حکومت نے تاخیری حربے نہ چھوڑے تو اورنج ٹرین کے پورے منصوبے پر عمل روک دیں گے،ہائی کورٹ

حکومت نے تاخیری حربے نہ چھوڑے تو اورنج ٹرین کے پورے منصوبے پر عمل روک دیں ...
حکومت نے تاخیری حربے نہ چھوڑے تو اورنج ٹرین کے پورے منصوبے پر عمل روک دیں گے،ہائی کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے میٹرو اورنج ٹرین لائن کی تعمیر کے دوران حفاظتی انتظامات اور حادثات کی تفصیلات طلب کرلیں۔عدالت نے اورنج ٹرین لائن منصوبے کا پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ ہونے کی بابت بھی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔درخواست گزار وکیل اظہر صدیق نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اورنج ٹرین منصوبے کا سی پیک کا حصہ ہونے سے متعلق حکومت نے متضاد بیانات دیئے ہیں،اگر یہ منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے تو میٹرواورنج لائن ٹرین باقی شہروں اور صوبوں میں کیوں نہیں ہے یہ عوام کا استحصا ل ہے،اس پرمسٹر جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دئیے کہ یہ سی پیک کا حصہ ہے یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،عدالت کیس کا میرٹ پر فیصلہ کرے گی، عدالت نے اورنج ٹرین منصوبے اور سی پیک کے باہمی تعلق کی تفصیلات کی طلبی کے حو الے سے دائراس درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ دوسری متفرق درخواست میں عدالت کو بتایاگیا کہ میٹرو اورنج لائن ٹرین کی تعمیر کے دوران 28افراد کی اموات ہوچکی ہیں جان و مال کا کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا عوام بیمار ہورہے ہیں،درخواست گزار وکیل نے کہا کہ میرے دفتر کے باہر راستہ 6ماہ سے بند کیاہواہے،کبھی پانی چھوڑ دیتے ہیں اور کبھی مٹی پھینک جاتے ہیں، دباﺅ ڈالاہواہے، دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ کیس سے پیچھے ہٹ جاﺅ سپیشل کمیٹی کے ممبر اعجاز احمد کو پولیس کے ساتھ ملکر تنگ کیا جارہاہے گزشتہ تاریخ سماعت پر عدالت نے سکیورٹی فراہم کرنے کا کہا تھا مگر اس پر عملدرآمد نہ ہواہے سپیشل برانچ کے پولیس افسر اعجاز احمد پر دباﺅ ڈال رہے ہیں،جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ ابھی تک ان کوقانونی تحفظ کیوں نہیں فراہم کیاگیا،کیاعدالتی حکم پر عمل درآمد کے لئے آئی جی کو بلانا پڑے گا۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کومزید بتایا کہ میٹرو اورنج لائن ٹرین پر کام کرنے والے 5 مزدور دیوار گرنے سے جاں بحق ہوگئے،حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر اہے،اس موقع پر سابق صدر ہائی کورٹ بارپیرمسعود چشتی عدالت میں پیش ہوئے،انہوں نے کہا کہ 5نہیں 7 افراد میٹر و ٹرین کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اس پراجیکٹ پر کام روک دیاجائے،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیمار ہیں کیس کی سماعت ملتوی کردی جائے،مسٹر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ اگر کیس کو اسی طرح لٹکایاجا ئے گا تو عدالت پورے پراجیکٹ پر حکم امتناعی جاری کرسکتی ہے،عدالت نے ان ریمارکس کے ساتھ کیس کی مزید سماعت 30مئی تک ملتوی کردی

مزید :

لاہور -