نئی حکومت اور اقتصادی چیلنج

نئی حکومت اور اقتصادی چیلنج

چند روز پہلے یونائیٹڈ بزنس گروپ کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تنظیمی سرگرمیوں کے علاوہ چیمبرز، ایسوسی ایشنز اور وفاقی چیمبر آف کامرس کی سرگرمیوں کو مربوط کرنے اور معاشی مسائل حل کروانے کے علاوہ آنے والے دنوں کے چیلنجز پر بھی غور و فکر کیا گیا۔ یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا: ’’مجموعی طور پر پاکستان کی معیشت مستحکم ہوتی جا رہی ہے، تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنز نے بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے،لیکن معاشی حالات دنیا میں بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ شمالی کوریا کے امریکہ کے ساتھ بہتر ہوتے ہوئے تعلقات نے دنیا کو سکون کا سانس لینے کا موقع دیا ہے۔ در اصل دنیا کی معیشت اس طرح سے ایک دوسرے کے ساتھ بندھی ہوئی ہے کہ اگر ایک گرہ بھی ٹوٹ جائے تو اثرات بہت دور تک محسوس کئے جاتے ہیں۔ اب امریکہ نے ایران کے ساتھ اپنا نیو کلیئر معاہدہ ختم کیا ہے، لیکن یورپی یونین نے اپنی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لئے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔ حال ہی میں ’’یورو نیوز‘‘نے اس بارے میں خصوصی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتا دیا تھا کہ یورپی یونین نے اس لئے ایران سے تعلقات ختم نہیں کئے کہ بہت سی یورپی کمپنیوں کے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات ہیں۔ خصوصاً اس فیصلے سے سمال اور میڈیم لیول کی کمپنیوں نے بہت زیادہ متاثر ہونا تھا۔ پاکستان جس قسم کے بین الاقوامی تنازعات کی دنیا میں ترقی کا سفر طے رہاہے اس میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ماضی سے زیادہ ہے۔

موجودہ حکومت کے چند روز باقی رہ گئے ہیں۔ خوشی کی بات ہے کہ اس حکومت نے پانچ سال میں معاشی استحکام کی طرف خصوصی توجہ دی ہے۔ ایک طرف گیس اور بجلی کا بحران ختم کیا تو دوسری طرف چین کے تعاون سے سی پیک منصوبے کی بدولت پورے ملک میں انفراسٹرکچر مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر دیا، خصوصاً گوادر کی بندر گاہ پاکستان کی معیشت میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ اب اس کا اگلا مرحلہ شروع ہونے جا رہا ہے جس میں عالمی سرمایہ کاری، خصوصاً چینی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے مشترکہ منصوبے شروع ہونے جا رہے ہیں۔ سی پیک کس طرح سے گیم چینجر ہے، اس کا اندازہ آپ کو متحدہ عرب امارات کی نئی ویزا پالیسی سے بھی ہو گیا ہوگا۔ متحدہ عرب امارات نے نئے قوانین کے مطابق سو فیصد سرمایہ کاری کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا ہے۔ پہلے بزنس مین یا ٹیکنیکل ویزا تین سال کے لئے دیا جاتا تھا، اب اس کی مدت بڑھا کر دس سال کر دی گئی ہے۔ سرمایہ کاری کی حد 49 فیصد تک محدود تھی، لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے ،اب اسے بھی سو فیصد کر دیا گیا ہے۔ نئی آنے والی حکومت کے بارے میں یقین کامل ہے کہ وہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کو چھیڑنے کے بجائے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ بزنس کمیونٹی تو بار بار اس تجویز کو پیش کر چکی ہے کہ سیاست کو معیشت سے الگ رکھا جائے، اس مقصد کے لئے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو ایک ٹیبل پر بیٹھ کر پاکستان کی معیشت کے چارٹر پر دستخط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی حکومت کسی کی بھی ہو ، معاشی پالیسیاں تسلسل سے جاری رہیں۔

گزشتہ چار سالوں میں پاکستان کی معیشت نے ہر شعبے میں ترقی کی ہے۔ فی کس آمدنی بھی تیرہ سو ڈالر سے بڑھ کر سولہ سو ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔ زرعی اجناس کی شرح پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ گارڈ رائس ریسرچ سینٹر نے ’’ہائی برڈ‘‘ بیج تیار کر کے چاولوں کی فی ایکڑ پیداوار میں زبردست اضافہ کر دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت پیداوار دوگنا کی جائے دنیا بھر میں زرعی اجناس کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لئے پاکستان اس طرف خصوصی توجہ دے۔ حکومت نے پاکستان میں زیتون کی پیداوار میں زبردست اضافہ کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ زیتون ویلی کے منصوبے سے پاکستان کو کروڑوں ڈالر کا اضافی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ اس وقت اگر دیکھا جائے تو خوردنی تیل کی امپورٹ کا بل بہت زیادہ ہے۔ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، ہماری معیشت کا دارو مدار زراعت پر ہے، ستر فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے، لیکن خوردنی تیل کے بیج پاکستان میں کاشت نہیں کئے جاتے، جبکہ بہت آسانی کے ساتھ پاکستان خوردنی تیل پر خرچ ہونے والا زر مبادلہ بچا سکتا ہے۔ اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کا بل بھی بہت زیادہ ہے، اگر موٹر سائیکلوں کو جدید ٹیکنالوجی کے مطابق بنایا جائے تو پاکستانی موٹر سائیکلیں بھی انڈین موٹر سائیکلوں کی طرح ایک لٹر میں ستر کی جگہ ایک سو اٹھائیس کلومیٹر سفر کر سکتی ہیں، جس سے پٹرول کی درآمد میں کروڑوں ڈالر کی بچت ممکن ہے۔یونائیٹڈ بزنس گروپ کی کور کمیٹی نے پاکستان کی معیشت پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور آنے والی حکومت کو درپیش چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے پوری راہنمائی کرے گی۔ موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ مثبت رکھی ہے، دنیا بھر کے اقتصادی ادارے پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کی تعریف کر رہے ہیں، اس لئے آنے والی حکومت کو چاہئے کہ وہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر باہمی مشاورت سے پاکستان کی معیشت کو دنیا کی پچیس ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...