ڈاکٹر سعید اختر کا جواب

ڈاکٹر سعید اختر کا جواب
ڈاکٹر سعید اختر کا جواب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

برلن میں ٹرین انڈرگراؤنڈ ریلوے لائن پر جا رہی تھی۔ وقفے وقفے سے وہ مختلف سٹیشنوں پر رکتی اور دروازے کھلتے بند ہوتے۔ مسافر منزل پر اترتے اور نئے مسافر سوار ہوتے۔ ٹرین دوبارہ سفر کا آغاز کرتی، مگر لیوپولڈ اس نوجوان جوڑے کو دیکھنے میں مگن تھا ،جنہوں نے انتہائی قیمتی زیورات پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے لباس پر بلاشبہ لاکھوں ڈالر خرچ کئے ہوئے تھے، مگر ان کے جسم ان کے غیرمعمولی اضطراب کی کہانی سنا رہے تھے۔ لیوپولڈ نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا ،لیکن خود اس کے ذہن پر سوالات کے ہتھوڑے برس رہے تھے۔ وہ ایک یہودی مذہبی سکالر تھا۔ اس کے بڑوں نے اسے یہ بتایا تھا کہ اگر انسان کے پاس دولت ہو تو پھر زندگی میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، مگر یہ امیردولت مند جوڑا اسے زندگی کا دوسرا رخ دکھا رہا تھا۔ اس جوڑے کا لباس ان کی غیرمعمولی امارت کی عکاسی کر رہا تھا ،مگر اس نے اپنی زندگی میں کسی کو اتنا پریشان نہیں دیکھا تھا۔ کیا اس کے بزرگوں نے اسے غلط بتایا تھا؟ کیا دولت انسان کو ہر قسم کی پریشانیوں سے نجات دلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ لیوپولڈ اپنے سٹیشن پر اتر کر گھر میں آ گیا، مگر اس کا ذہن مسلسل سوالات کی زد میں تھا۔

گھر آ کر اس نے اپنی چھوٹی سی لائبریری میں ٹہلنا شروع کر دیا اور دولت اور انسانی خوشی کے تعلق پر غور کرنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد وہ کتابوں کی ایک الماری کے پاس رکا اور اس نے ایک کتاب اٹھائی۔ یہ قرآن مجید تھا۔ اس نے اسے کھولا تو اس کی نظر سورہ التکاثر پر پڑی جو اس کے سوالوں کا جواب دے رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ بتا رہا تھا کہ تمہیں کثرت کی خواہش نے غفلت میں رکھا حتیٰ کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ لیوپولڈکو اپنے سوال کا جواب مل گیا۔ وہ اس سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ لیوپولڈ نے علامہ اسد کا اسلامی نام اختیار کیا۔ آج ایک دنیا علامہ اسد کی کتابوں سے راہنمائی حاصل کرتی ہے اور اسلامی دنیا میں ان کا نام انتہائی عزت واحترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ علامہ اسد کے ذہن میں جو سوال برلن میں پیدا ہوا تھا اور جس کے جواب کی تلاش اسے دین حق تک لے گئی تھی۔ ایسا ہی سوال پروفیسر سعید اختر کے ذہن میں امریکہ میں پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے دنیا کے ممتاز میڈیکل اداروں سے تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ ٹیکساس میں یورالوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین رہے۔ متعدد ممتاز میڈیکل اداروں سے وابستہ رہے۔پوری دنیا سے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ٹرانسپلانٹ سرجری میں کمال حاصل کیا۔

پروفیسر سعید اختر نے امریکہ میں خوب دولت کمائی۔ زندگی کی کوئی خواہش ایسی نہ تھی جو وہ پوری نہیں کر سکتے تھے، مگر پھر ایک دن انہوں نے سوچا کہ کیا زندگی کا مقصد صرف دولت کمانا ہے۔ اسی دوران مذہب سے ان کے لگاؤ میں اضافہ ہوتا گیا۔ امریکہ نے 11 ستمبر کے واقعے کے بعد بڑی تعداد میں فوجی افغانستان بھجوائے تھے۔ ان میں سے کئی اسلام قبول کر چکے تھے۔ وہ بہت اچھے مسلمان تھے۔ وہ مسجد میں آ کر نماز پڑھتے تھے۔ قرآن سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ڈاکٹر سعید اختر بتاتے ہیں کہ وہ ان سے مل کر بہت خوش ہوتے تھے۔ 1999ء میں ٹیکساس میں ہماری ملاقات ایک ایسے امریکی سے ہوئی تھی جس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ہم نے اس سے دریافت کیا تھا کہ اسے مسلمان ہونا کیسا لگ رہا ہے۔ اس پر اس نے کہا کہ جب وہ عیسائی تھا تو اس کا خیال تھا کہ زندگی کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بہت اچھی تصویر دیکھ لی جائے کوئی زبردست قسم کی کتاب پڑھ لی جائے۔ کسی خوبصورت لڑکی کے ساتھ ڈیٹ پر جا کر کوئی فلم دیکھ لی جائے، مگر جب سے میں مسلمان ہوا ہوں مجھے نماز پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے۔ میں اپنا مسلمان ہونا انجوائے کر رہا ہوں۔

