آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

نویں تراویح

سورۃ الحجر : 15 ویں سورت

سورۃالحجر مکی سورت ہے، 99آیات اور 6 رکوع ہیں ۔یہ سورت ایسی ہے کہ اس کی صرف ایک آیت (یعنی صرف پہلی آیت) تیرہویں پارہ میں ہے اور دوسری آیت سے چودھواں پارہ شروع ہوتا ہے۔ سورت کا نام آیت 80 کے فقرہ ’’کَذّبَ اَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْن‘‘ سے لیا گیا ہے۔ آغاز میں حروف مقطعات ہیں۔ مدینہ منورہ سے تقریباً ایک سو پچاس میل شمال کی طرف جہاں سے شام کا راستہ شروع ہوتا ہے، ایک پہاڑ ہے جس کا نام ’’جبل الحجر‘‘ ہے۔ اس میں ایک قوم آباد تھی جو فن تعمیر میں مہارت رکھتی اور پہاڑوں کو کاٹ کر عالی شان مکان بناتی تھی۔ اس قوم کو عرف عام میں ’’قوم ثمود‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’حجر‘‘ اس قوم کا مرکزی شہر تھا۔ اس کے کھنڈر سعودی عرب کے موجودہ شہر ’’العلاء‘‘ سے چند میل کے فاصلے پر اب بھی موجود ہیں۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہراہ پر ملتا ہے ،مگر نبی پاک ﷺ کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا۔ (آٹھویں صدی ہجری میں حج کو جاتے ہوئے ابن بطوطہ یہاں پہنچا تھا۔)انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مبارکہ، سورۃ ابراہیم سے متصل نازل ہوئی تھی۔ اس سورت میں نبی پاکؐ کی دعوت کا انکار کرنے اور مذاق اڑانے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور رسول پاکؐ واصحابِ رسولؐ کی ہمت افزائی کی گئی ہے۔ ایک طرف توحید کے دلائل کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف واقعات سنا کر نصیحت فرمائی گئی ہے۔

سورۃ النحل : 16 ویں سورت

سورۃ النحل مکی ہے، 128 آیات اور 16 رکوع ہیں۔ چودھویں پارہ کے ساتویں رکوع سے شروع ہو کر 22 ویں رکوع (یعنی پارہ کے آخر تک )ہے۔ ’’نحل‘‘ عرب میں شہد کی مکھی کو کہتے ہیں، اس سورت کا نام علامت کے طور پر ہے موضوع نہیں۔ نام آیت 68 کے فقرے ’’وَاَوْحٰی رَبّکّ اِلٰی النَّحلِ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ سورت مبارکہ کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی ہجرت حبشہ واقع ہو چکی تھی اور آپ کی بعثت کے بعد جو قحط رونما ہوا تھا وہ بھی ختم ہو چکا تھا۔ (یعنی یہ بھی مکہ کے آخری دور کی ہے۔) اس سورت کا عام موضوع ’’شرک کا رد، توحید مخالفین کو تنبیہ اور دعوتِ رسالت نہ ماننے پر ڈراوا‘‘ ہے۔ اس سورت کا آغاز کسی تمہید کے بغیر یک لخت تنبیہی جملے سے ہوتا ہے۔ وہ وقت قریب ہے جبکہ کافروں کو عذاب سے چھٹکارا نہ مل سکے گا۔ دیکھو شہد کی مکھی کو بتایا کہ وہ پہاڑوں میں گھر بنائے۔ اس سے شہد حاصل ہوتا ہے جو لوگوں کیلئے شفا ہے ۔ وہی ہے جو تم کو پیدا کرتا اور مارتا ہے اور ایسی عمر تک بھی پہنچا دیتا ہے کہ انسان جانتا ہو ابھی بھول جاتا ہے ۔ بیشک اللہ جاننے والا قدرت والا ہے اور اللہ نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر ر زق میں بھی بڑائی دی ہے اور جب تم یہ بات پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رزق میں تمہارے باندی غلام بھی برابر کے شریک ہو جائیں تو پھر اللہ کو کیونکر پسند ہو گا کہ اس کے بندے اسکی الوہیت میں برابر کے شریک ہوں؟ یہ قرآن ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔

اب چند احکام آتے ہیں جن کا تعلق انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے ہے۔ یعنی عدل، احسان، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی، پھر بے حیائی، بری بات اور سرکشی کی ممانعت ، عہد کی پاسداری چاہئے اور قسم توڑنے کی ممانعت بھی آتی ہے اور جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی محافظت مانگو کہ وہ شیطان سے بچائے۔ شیطان کا قابو ایمان والوں اور اللہ پر توکل کرنے والوں پر نہیں چلتا۔ اب ان کافروں کی تردید ہے جو کہتے ہیں محمد ﷺ کسی عجمی سے قرآن سیکھتے ہیں اور پھر سناتے ہیں۔ ایسے افترا پردازوں پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ پھر حرام اشیاء کا ذکر آتا ہے، جن کا ذکر پہلے بھی آ چکا ہے یعنی مردار، خون ، خنزیر اور غیرِ خدا کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور، نادانی سے جنہوں نے برائی کی ہے۔ توبہ کے بعد اللہ پاک ان کو بخشنے والا مہربان ہے۔ اب ابراہیم علیہ السلام کی تعریف ہے کہ وہ نیک خصائل اور حمیدہ صفات تھے۔ اللہ کے فرماں بردار ، اس کے احسان پر شاکر تھے۔

سورۃ بنی اسرائیل: 17 ویں سورت

سورہ بنی اسرائیل مکی ہے۔ 111 آیات اور 12 رکوع ہیں۔ اس سورت کے ساتھ ہی پندرھویں پارہ کا آغاز ہوتا ہے۔ سورت کا نام آیت 4 کے فقرہ ’’وقضینآ الیٰ بنی اسرائیل فی الکتاب‘‘ سے ماخوذ ہے۔ (مگر موضوع بنی اسرائیل یا ان کی تاریخ نہیں) یہ نام بطور علامت ہے۔ یہ سورت معراج کے موقع پر نازل ہوئی جیسا کہ پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے اور واقعہ معراج ہجرت سے ایک ڈیڑھ سال قبل پیش آیا تھا۔ اس میں تنبیہہ، تفہیم اور تعلیم کو ایک مناسب انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ اس سورت کو ’’سورۃ الاسراء‘‘ بھی کہتے ہیں۔

شروع میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج شریف کا واقعہ ہے کہ اللہ پاک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے گیا، جس کے ماحول کو اللہ نے مبارک بنا دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ۔ پھر بتایا کہ نافرمانی کی تو محکومیت اور مسکینی کی لعنت میں گرفتار ہوئے،لیکن بنی اسرائیل نے جب توبہ کی اور فساد سے باز آئے تو ہم نے تم کو ان لوگوں پر غالب کر دیا جو تم پر مسلط ہو چکے تھے۔ آخر پھر تم نے فساد برپا کیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنا چاہا پھر بھی اگر تم دوبارہ توبہ کرو تو اللہ پاک پھر رحم فرمائے گا۔ اور اگر اب بھی فساد کرو گے تو دنیا اور آخرت میں ذلیل ہو گے۔ توحید کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کے لئے حکم ہے کہ ان سے اُف بھی نہ کہا جائے اور کسی طرح نہ جھڑکا جائے۔ رشتے داروں کے حقوق ادا کئے جائیں۔ مسکین اور مسافر کے ساتھ بھلائی کی جائے۔ فضول خرچی نہ کی جائے۔ انفاق میں اعتدال رکھا جائے۔ بیشک اللہ جسے چاہے رزق میں کشادگی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگی کرتا ہے۔ چند احکام پھر آتے ہیں کہ مفلسی کے ڈر سے اولاد کو قتل نہ کرو (پیدائش کے بعد یا پہلے)۔ بدکاری کے قریب نہ جاؤ۔ کسی جان کو ناحق نہ مارو۔ یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ۔ (الایہ کہ حفاظت کرو اور بڑھاؤ)۔ ناپ تول صحیح کرو۔ اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔ زمین پر اکڑ کر مت چلو۔ شرک مت کرو۔ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں نہ سمجھو۔

اب اللہ کی توحید کا پھر درس دیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی اور خدا بھی ہوتے تو وہ عرش کے مالک سے برسر مقابلہ ہوتے۔ یہاں بعض کافروں کے منصوبوں اور ان کی ہزیمت کا ذکر بھی ہے کہ کس طرح اللہ کا فضل ہوا اور وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا نہ دے سکے۔ غزوۂ بدر اور فتح مکہ کے واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ کفار ہلاک کر دیئے گئے اور جو بچ رہے، وہ ایمان لے آئے۔ اب مختلف نمازوں کے اوقات کا ذکر ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک زائد نماز (یعنی تہجد) ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک خوشخبری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام محمود پر فائز ہوں گے، یعنی شفاعت کبریٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ہاتھوں ہے۔ جب تمام اولین اور آخرین آپ کی حمد کریں گے۔ اور قرآن میں مومنین کے لئے شفا اور رحمت ہے۔ اب ارشاد ہے کہ روح کیا ہے؟ امررب ہے۔ کوئی کیا سمجھے گا؟ پھر چیلنج ہے کہ اگر قرآن اللہ کا کلام نہیں تو سارے جن و انس مع اپنے مددگاروں کے مل کر اس جیسا قرآن بنا لائیں۔ پھر کفار کے بعض مضحکہ خیز مطالبات کا تذکرہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ پورے ہوں گے تو ہم ایمان لائیں گے۔ پھر ان کا جواب بھی ہے۔ کفار یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان کو کیوں رسول بنایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیں کہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو فرشتے ہی رسول بنائے جاتے۔(سورت کی آخری آیت کو بطور وظیفہ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔) *

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...