یکساں نصابِ تعلیم

یکساں نصابِ تعلیم

تحریک انصاف کی ڈاکٹر نوشین حامد نے تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم نظام رائج کرنے کے مطالبے کی قرار داد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی ہے۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا نصاب یکساں نہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ اور والدین متاثر ہورہے ہیں، متعدد اصلاحات کے باوجود سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر نہیں ہوا، جس کا فائدہ نجی اور غیر ملکی ادارے بھاری فیسیں وصول کرکے اٹھا رہے ہیں۔ یہ بات خوش آئند بلکہ باعثِ مسرت ہے کہ آخر کار کسی نے تو اِس بات کو محسوس کیا، جس کے بارے میں تمام عوام اور تمام ماہرین تعلیم متفق ہیں، یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ’’یکساں نصاب تعلیم‘‘ سے مراد، صرف طبقاتی نظام تعلیم نہیں۔۔۔ یعنی انگلش میڈیم، اُردو میڈیم، گرامر سکول، اولیول، اے لیول وغیرہ۔ یہاں پر ’’یکساں نصاب تعلیم‘‘ سے مراد وہ تمام بچے جن کی عمر پانچ برس سے سولہ برس تک ہے، ان کی دینی اور دینوی تعلیم( یعنی دینی اور عصری تعلیم) کی ذمہ داری ریاست کی ہے، کیونکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25-A کے تحت حق ایجوکیشن ریاست مہیا کرے گی۔ فری تعلیم بچوں کو جن کی عمر پانچ سال سے سولہ سال کے درمیان ہو، جو قانون وضع کرے گی۔

آئین پاکستان آرٹیکل 2۔ اسلام ریاست کا مذہب ہوگا۔ اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا، اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام کو مملکت کے سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل ہوگی اور اِس کے لئے کوئی بھی قانون قرآن، سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ تمام قوانین اسلام کے سانچے میں ڈھالے جائیں گے، جو اسلامی قوانین سے متصادم ہوں گے، تاکہ صحیح معنوں میں اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دیا جاسکے، شریعت کورٹ، اسلامی نظریاتی کونسل کو خصوصی طور پر یہ کام سونپا گیا ہے کہ وہ تمام قوانین کا جائزہ لے اور اگر کوئی قانون ان کی نظر میں اسلام کی تعلیمات سے مطابقت نہ رکھتا ہو تو اس کی تنسیخ کے لئے سفارش کی جائے، تاکہ پارلیمنٹ اس کی تنسیخ کے لئے قانون وضع کرے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ اس آرٹیکل کے الفاظ ’’کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا‘‘۔ کی بجائے اِس آرٹیکل کے الفاظ کی ترمیم یوں کی جائے، ’’ کہ ہر ایک قانون قرآن و سنت کے مطابق بنایا جائے گا‘‘اس سے قانون سازی میں وقت کی بچت ہوگی۔ یہ قانون جو پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا ہو، اسے پارلیمنٹ میں جانے سے پہلے ’’خوب چھان پھٹک کرکے، پارلیمنٹ میں پیش کریں، تاکہ ساتھ ہی قانون سازی ہو جائے۔اِس کے علاوہ آرٹیکل A-2 قرار دادِ مقاصد مستقل احکام کا حصہ ہوگا، اِس کے علاوہ قرار دادِ مقاصد میں، حکمرانی کے لئے جو اصول بیان کئے گئے ہیں۔ ان پر من و عن عمل درآمد کیا جائے، اس کے علاوہ آرٹیکل31۔ اسلامی طریق زندگی کے بارے میں اس طرح اسلامی احکام آرٹیکل 22۔ قرآن پاک اور سنت کے بارے میں احکام ہیں۔ آرٹیکل 22،23یہ سارے آرٹیکلز ’’اسلامی احکام‘‘ کے متعلق ہیں۔

آخر میں آرٹیکل 25۔ قومی زبان (National Language) کے بارے ہے: (1) پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے اور یومِ آغاز سے پندرہ برس کے اندر اندر اس کو سرکاری و دیگر اغراض کے لئے استعمال کرنے کے انتظامات کئے جائیں گے۔(2) شق (1) کے تابع، انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لئے استعمال کی جاسکے گی، جب تک اس کے اُردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات نہ ہو جائیں۔ (3) قومی زبان کی حیثیت کو متاثر کئے بغیر کوئی صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعے قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، ترقی اور اِس کے استعمال کے لئے اقدامات تجویز کرسکے گی۔