پھر ڈاکٹر سعید اختر نے اپنی زندگی کا ایک بڑا فیصلہ کیا۔ وہ پاکستان واپس آ گئے اور انہوں نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کو جائن کر لیا۔ یہاں انہوں نے دیکھا کہ غریب کس حال میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہیں اپنے بعض دوستوں پر بہت غصہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ان میں سے بہت کم دکھی انسانیت کے لئے دردل رکھتے ہیں۔ اکثر دولت اکٹھی کرنے والی مشین بن گئے ہیں۔ انہوں نے شفا ہسپتال میں کچھ بیڈ لئے اور کچھ ایسا انتظام کیا کہ وہ گردے کے مریضوں کا علاج کرتے، ان کے گردے ٹرانسپلانٹ کرتے اور اس کا سارا خرچ وہ خود ادا کرتے۔ ان کی زندگی کو ایک مقصد تو مل گیا، مگر انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس سلسلے میں حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہیں ہو رہا ہے۔۔۔اور پھر ان کی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سے ملاقات ہوئی۔ یہ بہت مختصر ملاقات تھی۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کے پاس اپنی بات کرنے کے لئے صرف 5 منٹ ہیں۔ ڈاکٹر سعید اختر بتاتے ہیں کہ انہوں نے بات کرنی شروع کی، مگر وزیر اعلیٰ اس پر کوئی زیادہ توجہ نہیں دے رہے تھے۔ چار منٹ گزر گئے اور جب انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسا ادارہ بنانا چاہتے ہیں جو سنٹرآف ایکسی لینس ہو۔ مستقبل میں یہ ادارہ ہاورڈ، جان ہوپکنز، کیمبرج اور آکسفورڈ کی طرح دنیا میں اپنا مقام بنائے تو وزیراعلیٰ نے ان کی بات پر توجہ دی اور پھر اس منصوبے کا آغاز ہوا جسے آج پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کا نام دیا گیا ہے۔

پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بیماریوں کا تعلق گردے، جگر اور مثانے سے ہے۔ بارہ افراد میں سے ایک فرد ہیپاٹائٹس کا مریض ہے۔ ہیپاٹائٹس کی بڑی وجہ پرانی سرنجوں کا استعمال ہے۔ پاکستان میں ایمرجنسی میں جب کوئی مریض ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو بیماری کی تشخیص سے پہلے ہی اسے ڈرپ لگا دی جاتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 80 فیصد صورتوں میں ڈرپ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دولت کمانے کے لئے ڈاکٹروں کا یہ اقدام مریض کو ہیپاٹائٹس جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر سعید اختر ان صنعتکاروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو صنعتی فضلے کو موثر انداز میں تلف نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پلاسٹک سرطان کی بیماری کے پھیلاؤ میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ جب پلاسٹک کو زمین میں دفن کیا جاتا ہے تو وہ کسی نہ کسی انداز سے دوبارہ انسانی جسم میں پہنچ جاتا ہے اور اس موذی مرض کا سبب بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر سعید اختر نے ییل یونیورسٹی سے پبلک ہیلتھ کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی ہے۔ اس لئے وہ امراض کے علاج سے زیادہ حفاظتی تدابیر پر زور دیتے ہیں۔ تزئین قریشی اس ہسپتال کے ساتھ بطور میڈیا کنسلٹنٹ منسلک ہیں۔ اس سے پہلے وہ شوکت خانم ہسپتال کے ساتھ بھی وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے اس ہسپتال کے متعلق ہمیں ایک بریف کیا۔ ہم اسے اپنے قارئین کے استفادے کے لئے پیش کررہے ہیں۔

