پی اے سی اجلاس، نوشہرو فیروز میں سکولوں کی تعمیرات اور بھرتیوں کے بے ضابطگیوں کا انکشاف، ایمپلائز بنیوولنٹ فنڈز سے غیر قانونی سرمایہ کاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

پی اے سی اجلاس، نوشہرو فیروز میں سکولوں کی تعمیرات اور بھرتیوں کے بے ...
پی اے سی اجلاس، نوشہرو فیروز میں سکولوں کی تعمیرات اور بھرتیوں کے بے ضابطگیوں کا انکشاف، ایمپلائز بنیوولنٹ فنڈز سے غیر قانونی سرمایہ کاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے نوشہرو فیروز میں سکولوں کی تعمیرات میں لاکھوں روپے کی بے ضابطگیوں اور خلاف ضابطہ بھرتیوں کے انکشاف پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیب سے ایک دن میں معاملے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے آڈٹ پیراز پر بھی غور کیا گیا اور غیر قانونی سرمایہ کاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی گئی۔

پاکستانیوں کے لئے بچت کا شاندار موقع، ایسی ویب سائٹ آگئی کہ آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہے گی‎‎

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق چیئرمین پبلک اکائونٹس سید خورشید شاہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 2014-2012 کے آڈٹ پیراز پر غور کیا گیا۔ آڈٹ حکام نے اجلاس کے شرکاءکو بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 2013-2014 کے دوران ایمپلائزبنیوولنٹ فنڈز سے 2ارب76 کروڑ روپے کی غیرقانونی سرمایہ کاری کی جبکہ حکومتی قوانین ایسی سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دیتے۔

اس پر چیئرمین پی اے سی سید خورشید شاہ نے کہا کہ اس ملک میں اتنا بڑا ظلم ہے کہ بیواؤں ، یتیموں کے پیسے پر شاہ خرچیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا گیا کہ فرا ڈ ہوا ہے، کیا ہمیں بے وقوف سمجھتے ہو یا ہم فارغ لوگ ہیں، اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ایم ڈی بنیوولینٹ فنڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ ابتدائی انکوائری کر کے کیس نیب کو بھجوا دیا ہے جس پر خورشید شاہ نے نیب حکام سے اس معاملے سے متعلق ایک دن میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

خبردار!رنگ گورا کرنے والی کوئی بھی کریم استعمال کرنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران نوشہروفیروز میں سکولوں میں خلاف ضابطہ بھرتیوں اور سکولوں کی تعمیرات میں لاکھوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف بھی ہوا جبکہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے مالی حسابات کا ریکارڈ درست نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔ ڈپٹی کمشنر نوشہرو فیروز نے کمیٹی کو بتایا کہ گریڈ 2 سے لے کر 9 تک کے65 ملازم خلاف ضابطہ بھرتی کئے گئے اور اس بات کا علم ہونے پر ان کی تنخواہیں روک دی گئی تھیں۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے مالی حسابات کا ریکارڈ درست نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 15 دن میں درست ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -