نگران حکومت میں کاروباری برادری کے نمائندے شامل کیے جائیں‘ لاہور چیمبر

نگران حکومت میں کاروباری برادری کے نمائندے شامل کیے جائیں‘ لاہور چیمبر

لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر کے صدر ملک طاہر جاوید نے نگران حکومت میں کاروباری برادری کے نمائندوں اور تجربہ کار ماہرین معاشیات کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت حساس دور سے گزر رہی ہے لہذا نگران حکومت ایک ماہر ٹیم کے بغیر معاشی معاملات کو نہیں سنبھال پائے گی۔ سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشید اور نائب صدر ذیشان خلیل کے ہمراہ صنعتی شعبہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملک طاہر جاوید نے کہا کہ جلد ہی نگران حکومت ملک کی باگ ڈور سنبھال لے گی جس کے ساتھ ہی معاشی چیلنجز کی ایک بڑی گٹھری بھی ہوگی، ان سے نمٹنے کے لیے کاروباری برادری کے نمائندوں اور تجربہ کار معاشی ماہرین پر مشتمل ٹیم کا ہونا بہت ضروری ہے وگرنہ یہ چیلنجز قابو سے باہر ہوجائیں گے۔لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ معاشی طور پر مستحکم پاکستان ہی ہر قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرسکتا ہے ، یہ وسائل سے مالامال ملک ہے جسے کسی قسم کی بیرونی مالی امداد کی ضرورت نہیں لیکن بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے ان سے استفادہ نہیں کیا ۔ انہو ں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معاشی کمزوری بیرونی قوتوں کو تنقید اور دباؤ کا موقع فراہم کرتی ہیں جیسا کہ ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام، توقع سے کم براہ راست بیرونی سرمایہ کاری، زیادہ پیداواری لاگت، کالاباغ ڈیم جیسے بڑے منصوبوں پر سیاست چمکانے اور بھاری تجارتی خسارے نے معاشی مسائل کو جنم دیا۔

جن سے چھٹکارا پانے کے لیے درست سمت متعین کرنا ہوگی۔ لاہور چیمبر کے صدرنے کہا کہ وسیع معدنی وسائل اگلے پانچ سال کے دوران معاشی مسائل کے خاتمے ، بالخصوص 91ارب ڈالر سے زائد قرضوں سے نجات پانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، پاکستان میں سونے ، چاندی، کاپر اور کوئلے کے وسیع ذخائر ہیں، صرف کوئلے کے ذخائر کی مالیت پاکستان کے جی ڈی پی سے 187گنا زیادہ ہے اور ان کے صرف دو فیصد حصے سے اگلے پچاس سال تک 20ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں قیمتی پتھروں، جپسم ، نمک اور ماربل وغیرہ کے بھی وسیع ذخائر ہیں ، غیرملکی کمپنیوں کو ان سے استفادہ کا کنٹریکٹ دینے کے بجائے حکومت خود استفادہ کرے۔ خواجہ خاور رشید اور ذیشان خلیل نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے کیونکہ معاشی استحکام میں اس کا کردار بہت اہم ہے، یہ معیشت کو سالانہ 12ارب ڈالر کا فائدہ دے اور 3600میگاواٹ انتہائی سستی بجلی پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی بحالی عمل میں لاکر سالانہ 600ارب روپے کی خطیر رقم بچائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، چین، افغانستان، برطانیہ اور جرمنی پاکستان کے پانچ بڑے تجارتی حصے دار ہیں جبکہ دنیا کے بہترین تجارتی علاقوں تک ابھی رسائی حاصل نہیں کی گئی، پاکستانی سفارتخانوں کو یہ ذمہ داری دی جائے اور تجارت کے لیے نئی مصنوعات بھی متعارف کرائی جائیں۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...