ایبٹ آباد آپریشن ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ہیلی کاپٹر 150کلو میٹر تک گھس آئیں فورسز کو پتہ نہ چلے : جنرل (ر) درانی

ایبٹ آباد آپریشن ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ہیلی کاپٹر 150کلو میٹر تک گھس آئیں فورسز ...

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے مشترکہ طور پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ’’دی سپائی کرونکل، را آئی ایس آئی اینڈ دی الیوژن آف پیس‘‘ ہے،ایک  سوال کے جواب میں جنرل (ر) درانی نے انکشاف کیا کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں نشاندہی پولیو ٹیم کی آڑ میں صرف ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ہی نہیں کی تھی بلکہ امریکہ کو اسامہ بن لادن کی رہائش اور ٹھکانے کے بارے میں معلومات ایک ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسر نے بھی دی تھیں۔ 

اس کتاب میں اسامہ بن لادن کے بارے میں باب ’’ڈیل فار اسامہ بن لادن‘‘ میں جنرل اسد درانی نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹروں کے پاکستان میں داخلے اور ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں پاکستان کو علم نہیں تھا۔ جنرل (ر) اسد درانی نے کہا کہ یہ ناممکن ہے کہ ہیلی کاپٹر 150 کلومیٹر تک پاکستان میں داخل ہوں اور پاکستانی فورسز کو پتہ نہ چلے۔ ہم پر نااہلی اور ڈبل گیم کھیلنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ بدلے میں ہمیں کیا دیا جاتا ہے۔ جنرل (ر) اسد درانی نے انکشاف کیا ہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اشفاق پرویز کیانی میرے پسندیدہ طالب علم تھے۔ اب وہ ریٹائرہوچکے ہیں تو اس کے باوجود مجھ سے دور دور رہتے ہیں کہ کہیں میں ان سے اس واقعے کے بارے میں پوچھ نہ لوں۔ اے ایس دولت کے مختلف سوالوں کے جواب میں جنرل (ر) اسد درانی نے بتایا کہ 2011ء میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے دو روز قبل جنرل (ر) کیانی کی امریکی جنرل سے بحری جہاز پر ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل پیٹریاس تھے۔ اس کے دو روز بعد ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے یہی لگتا ہے کہ اس ملاقات کا تعلق اسامہ بن لادن کیخلاف امریکی فوج کی کارروائی سے تھا۔ اسی طرح ایک اور سوال کے جواب میں جنرل (ر) درانی نے انکشاف کیا کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں نشاندہی پولیو ٹیم کی آڑ میں صرف ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ہی نہیں کی تھی بلکہ امریکہ کو اسامہ بن لادن کی رہائش اور ٹھکانے کے بارے میں معلومات ایک ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسر نے بھی دی تھیں۔ اسد درانی نے اس افسر کا نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس اقدام کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لئے اس کا نام نہیں لوں گا۔ تاہم اس ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسر کو پانچ کروڑ کی انعامی رقم میں سے کتنے پیسے ملے، یہ وہی جانتے ہیں، کیونکہ وہ تب سے پاکستان سے لاپتہ ہیں۔ اے ایس دولت نے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 1999ء کی کارگل کے دوران پاکستان آرمی چیف جنرل پرویز مشرف اور لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان کی ٹیلی فونک گفتگو کے مندرجات افشاکرنے کے وہ خلاف تھے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے، یہ ایک دھوکا ہے، یہ ایک سیاسی مطالبہ تھا۔ اس گفتگو سے لگتا ہے کہ نواز شریف کو کارگل کی لڑائی کا مکمل علم نہیں تھا۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جنرل (ر) درانی نے کہا کہ مودی کی پاکستان کے بارے میں پالیسی ساز اجیت دودل ہیں، تمام فیصلے وہی کرتے ہیں۔

جنرل درانی

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...