قومی زبان(اُردو) کے بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آچکا ہے، جس پر من و عن درآمد کیا جانا ازبس لازم ہے۔یاد رہے! طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ’’دینی مدارس‘‘ کو بھی قومی دھارے میں لانا ہوگا، پہلے دس برس کی تعلیم دونوں علوم (دینی و عصری) کے ملے جلے نصاب (یعنی یکساں نصاب ’’تعلیم‘‘ پر مبنی ہوگی، اس کے بعد، اپنے اپنے ذوق اور مزاج بلکہ صلاحیت (Potential) کے مطابق اپنے اپنے مضامین کا انتخاب کرنا ہوگا۔ جو عالم مفتی بننا چاہیں، وہ اپنی تعلیم کو ’’اسلامی جامعات‘‘ سے حاصل کریں اور جو ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان اور پی ایچ ڈی وغیرہ کا انتخاب کریں۔ اُن کے لئے ’’عصری اداروں‘‘ کو ایسی تعلیم دینے کے لئے تیار (Equip) کیا جائے گا۔

’’فرضِ عین‘‘ کے علوم پہلے دس برس میں جاننے کے بعد وہ جس طرف بھی جائیں گے، ان کے لئے وہ ایک(Safe Haven) ہوگا۔ہر انسان(مسلمان) کی بنیادی ضرورت ’’ایمان‘‘ ہے۔ ایمان کی تعلیم حاصل نہیں کی۔۔۔ تو کچھ بھی نہیں کیا۔ ’’ایمان‘‘ کی تعلیم کے بعد اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا استفسار رہے گا، تو یہ انسان جہاں بھی جائے گا، انسان ہی رہے گا۔ حیوانی سطح پر نہیں آئے گا، گو ’’خیر اور شر‘‘ کی کشمکش تو ’’ازل‘‘ سے ہے اور ’’ابد‘‘ تک رہے گی، لیکن اگر کوئی چیز حفاظت کا بند (شر سے) باندھ سکتی ہے۔۔۔ تو وہ صرف ’’ایمان‘‘ ہے۔یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تیسری اور چوتھی صدی ہجری کی ’’جامعات‘‘ میں ’’اسلامی علوم‘‘ تفسیر، حدیث، سنت اور فقہ کے ساتھ ہی طب، ریاضی، فلکیات جنہیں ہم آج ’’عصری علوم‘‘ کہتے ہیں۔۔۔

یہ سارے علوم ایک ہی ’’چھت‘‘ کے نیچے پڑھائے جاتے تھے، یہ ہماری قدیم ترین جامعات تھیں، ہمارے اکابر جنہوں نے ’’جامعۃ القروین‘‘ مراکو میں درس دیا، ان میں ’’قاضی عیاضؒ ، ابن خلدونؒ ، ابن رشد، ابن عربی مالکی ؒ تھے، اس کے علاوہ دو جامعات’’جامعہ زیتونہ‘‘ تیونس، جامعۃ الازہر (مصر) میں تھیں۔یاد رہے! ایک زمانہ تھا کہ صرف ’’مدارس‘‘ ہی ہوا کرتے تھے، جن میں ’’دینی اور عصری تعلیم‘‘ دی جاتی تھی، جب سکولوں اور مدارس کی تقسیم عمل میں آئی، ہمارے ’’نظامِ تعلیم‘‘ کو ایک زبردست دھچکا لگا۔ گویا ’’سکولوں‘‘ میں بھی ادھوری تعلیم اور ’’دینی مدارس‘‘ میں بھی ادھوری تعلیم دی جارہی ہے، اس کو یکجا کرنا ہوگا۔ ایک ’’یکساں نصاب تعلیم‘‘ متعارف کرانا ہوگا، جس طرح کہ تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں مراکو (فارس) اور مصر میں تھا۔۔۔ تمام سیاسی جماعتیں اِسے اپنے ’’انتخابی منشور‘‘کا حصہ بنائیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...