متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں نے ہزاروں غیرملکیوں کو نوکری سے نکال دیا

متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں نے ہزاروں غیرملکیوں کو نوکری سے نکال دیا
متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں نے ہزاروں غیرملکیوں کو نوکری سے نکال دیا

  

ابوظہبی (صباح نیوز ) عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے ابوظہبی کی سرکاری کمپنیوں میں ہزاروں ملازمتوں کو ختم کر دیا گیا ہے ۔ متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب ، قطر و دیگر ممالک کی کمپنیوں نے اپنے اخراجات میں کمی شروع کر دی ہے اور ملازمتوں میں کٹوتی اس بات کی علامت ہے کہ تیل کی قیمتوں کی کمی کی وجہ سے خلیجی ریاستیں معاشی دبا کا شکار ہیں۔ تیل کی دولت سے مالا مال ممالک نے خطے میں تعمیراتی کاموں میں بڑھتے ہوئے اخراجات کو روکنے اور بجٹ کے خسارے کو محدود کرنے کیلئے توانائی کے شعبے میں دی جانے والی سبسڈی کو کم کر دیا ہے جس کے باعث سرکاری سطح پر بھی مختلف اداروں نے اپنے ملازمین کی تعداد میں کمی کرنا شروع کر دی ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق ابوظہبی کی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی ) جس کے ملازمین کی تعداد 55 ہزار ہے نے گزشتہ کچھ ماہ سیکڑوں ملازمتوں کو ختم کیا جب کہ 2016 کے اختتام تک مزید 5 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا جائے گا۔ اے ڈی این او سی کے ترجمان نے ملازمین کی کمی کے بارے میں تصدیق یا تردی نہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ گیس انڈسٹری اور تیل کی قیمتوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہماری کمپنی نے ہمیشہ زیادہ نفع بخش اور مﺅثر ادارہ بننے کی کوشش کی ہے ۔ ابوظہبی اور متحدہ عرب امارات کی کچھ کمپنیاں ملازمین کی تعداد میں کمی کرنے کے بارے میں یقین نہیں رکھتیں۔ البتہ حکومت تیل کی قیمتوں کی کمی کی وجہ سے ملازمین کی تعداد میں کمی کرنے کے بارے یقین نہیں رکھتیں ۔ البتہ حکومت تیل کی قیمتوں کی کمی کی وجہ سے ملازمین کی تعداد کو کم کرنے کے حق میں ہے۔ گزشتہ سال ابوظہبی نے دیگر خلیجی ریاستوں کی تقلید کرتے ہوئے مقامی سطح پر ایندھن اور بجلی کی سبسڈی میں کمی کی تھی اور اب اسی منصوبے کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ قطر کے سرکاری اداروں قطر پٹرولیم اور قطر ریلوے نے بھی ملازمتوں میں کمی کی ہے ۔ خلیجی ریاستوں میں ان اقدامات کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر تاحال اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ابوظہبی میں مقامی ملازمین کے مقابلے میں غیر ملکیوں اور تارکین وطن ملازمین کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑ رہے ہیں ۔

دوسری جانب ملازمین کو فارغ کرنے کی وجہ سے خطے میں معاشی سرگرمیوں میں نمایاں کمی کے ساتھ بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم تیل پر انحصار نہ ہونے کی وجہ سے دبئی میں معاشی سرگرمیاں بڑ ھ رہی ہیں۔ ابوظہبی میں مختلف صنعتی ادارے جیسا کہ ابوظہبی نیشنل انرجی کمپنی نے 2014 ءسے ہی ورک فورس کو کم کرنا شروع کر دیا تھا۔ اب وہاں تیل اور گیس کی پیداوار کے شعبوں 55 فیصد ملازمتوں میں کمی کی ہے ۔ اس سے قبل اتحاد ریل نیا پنے سٹاف میں 30 فیصد ملازمین کو فارغ کیا تھا ۔ ابوظہبی میں نیشنل پٹرولیم کنسٹرکشن کمپنی کے چیئرمین محمد ال رو میھتی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ کچھ کمپنیوں میں تارکین وطن کو ملازمت سے فارغ کر کے مقامی لوگوں کیلئے ملازمت کے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں۔

مزید :

عرب دنیا -