آئندہ بجٹ خشک دودھ، دالیں، مشروبات، سیمنٹ، موبائل فونز مہنگے ہونے کا امکان

آئندہ بجٹ خشک دودھ، دالیں، مشروبات، سیمنٹ، موبائل فونز مہنگے ہونے کا امکان
آئندہ بجٹ خشک دودھ، دالیں، مشروبات، سیمنٹ، موبائل فونز مہنگے ہونے کا امکان

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں عام استعمال کی مختلف اشیاءپر ٹیکسوں میں ردوبدل کی تجویز سے خشک دودھ، لوبیا دال اور درآمد کی جانے والی پولٹری مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ مچھلی، زرعی سامان اور سولر آلات سستے ہونے کی امید ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بجٹ میں عام استعمال کی مختلف اشیاءپر ٹیکس میں ردوبدل کی تجویز کے بعد خشک دودھ کی درآمدی ڈیوٹی پچاس فیصد جبکہ لوبیا پر پانچ فیصد کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس عائد کئے جانے کا امکان ہے۔ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پولٹری مصنوعات کی برآمد پر 15 فیصد ڈیوٹی عائد جبکہ چوزوں اور ہیچنگ انڈوں کی درآمدی ڈیوٹی 10 فیصد تک کرنے کی تجویز پر غور کررہی ہے جبکہ مچھلی اور جھینگے کی افزائش اور خوراک پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ بجٹ میں پانی کے معیار جانچنے کے میٹرز اور پانی صاف کرنے کے شمسی توانائی کے آلات اور خام مال، زرعی مشینری اور آلات کی درآمد پر ڈیوٹی بھی ختم کئے جانے کا امکان ہے۔ سٹیشنری پر ٹیکس عائد کرنے کے علاوہ سیمنٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھا کر 10فیصد کئے جانے کا امکان ہے۔ اخبار خبریں کے مطابق ایک ہزار سگریٹ پر 2ہزار سے اڑھائی ہزار روپے ٹیکس عائد کئے جانے کا امکان ہے۔ سیمنٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ موبائل فونز سیٹوں پر عائد ٹیکس کی شرح میں 200 روپے سے لے کر ایک ہزار روپے فی سیٹ کے حساب سے اضافہ کرنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ منرل واٹر اور ڈسپوزل کولڈرنکس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دستاویز کے مطابق منرل واٹر لگژری آئٹم کے طور پر آتی ہے اور اسے امیر لوگ استعمال کرتے ہیں۔ ملک میں سینکڑوں کمپنیاں کام کررہی ہیں لیکن ٹیکس نہیں دے رہے۔ اخبار کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بیورجز انڈسٹری پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح ساڑھے دس فیصد سے بڑھا کر 14 فیصد کرنے کی تجویز ہے جس سے 12 ارب روپے کے اضافی ٹیکس حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ بیوجز انڈسٹری پر ڈیوٹیز میں اضافے سے ملٹی نیشنل مشروبات مہنگی ہوجائیں گی۔ پاکستان میں اس وقت 300 سے زائد فوڈ اور مشروب ساز کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ حکومت نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس ٹارگٹ پورا نہ ہونے پر آئی ایم ایف کے حکم پر 350 اشیاءپر 40 اربر وپے کے ٹیکس لگائے تھے تاکہ رواں مالی سال کے 3104 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کو حاصل کیا جاسکے بیشتر اشیاءپر لگنے والے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی فوڈ اور مشروب سے متعلقہ تھی۔

مزید :

بزنس -