فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے پر اتفاق

فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے پر اتفاق

وفاقی کابینہ نے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق فاٹا اصلاحات بل کی منظوری دے دی ہے،اس مقصد کے لئے تیسویں آئینی ترمیم کا بِل آج(جمعرات) قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا، وزیراعظم نے کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ارکانِ اسمبلی کی ایوان میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئینی ترمیم منظور کرائی جا سکے۔اِس حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمینٹ میں اپنے چیمبر میں بڑی سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں اور نمائندوں کے اجلاس کی صدارت کی، تاہم اِس اجلاس میں مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی شریک نہیں ہوئے،اُن کا کوئی نمائندہ بھی اجلاس میں نہیں گیا،کیونکہ دونوں جماعتوں کے اِس فیصلے پر تحفظات ہیں اور وہ فوری طور پر فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حق میں نہیں ہیں،تاہم جن جماعتوں کے نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بِل کی منظوری میں حکومت سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی اور حکومت کی مدت31مئی کو پوری ہو رہی ہے، نئے انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں اور ممکنہ طور پر 25 جولائی کو عام انتخابات ہوں گے، نگران وزیراعظم کی تلاش بھی جاری ہے، اسمبلی کے بہت سے ارکان اپنی نشستوں سے مستعفی ہو چکے ہیں،چونکہ اب ضمنی انتخاب کا وقت بھی گزر چکا ہے اِس لئے یہ نشستیں خالی ہیں، ایسے وقت میں آئینی ترمیم کا منظور ہونا اور فاٹا کے علاقوں کو خیبرپختونخوا کا حصہ بنانے کے لئے عملی کام کا آغاز خوش آئند ہے۔اگرچہ ستر سال تک تو اِس معاملے میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور اب یہ معاملہ قدرے عجلت میں نپٹایا جا رہا ہے اور اِس مقصد کے لئے قبائلی عوام کی رائے اس طرح سامنے نہیں آ سکی، جس طرح ریفرنڈم وغیرہ کے انعقاد کی صورت میں آ سکتی تھی، دُنیا بھر میں ایسے اہم ترین معاملات کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے اور لوگوں سے براہِ راست سوال پوچھا جاتاہے،جس کا ہاں یا ناں میں جواب ملتا ہے، جس طرح برطانیہ نے یورپی یونین سے نکلنے کے لئے ریفرنڈم کرایا۔اگرچہ اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون خود یورپی یونین کے اندر رہنے کے حق میں تھے،لیکن ریفرنڈم کا نتیجہ اُن کی رائے کے برعکس نکلا تو وہ وزارتِ عظمیٰ چھوڑ گئے،ہمارے ہاں چونکہ ایسی جمہوری روایات نہیں اور ریفرنڈم کا تصور بھی اگر ہے تو وہ فوجی ادوار میں باوردی صدر کے انتخاب پر مُہر لگوانے کی حد تک رہا ہے،جس کا سوال بھی گنجلک اور بالواسطہ تھا، اِس لئے اگر فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے ہوتا تو یہ زیادہ جمہوری طریقہ قرار پاتا اور دو جماعتوں کو اِس معاملے میں اپنی الگ راہ متعین کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی، لیکن حکومت یہ دعویٰ بہرحال کر سکتی ہے کہ اس نے اپنے پانچ سالہ دور کے اختتام پر ایک بڑا کارنامہ انجام دے دیا ہے، جس کی وجہ سے فاٹا میں ایک نیا جمہوری دور شروع ہو گا اور عوام کے مسائل بہتر طریقے سے حل ہوں گے،پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار پہلے ہی فاٹا تک وسیع کیا جا چکا ہے۔

آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد خیبرپختونخوا صوبے کی حدود وسیع ہو جائیں گی اور اگلے انتخاب تک اسمبلی کے ارکان کی تعداد بھی بڑھ جائے گی اِسی طرح صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا، فاٹا کے علاقے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں گے اور اُنہیں بھی ترقی کے یکساں مواقع مل سکیں گے،اس وقت فاٹا کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار کے وسائل پیدا کرنا ہے، کیونکہ یہ علاقے صنعتی ترقی سے محروم ہیں، تعلیم کے مواقع بھی عوام الناس کو ضرورت کے مطابق حاصل نہیں ہیں، اعلیٰ تعلیم کے لئے فاٹا کے علاقے کے لوگوں کو دوسرے شہروں اور دوسرے صوبوں کا رُخ کرنا پڑتاہے۔اگرچہ موجودہ حکومت نے فاٹا میں پہلی مرتبہ ایک یونیورسٹی بھی قائم کی ہے تاہم اِس سلسلے کو زیادہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ توقع کرنی چاہئے کہ جب فاٹا صوبے میں مدغم ہو جائے گا تو اسے جلد سے جلد صوبے کے دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کی کوشش کی جائے گی۔

وفاقی کابینہ نے آئینی ترمیم کا جو مسودہ منظور کیا ہے، پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں پیپلز پارٹی نے اس کی بعض شقوں پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں پایا جانے والا ابہام دور کیا جائے،پیپلزپارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسودہ قانون میں آئین کے آرٹیکل247 کو بھی خذف نہیں کیا گیا،جو قبائلی علاقوں کی ایڈمنسٹریشن سے متعلق ہے اور جب یہ علاقے صوبے کا حصہ بن جائیں گے تو ظاہر ہے دوسرے علاقوں کی طرح ان علاقوں میں بھی اضلاع اور تحصیلیں بنیں گے اور قبائلی ایڈمنسٹریشن کا وجود نہیں رہے گا،اِس لئے مسودے سے ایسے ابہام دور کرنے کی ضرورت ہے، ماضی میں بھی بعض قوانین کے مسودے پیش کرنے سے پہلے شاید اچھی طرح نہیں پڑھے گئے تھے، جس کی وجہ سے ان مسودات کی ایسی شقیں یا بعض ایسے الفاظ بھی منظور ہو گئے جو مطلوب و مقصود نہیں تھے۔بعدازاں جب اس جانب توجہ دلائی گئی تو ان الفاظ کو حذف کرنے کے لئے مزید ترمیمی بل پیش کرنے پڑے اِس لئے ماہرین کو پہلے ہی سے مسودہ فائنل کرتے وقت ایسی باتوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئے تاکہ منظوری کے بعد حکومت کو کسی قسم کی خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور جو مسودہ منظور ہو وہ ہرلحاظ سے مکمل اور جامع ہو، کیونکہ بعد میں جب کسی وقت ایسے قوانین عدالتوں میں زیر بحث آتے ہیں تو ایک ایک لفظ، بلکہ کومے اور فل سٹاپ تک پر بحث ہوتی اور ماہرین قانون مین میخ نکال کر مطلب کچھ سے کچھ بنا دیتے ہیں یا پھر ابہام کا فائدہ اور نقصان مختلف لوگوں کو ہوتا ہے۔ یہ مسودہ جو وفاقی کابینہ نے منظور کیا وہ بھی قانونی ماہرین نے ہی تیار کیا ہو گا، جو اسی مقصد کے لئے خدمات انجام دیتے ہیں۔ حیرت ہے کہ اُن کی توجہ اس جانب نہیں گئی، اب بھی قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے اس کا اچھی طرح سے مطالعہ کر لیا جائے تاکہ منظوری کے بعد کسی کو کوئی خفت نہ اٹھانی پڑے۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...