سعودی عرب نے 40,000بنگلہ دیشی ملازمین کو ڈی پورٹ کردیاکیونکہ ۔ ۔ ۔

سعودی عرب نے 40,000بنگلہ دیشی ملازمین کو ڈی پورٹ کردیاکیونکہ ۔ ۔ ۔
سعودی عرب نے 40,000بنگلہ دیشی ملازمین کو ڈی پورٹ کردیاکیونکہ ۔ ۔ ۔

  

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں نئے قواعدوضوابط کے اطلاق کے بعد سے نصف بنگلہ دیشی گھریلوخادماﺅں کو کام سے انکار سمیت مختلف وجوہات کی بناءپر وطن واپس بھیج دیاگیاجن کی تعداد تقریباً40ہزار ہے ۔

عرب نیوز کے مطابق ریکروٹمنٹ آفس کے پروپرائیٹر حسین الہرتی نے بتایاکہ چالیس ہزار گھریلوملازمین کو ڈی پورٹ کردیاگیاہے جن کی وجوہات میں کام سے انکار ، بنگلہ دیش میں تربیت کی کمی ، عربی زبان سے ناواقفیت اور سعودی کلچر اپنانے میں مشکلات شامل ہیں ۔ دوسری طرف کئی ریکروٹمنٹ دفاتر کے مالکان نے بتایاکہ صارفین کوکام کاج اور ملازمہ کارویہ دیکھنے کیلئے تین ماہ کا وقت دیا جاتاہے ،اگر وہ مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی تو کفیل دفتر کو آگاہ کرتاہے تو ملازمہ کونااہلی کی وجوہات اور سفارتخانے کی طرف سے ملنے والے نوٹس سمیت واپس بھیج دیاجاتاہے ، ریکروٹمنٹ آفس ملازمہ کو سفارتخانے کے حوالے کرتاہے جہاں سے اسے واپس بھیج دیاجاتاہے ۔

ریکروٹمنٹ دفتر کے مالک علی العمری نے بتایاکہ نئے ریکروٹمنٹ پراسیس کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک بنگلہ دیشی شہریوں کو ڈیڑھ لاکھ ویزے جاری کیے گئے ہیں ۔بنگلہ دیش کے قونصلیٹ جنرل کے ذرائع کے حوالے سے بتایاگیاکہ حکومت کام پر بھجوانے سے قبل گھریلوملازمین کی تعلیم و تربیت کیلئے پرعزم ہے ، موجودہ سنٹرز کا واحد مقصد مالی فوائد حاصل کرناہے ۔

مزید :

عرب دنیا -