’’پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ ریسرچ سینٹر ہاورڈ، آکسفورڈ، کیمبرج اور جان ہوپکنز کی طرز پر بنایا جا رہا ہے اور ہیلتھ سیکٹر میں نئے رحجانات متعارف کروانے میں کلیدی کردار کا حامل ثابت ہو گا۔ پی کے ایل آئی کے پہلے فیز کا افتتاح 25دسمبر 2017ء کو کیا گیا۔ اس فیز میں ابتدائی طور پر آؤٹ پیشنٹ سروسز، ڈائیلسز، مائنر اور میجر سرجریاں، پیتھالوجی، کلینیکل لیبارٹری، فارمیسی، اینڈوسکوپی، ریڈیالوجی اور دیگر سہولیات متعارف کروائی گئی ہیں ،تاکہ بغیر کوئی وقت ضائع کئے عوام کو کچھ خدمات میسر آ سکیں۔ افتتاح سے اپریل 2018ء تک ہسپتال کے او پی ڈی میں 5802 مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں جس میں سے 88فیصد کو علاج میں مالی معاونت دی گئی جب کہ ادارے کے ہیپاٹائٹس ٹریٹمنٹ اینڈ پریونشن پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں قائم 23 کلینکس میں اب تک 265,000 سے زائد افراد کا مفت معائنہ، ہیپاٹائٹس سی اور بی کی ادویات کی مفت فراہمی اور ہیپاٹائٹس بی کی مفت ویکسی نیشن کی گئی ہے۔ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے متعددسیشنز میں 360,000 سے زائد افراد کو ہیپاٹائٹس کے بارے آگہی دی جا چکی ہے۔ پہلے فیز کی دیگر سہولیات کمیشن ہونے کے بعد گردے، جگر، لبلبہ کی پیوندکاری شروع ہو جائے گی اور مثانہ کی پیچیدہ ترین سرجریاں ہوں گی۔ پاکستان میں اس قسم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم وطن ہندوستان، چین اور دیگر ممالک جانے پر مجبور ہیں، جبکہ غریب تو اس کا علاج افورڈ ہی نہیں کر سکتا۔

پی کے ایل آئی کے قیام کا مقصد غریب اور نادار مراضوں کی خدمت کر کے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے اور یہ اس خواب کا تسلسل ہے، جس کے لئے ڈاکٹر سعید اختر نے الشفاء ہسپتال اسلام آباد میں کڈنی انسٹیٹیوٹ (پی کے آئی) قائم کیا اور جہاں پر تقریباً 150,000 لوگوں کا علاج کیا گیا جس میں 80 فیصد سے زائد مریضوں کا مفت علاج ہوا۔ پاکستان میں گردے اور جگر کے امراض کے ماہرین اور خاص طور پر ان کی پیوندکاری کے ماہرین کی بہت کمی ہے۔ پی کے ایل آئی میں یو کے، امریکہ و دیگر ممالک اور پاکستان کے تجربہ کار اور کوالیفائیڈ ماہرین بلاتفریق عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ ہسپتال 500 بیڈ پر مشتمل ہو گا، جبکہ مستقبل میں اس کو 800 بیڈز تک توسیع دینے کا ارادہ ہے۔ ہسپتال میں دورجدید کی بہترین سہولیات و مشینری بلاتفریق علاج کے لئے میسر ہوں گی۔ آئی سی یو بیڈز، ایمرجنسی بیڈز اور ڈائلسز مشین، روبوٹک سرجری پر مشتمل آپریشن رومز، جبکہ چھوٹی یا معمولی سرجری کے لئے آپریشن رومز الگ سے ہوں گے، جبکہ ریڈیالوجی کے شعبہ میں ایم آر آئی، سی ٹی اور پی ای ٹی سی سکین اور دیگر جدید ترین مشین لگائی جا رہی ہے۔ پہلے تین سال گورنمنٹ ہسپتال کی تعمیر، مشینری اور دیگر اخراجات فراہم کرے گی۔ اس کے بعد ادارہ اپنی سروسز صدقات، زکوٰۃ اور دیگر منصوبوں سے اپنی ضروریات پوری کرے گا۔پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی شرح دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔ دس سال قبل ہوئے سروے کے مطابق اس مرض میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ مبتلا ہیں۔ یعنی ہر بارہواں پاکستانی اس کا شکار ہے۔ موجودہ شرع کا تعین ہونا باقی ہے اور محتاط اندازے کے مطابق یہ تعداد بڑھنے کا احتمال ہے۔ پی کے ایل آئی کے ہیپاٹائٹس پریونشن اینڈ ٹریٹمنٹ کلینکس میں روزانہ 3000 سے زائد مریض سکریننگ، علاج اور ویکسی نیشن کے لئے آتے ہیں۔ یہ تمام سہولیات اعلیٰ معیار اور پاکستان کے ہر شہری کے لئے بالکل مفت ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔ پی کے ایل آئی کو پنجاب اسمبلی میں ایک ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا جس کا بنیادی مقصد علاج، تعلیم اور تحقیق کے ذریعے انسانیت کی خدمت ہے۔ گورننگ باڈی میں حکومتی ارکان کے ساتھ پروفیشنل، ڈاکٹر، بزنس مین اور فلاحی کام کرنے والی نامور شخصیات شامل ہیں ،تاکہ انتظامی فیصلوں اور مشاورت میں متنوع اور تجربہ کار رائے سامنے آئے۔ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر کو انسانیت کی خدمت کے عظیم مقصد کے لئے بنایا گیا ہے اور جس کا مشن ہے کہ یہ ادارہ ایک دن پاکستان کا سینٹر آف ایکسی لینس ہے۔‘‘

مزید : رائے /کالم