گورکن غفوراور لوگوں نے خاتون کی قبرمسمار کر کے فرزند علی کی قبر بنا دی

گورکن غفوراور لوگوں نے خاتون کی قبرمسمار کر کے فرزند علی کی قبر بنا دی

لاہور(نامہ نگار)بہن کی 29سال پرانی پختہ قبر کو مسمار کرکے اس کی جگہ غیر محرم لڑکے کی قبر تعمیر کئے جانے کے خلاف بھائی انصاف کی خاطر سیشن عدالت میں پہنچ گیا۔درخواست گزار اسلام پورہ کے رہائشی خواجہ حسین احمد نے اندراج مقدمہ کی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی بہن حلیمہ1989ء میں فوت ہوئی اور اس کو ساندہ قبرستان میں دفن کیاگیا۔ اس کی پختہ قبر تھی اور اب تک درست حالت میں ہے، قبر پر بہن کے نام کی تختی بھی لگی ہوئی تھی۔گزشتہ دنوں وہ قبر پر دعا کے لئے گیا تو دیکھا کہ گورکن غفوراور دیگر لوگوں نے اس کی بہن کی قبر مسمار کر دی اور اس کی جگہ فرید علی نامی شہری کے بیٹے فرزند علی کی قبر بنا دی ہے۔شہری نے موقف اختیار کیا اس کی بہن کی قبر کی بے حرمتی کی گئی ہے اور بہن کے نام کی تختی اور غیر محرم لڑکے کے نام کی تختی ایک ہی جگہ پر نصب کر دی ہے جیسے ایک ہی قبر ہو، شہری نے استدعا کی کہ گورکن غفور اور شہری فرید علی کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور لڑکے کی قبر کو منتقل کرنے کا حکم دیا جائے ۔عدالت نے ایس ایچ او ساندہ سے 28مئی کو معاملے پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...