سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس،اعلیٰ حکام نے خود کو بچانے کے لئے پولیس اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنا دیا،ملزم کانسٹیبل بابر

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس،اعلیٰ حکام نے خود کو بچانے کے لئے پولیس اہلکاروں کو ...
سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس،اعلیٰ حکام نے خود کو بچانے کے لئے پولیس اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنا دیا،ملزم کانسٹیبل بابر

  

لاہور(نامہ نگار)سانحہ ماڈل ٹاو ن کے خلاف پاکستان عوامی تحریک کے استغاثہ کی باقاعدہ سماعت،پولیس کی جانب سے سانحہ سے متعلق بنائے گئے دو مقدمات میں کارروائی روک دی گئی ہے جس سے زیر حراست پولیس اہلکار پریشان ہو گئے، انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج چودھری محمد اعظم نے پولیس کی جانب سے درج سانحہ ماڈل ٹاو ن کے دومقدمات کی سماعت بلا کارروائی 30مئی جبکہ پاکستان عوامی تحریک کے استغاثہ میں کارروائی 27مئی تک موخر کردی ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے استغاثہ دائر ہونے کے بعد اب پولیس کی جانب سے بنائے گئے دو مقدمات میں کوئی کارروائی نہیں ہوتی،انسپکٹر عامرسلیم سمیت دیگر گرفتار پولیس اہلکار ہر تاریخ پر بغیر کارروائی واپس جیل چلے جاتے ہیں۔اس حوالہ سے گرفتار پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اعلیٰ پولیس اہلکاروں نے ان کو قربانی کا بکرا بناکراپنی نوکری اور جان بچا لی ہے۔ ملزم کانسٹیبل بابر کا کہنا تھا کہ وہ ہر تاریخ پر جیل سے پیش ہوتے ہیں مگر ان کے مقدمہ میں کارروائی نہیں ہوتی۔بابرنے کہا کہ اس کو انصاف کی امید نہیں کیونکہ پراسیکیوشن اور حکومت نے ان کو نظر انداز کر دیا ہے۔ملزم کانسٹیبل بابر نے بتایا کہ سانحہ ماڈل ٹاون میں کارکنوں کی ہلاکتیں 17جون 2014ئکو صبح 10بجے ہوئیں جبکہ وہ اس وقت گھر پر سو رہا تھا اور اس کی ڈیوٹی صبح 6 بجے ختم ہو گئی تھی۔ اس نے الزام لگایا کہ ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر عارف مشتاق نے مبینہ طور پرسانحہ سے قبل کی ٹی وی فوٹیج کی وجہ سے اس کو بھی ملزم بنا دیا جبکہ اس نے کسی کو قتل نہیں کیا۔بابر نے کہا کہ اعلی پولیس حکام نے خود کو بچانے کے لئے معصوم چھوٹے اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا تاہم اپیل کی کہ حکومت بے گناہ اہلکاروں کی رہائی کے لئے اقدامات کرے

مزید :

لاہور -