ہوٹل بدکاری کے اڈے بن گئے،کمسن طالبات کی عزتیں تار تار، فحش فلمیں بنا کر بلیک میل کیے جانے کا انکشاف

ہوٹل بدکاری کے اڈے بن گئے،کمسن طالبات کی عزتیں تار تار، فحش فلمیں بنا کر بلیک ...
ہوٹل بدکاری کے اڈے بن گئے،کمسن طالبات کی عزتیں تار تار، فحش فلمیں بنا کر بلیک میل کیے جانے کا انکشاف

  

لاہور (ویب ڈیسک) راوی کینال ویو، راوی پارک ویو اور پیراڈائز ان فحاشی، بدکاری اور ظلم کے اڈوں میں تبدیل ہوکر جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہوں میں تبدیل ہوگئے ہیں ، سکولوں کی کم سن طالبات کو ورغلا کر لائے جانے کے بعد عزتیں تار تار کی جاتی ہیں اور پھر عریاں فلمیں بنا کر شریف گھرانوں کی لڑکیوں کو بلیک میل کرکے قحبہ خانوں کی زینت بننے پر مجبور کیا جانے لگا ۔ بااثر سیاسی شخصیات اور مقامی پولیس عزتوں کے سوداگروں کی پشت پناہی کرنے لگی جس پر نین سکھ، دوساکو چوک اور 25نمبر سٹاپ پر واقع ہوٹل مالکان کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب صوبائی وزیر قانون، آئی جی پنجاب، آر پی او، سی سی پی او اور ڈی پی او سے فوری نوٹس لے کر جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور ہوٹلوں کے نام پر فحاشی اور جرائم کے اڈوں کو بند کروانے کا مطالبہ کیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق نین سکدھ، دوساکو چوک اور 25نمبر سٹاپ پر قائم ہوٹل فحشی اور بدکاری کے اڈوں میں تبدیل ہوچکے ہیں، لاہور روڈ شیخوپورہ بھر کے دلالوں، جرائم پیشہ عناصر اور قحبہ گری کی سرپرستی کرنے والے عناصر نے ان ہوٹلوں میں ڈیرے ڈالے رکھے ہیں، یہاں پر نہ صرف پیشہ ور لڑکیوں اور خواتین کو لاکر بدکاری کروائی جاتی ہے بلکہ جرائم پیشہ افراد موبائل فون ودیگر ذرائع سے سکولوں کی معصوم طالبات جن کی عمریں 10 سے 12برس سے زیادہ ن ہیں ہے انہیں ورغلا کر ہوٹلوں میں لے آتے ہیں جہاں ان کے ساتھ جبری زیادتی کی جاتی ہے اور ان کی عریاں فلمیں بنا کر بعدازاں ان کو بلیک م یل کیا جاتا ہے۔

روزنامہ خبریں کے مطابق قحبہ خانون کی زینت بننے پر مجبور کیا جاتا ہے، ہوٹل مالکان اس مکروہ اور گھناﺅنے عمل کیلئے جرائم پیشہ عناصر کو کمرے اور ضروری سہولیات فراہم کرتے ہیں اور اس عمل کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں، ان ہوٹل مالکان کو سیاسی شخصیت اور پولیس کی بھرپور پشت پناہی حاصل ہے، ہوٹل مالکان پولیس کو باقاعدہ حصہ اور منتھلی پہنچاتے ہیں۔

مزید :

لاہور -