وزیر اعلیٰ پی پی پی ڈی سی ایل اور پی ای ڈی فراڈ سکینڈل سے آگاہ، تحقیقات کیلئے شہبازشریف نے ذاتی طور پر کوشش کی: حکومت پنجاب

وزیر اعلیٰ پی پی پی ڈی سی ایل اور پی ای ڈی فراڈ سکینڈل سے آگاہ، تحقیقات کیلئے ...
وزیر اعلیٰ پی پی پی ڈی سی ایل اور پی ای ڈی فراڈ سکینڈل سے آگاہ، تحقیقات کیلئے شہبازشریف نے ذاتی طور پر کوشش کی: حکومت پنجاب

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف پی پی پی ڈی سی ایل اور پی ای ڈی فراڈ سکینڈل سے آگاہ ہیں ۔ذمہ داروں کے خلاف تحیققات کیلئے اور اندراج مقدمہ کیلئے انہوں ذاتی طور پر بھی کوشش کی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے 22مئی 2016کو مقامی اخبارمیں چھپنے والی ایک خبرکا حوالہ دیتے ہوئے(جس میں وزیر اعلیٰ کے داماد پر کرپشن کے الزام لگائے گئے) کچھ حقائق پیش کیئے گئے ہیں جن کے مطابق پی پی ڈی سی ایل کے اکاونٹس کے آڈٹ کے دوران پنجاب  پاور ڈویلپمنٹ کمپنی میں بڑے پیمانے پر ہونے والے فراڈسےمحکمہ توانائی  آگاہ ہے۔

پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کو چیئرمین پی پی ڈی سی ایل چوہدری عارف سعید کی جانب سے اس فراڈ سے آگاہ کیا گیا جس پر انہوں نے فوری طور پر لوٹی ہوئی تمام دولت واپس لانے کی ہدایت کرتے ہوئے ہر ممکن اقدام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے اندراج مقدمہ اور تفتیش کے آغاز کیلئے ذاتی طور پر کوششیں کیں۔اسی طرح اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے پنجاب انرجی ڈیپارٹمنٹ (پی ای ڈی)میں بھی ایک ہی دن میں ایف آئی آر نمبر 14/16کا اندراج کیا۔

تحقیقات کے دوران اینٹی کرپشن کو معلوم ہوا کہ بوگس چیکوں کے ذریعے 240ملین کی خطیر رقم چرائی گئی ہے جو کہ ایم ایس کا سمک کنسلٹنٹس کے اکاونٹ آف کنسلٹنگ سروس کوڈیپازٹ کی گئی ہے جس سے کبھی بھی پی پی ڈ ی سی ایل نے لین دین نہیں کیا۔

اینٹی کرپشن کو معلوم ہوا کہ یہ بوگس چیک اس وقت کے سی ایف او اور گریڈ 20کے ملازم اکرام نوید کی جانب سے جمع کرائے گئے۔اینٹی کرپشن نے ملزم کو گرفتار کر کے اس سے تحقیقا ت کا آغاز کردیا ہے۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن کی جانب سے جامع اور ماہرانہ تفتیش کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ ملزم نے 19مختلف قسم کی جائیدادیں خریدیں جو کہ ان کے اہل خانہ جن میں ان کی اہلیہ ثمینہ اکرام اوردوبیٹے فرجاد اکرام اوراحسان اکرا م شامل ہیں کے نام پر ہیں۔

بیان کے مطابق اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ بیرونی آڈیٹرز اس لئے اکرام نوید کو گرفتار نہیں کر سکے کیونکہ انہیں جعلی دستاویزات پر ٹرخا دیا گیا تھابہر حال اینٹی کرپشن بیرونی آڈیٹرز کے کردار کے حوالے سے بھی تحقیقات کررہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ نہ صرف مکمل طور پر آگاہ ہیں بلکہ انہوں نے اس سکینڈل کو سامنے لانے اور ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے والوں کی کوششوں کو بھی سراہا ہے ۔وزیراعلیٰ نے موجود ہ سی ایف او بلا ل بٹ کو اس سکینڈل کو منظر عام پر لانے پر شیلڈ بھی پیش کی تھی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی پی ڈی سی ایل میں ہونے والے اس فراڈ کے علاوہ بھی اکرام نیازی پی ایچ اے اور دیگر محکموں میں بھی بدعنوانی کے مرتکب ہوئے۔

مزید :

لاہور -