عرب دنیا سے باہر وہ علاقہ جہاں رہنے والی لڑکیوں کو داعش میں شمولیت کا دنیا میں سب سے زیادہ شوق ہے، ایسا کیوں ہے؟ آپ بھی جانئے

عرب دنیا سے باہر وہ علاقہ جہاں رہنے والی لڑکیوں کو داعش میں شمولیت کا دنیا ...
عرب دنیا سے باہر وہ علاقہ جہاں رہنے والی لڑکیوں کو داعش میں شمولیت کا دنیا میں سب سے زیادہ شوق ہے، ایسا کیوں ہے؟ آپ بھی جانئے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)اپنے بچوں کو لے کر شام جانے کی کوشش کرنے والی برطانوی خاتون کو عدالت نے اڑھائی سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق 34سالہ لورنا مورے چاہتی تھی کہ اس کے بچے شام میں داعش کے زیرانتظام علاقوں میں پروان چڑھیں، لہٰذا وہ اپنے ان تین بچوں کو لے کر شام جانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی کہ اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بچوں کی عمریں انتہائی کم تھیں، سب سے چھوٹا بیٹا صرف 11ماہ کا تھا۔

لورنا مورے ویسٹ مڈلینڈز کے علاقے وال شیل کی رہائشی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس علاقے کی لڑکیوں میں داعش میں شامل ہونے کا اس قدر شوق پایا جاتا ہے کہ جن دنوں لورنا شام جانے کی تیاری کر رہی تھی انہی دنوں اس علاقے کی کئی حاملہ خواتین بھی شام پہنچنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں تاکہ اپنے بچوں کو وہاں جنم دے سکیں۔

داعش نے 25 لوگوں کو ایسے طریقے سے موت کے گھاٹ اتاردیا کہ گوشت باقی رہا نہ ہی جسم کی کوئی ہڈی، تفصیلات جان کر ہی انسان کانپ اٹھے

لورنا کے ساتھ اس کا 34سالہ شوہر ساجد اسلم بھی شام جانے والا تھا۔اسے بھی لورنا کے ساتھ ہی گرفتار کیا گیا اور اب 10سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔اولڈ بیلے عدالت کے جج چارلس وائیڈ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ”لورنا اس سارے معاملے کا مضبوط ترین کردار ہے۔ یہ پوری طرح جانتی تھی کہ اس کا شوہر دہشت گردوں کی طرف مائل ہے۔“ جج نے لورنا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”تم میں ایک بہت بری بات یہ ہے کہ تم جھوٹ بہت زیادہ بولتی ہو۔ تم نے ٹرائل کے دوران عدالت کے سامنے جھوٹ پر جھوٹ بولا اور تم نے اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے جو شواہد پیش کیے ان میں سے کچھ انتہائی احمقانہ تھے۔ اسی مقدمے میں ایک اور شخص ایلیکس نیش (Alex Nash) کو بھی 5سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس نے بھی اسلم کے ساتھ فرار ہو کر شام جانے کی کوشش کی تھی۔ جج کا کہنا تھا کہ ”شوکت نے دہشت گردی کا ارتکاب کیا اور عیش کرنے جا رہا تھا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -