سیاسی قائدین جو بھی کہیں، ان کی مرضی: تاریخ پر نظر ضرور ڈالیں!

سیاسی قائدین جو بھی کہیں، ان کی مرضی: تاریخ پر نظر ضرور ڈالیں!
سیاسی قائدین جو بھی کہیں، ان کی مرضی: تاریخ پر نظر ضرور ڈالیں!

سیاست کھیل ہے تو اس کا مظاہرہ پاکستان ہی میں ہوتا ہے، کھیل کے بھی قواعد و ضوابط ہوتے اور منصف بھی مقرر کئے جاتے ہیں، سیاست میں بھی الیکشن کمیشن نام کا ادارہ ہے جو اسی حیثیت کا حامل ہے کھیل میں تو ریفری کی بات حرف آخر ہوتی ہے لیکن یہاں سیاسی میدان (خصوصاً پاکستان) میں الیکشن کمیشن کی کچھ زیادہ فکر نہیں کی جاتی، قواعد و ضوابط اور ضابطہ اخلاق تک نافذ ہوتا ہے تاہم خلاف ورزی جاری رہتی ہے، جمہوریت نظام ہے اس میں تحمل اور برداشت لازم ہے کہ اپنے حق سے پہلے دوسرے کے حق کے لئے لڑنا ہوتا ہے اور پھر غلط باتوں سے گریز کرنا پڑتا ہے ، لیکن پاکستان کا باوا آدم نرالا ہے، یہاں جمہوریت کے نام پر الزام تراشی اور دشنام طرازی ہوتی ہے، حالانکہ سیاست اپنے اپنے پروگرام کے مطابق ہونا چاہئے، ایک دوسرے کے پروگرام کے حوالے سے تنقید میں کوئی حرج نہیں لیکن بدنام مہم جوئی تو کسی صورت اچھی نہیں ہوتی۔ پاکستان میں سب کچھ ہورہا ہے لیکن ضابطہ اخلاق پر عمل نہیں ہوتا، اللہ کرے یہ نوبت بھی آہی جائے۔

ہمارے سیاسی راہنما معتبر بھی ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز اور رہ بھی چکے ہیں، ملک میں سیاسی جماعتوں کی بہتات ہے تاہم ان سینکڑوں جماعتوں میں سے معتبر اور عوام تک رسائی والی جماعتوں کو شمار کیا جاسکتا ہے اور اسی طرح سیاسی قائدین بھی بالکل سامنے ہیں دنیا بھر میں بات کرنے کے لئے حقائق اور ریکارڈ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہمارے ملک میں شاید اس کی کوئی ضرورت نہیں، یہاں قائدین جو بھی کہہ دیں سند ہے چاہے تاریخی حقائق کچھ بھی ہوں، ایسی ہی بات دو مختلف حریف قائدین نے کی اور دونوں کی اس گفتگو میں ذکر اس دور کا آگیا جس دور کے انتخابات کو واحد آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کہا جاتا ہے اگرچہ یہ پورا سچ نہیں ہے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جب الیکشن میں حصہ لیا تو حالات مختلف تھے، تب انتخابات میں دھاندلی نہیں تھی، محترم عمران خان بھی شاید کسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں، یا پھر وہ خود کو بھٹو ثانی اور تحریک انصاف کے ’’سونامی‘‘ کو 70میں بھٹو کی انقلابی مہم سمھتے ہیں، ہر دو امور و معاملات میں یہ ان کی اپنی رائے تو ہے لیکن حقائق سے مختلف ہے کہ 1970ء کے انتخابات میں بھی وہ سب کچھ ہوا جو انتخابی عمل میں ہوتا ہے، مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کو عروج ملا تو یحییٰ خان کی قیادت میں ان کو ہرانے اور اپنی پسند کے حضرات کو جتوانے کی کوشش بھی کی گئی، پیپلز پارٹی کے مقابلے میں اسلام پسند جماعتوں کو کھڑا کیا گیا، پیپلز پارٹی چارنکات میں سے ’’سوشلزم ہماری معیشت ہے‘‘ کے نکتے کی بناء پر پارٹی اور بھٹو مخالف فتوے دیئے گئے ان کو کافر کہا گیا، اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ سوشلزم کہنے والوں پر حملے بھی کئے گئے، مجھے یاد ہے کہ اس دور میں روزنامہ امروز کے سینئر حضرات نے میری ڈیوٹی لگائی اور میں شیرانوالہ دروازہ میں خدام الدین کے دفتر میں محترم و مکرم مولانا عبیداللہ انور (مرحوم) سے ملا اور ان کا انٹرویو لیا، جنہوں نے فتوؤں کی تکذیب کی اور کہا کہ سوشلزم ایک معاشی نظام ہے، اس کو ماننے والوں کو کافر اور اس نظام کو کفر کہنا تو مناسب نہیں، یہ انٹرویو اچھے طریقے سے شائع ہوا، یحییٰ خان کے ساتھ کابینہ میں میجر جنرل (ر) شیر علی خان بھی تھے جو وفاقی وزیر اطلاعات تھے انہوں نے بھٹو کے خلاف میڈیا کو استعمال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، تاہم بھٹو کی شخصیت اتنی پرکشش ثابت ہوئی کہ پولنگ سٹیشنوں پر جھگڑوں اور مارکٹائی کے باوجود ان کے کھمبے بھی جیت گئے حتیٰ کہ للیانی سے اللہ دتا سائیکل پر انتخابی مہم چلا کر ایم، پی، اے ہوگئے اور ان کے کل 123 روپے خرچ ہوئے۔

خان صاحب کو شاید یہ بھی اندازہ نہیں، یا وہ نظر انداز کرگئے ہیں کہ اس ساری اکھاڑ پچھاڑ اور بھٹو کی طلسماتی شخصیت کے باوجود وہ سندھ اور پنجاب سے جیتے تھے، بلوچستان اور صوبہ سرحد(اب کے پی کے) میں کامیابی نہیں ملی تھی اور مشرقی پاکستان(اب بنگلہ دیش) میں تو ان کی جماعت کا ایک بھی امیدوار نہیں تھا، اب یہ بھی تاریخ ہے کہ پاکستان کے اس بازد میں 1970ء کے انتخابات میں پورے حصے میں بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کے مسلح کارکنوں کا قبضہ تھا اور ان سب نے بھی ڈبے بھرے تھے، اس سلسلے میں ہمارے نصیر سلیمی صاحب کراچی ڈائری میں ایک سے زیادہ بار ذکر کرچکے کہ انتخابات کے دوران شیخ مجیب الرحمن نے جب پوچھا کہ الیکشن کی کیا صورت ہے تو ان کو بتایا گیا کہ سب ٹھیک (اپنے حق میں ہے) تو شیخ مجیب نے اپنے کارکنوں سے کہا ’’سب ٹھیک ہے، لیکن اس بڈھے کو چھوڑ دینا‘‘ چنانچہ وہ بڈھا نورالامین واحد شخصیت تھی جنہوں نے موجودہ بنگلہ دیش سے قومی اسمبلی کی سیٹ جیتی، یا پھر راجہ تری دیو رائے کو بھی لحاظ سے چھوڑا گیا کہ وہ ایک قبیلے کے سربراہ تھے، تو محترم ذرا اس دور کے واقعات پر غور کرلیں، پڑھ لیں یا ان حضرات سے معلومات لیں جو اس وقت میدان میں تھے۔

اسی طرح محترم سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے بھی مجیب الرحمن کے حوالے سے بات کی جس کے معنی یہ ہیں کہ مجیب الرحمن محب وطن تھا اسے مجبور کردیا گیا تھا یہاں بھی تاریخ درست کرنے کی ضرورت ہے کہ گو شیخ مجیب الرحمن نے ہارون خاندان کے ملازم والے دور اور نو عمری میں تحریک پاکستان میں حصہ لیا لیکن چھہ نکات تک آتے آتے وہ بھارت کے ہمنوا بن چکے تھے اور ان کی ملاقاتیں بھی ہوچکی تھیں، جولائی 1970ء میں ہم نے لاہور میں شیخ مجیب الرحمن ڈاکٹر کمال حسین اور طالب علم لیڈر طفیل کے علاوہ دوسرے مہمانوں سے تبادلہ خیال کیا تو وہ بھارت کے زبردست حامی تھے اور مغربی پاکستان والوں کو ہی حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیتے تھے، بعدازاں چھہ نکات اور مشرقی بازر(اب بنگلہ دیش) میں انتخابی مہم کا ریکارڈ دیکھ لیں، اگرچہ پرنٹ میڈیا پر بہت پابندیاں تھیں، پھر بھی اس دور کے اخبارات بہت کچھ دکھا دیتے ہیں، اس لئے ہماری تو گزارش ہے کہ قائدین جو بھی کہیں، ان کی مرضی۔ لیکن تاریخ اور پس منظر کو تو سامنے رکھا کریں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...