے امریکہ کے ساتھ براہ راست تعلقات نہیں ہیں اور اس کی پاکستان کے ساتھ سرحد ملتی ہے اور اس سے اچھے تعلقات ہیں۔ اس تناظر میں افغانستان اور چین کے ایران اور بھارت سے تعلقات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چابہار کی بندرگاہ پاکستان کی گوادر کی بندرگاہ سے تقریباً سو میل مغرب میں واقع ہے اور یہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کیلئے سمندروں کے زریعے تجارت کرنے کا متبادل راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ بحیرہ اومان کے دھانے پر موجود چابہار بندرگاہ پاکستان میں چین کے تعاون سے تیار کی جانے والے گوادر بندرگاہ سے زیادہ دور نہیں ہے ۔ بھارت کو امید ہے کہ چابہار کی صورت میں اسے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل ہو جائے گا۔ بھارت کے وزیر ٹرانسپورٹ نے اسے شمال جنوب کی رہداری کہتے ہوئے کہا کہ اس راستے سے بھارت کو روس اور اس کے ساتھ یورپ تک رسائی حاصل ہو جائے گی ۔ افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کئی وجوہات کی بنا پر مسائل سے دو چار ہیں اور اس کے پاکستان کے ساحلی شہر کراچی اور یہاں تک کہ گوادر سے ٹرانزٹ روٹ کے مقابلے میں چابہار کا راستہ زیادہ محفوظ اور سستا ثابت ہو گا۔ چابہار بندرگاہ کی تعمیر سے پاکستانی بندرگاہ گوادر پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران کو بھی اس وقت بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور بھارتی سرمایہ کاری اور تعاون کا بے حد فائدہ ہو گا جس سے جوان افراد کیلئے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو گئے۔ معاشی فوائد سے ہٹ کر وزیراعظم مودی کے اس دورے کے سیاسی اثرات بھی ہوں گے ۔

مزید :

بین الاقوامی -