ہوائی ووٹ نہ پڑے تو رینالہ خورد سے مسلم لیگ (ن)ہی جیتے گی

ہوائی ووٹ نہ پڑے تو رینالہ خورد سے مسلم لیگ (ن)ہی جیتے گی

رینالہ خورد (سرفراز انجم سے)رینالہ خورد کی سیاست پر روشنی ڈالنے سے پہلے ایک بات بتانا چاہوں گا کہ یہاں صرف سیاسی جوڑ توڑ ہی نہیں کئے گئے بلکہ حلقہ بندیوں میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور یہ تبدیلیاں بھی پی ٹی آئی کے امیدواران کو بظاہر فائدہ پہنچانے کے لئے ہیں اور بد قسمتی سے یہاں پر این اے 145 کی سیٹ بھی ضلع پاکپتن کو دے دی گئی ہیں اور یہاں کے ووٹرز کو 141اور 142حلقہ میں بانٹ دیا گیا ہے اور تحصیل رینالہ کی اپنی ایک الگ حیثیت کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس کوشش کے پیچھے بڑی وجہ گذشتہ الیکشن ہیں تحصیل رینالہ خورد کے حلقہ این اے 145سے مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر سید عاشق حسین کرمانی ایم این اے اور پی پی 186سے ن لیگ کی ہی ٹکٹ پر چوہدری جاوید علاؤ الدین ایم پی اے جبکہ پی پی 185سے رائے عمر فاروق ن لیگ کی ہی ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے۔عاشق کرمانی نے کل 76000ووٹ حاصل کئے ان کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کا تعلق بھی اصل میں مسلم لیگ ن ہی سے تھا،سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کے بھتیجے ،وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد حیات خاں کے صاحبزادے رانا خضر حیات 33000ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے یہ آزاد حیثیت سے پہلی دفعہ سیاست میں انٹر ہوئے تھے تیسرے نمبر پر صمصام شاہ بخاری رہے یہ سابق وزیر مملکت بھی رہ چکے ہیں یہاں پر ووٹوں کی تعداد کا ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس الیکشن میں پی ٹی آئی کہیں نزدیک بھی نظر نہیں آئی ۔اب سابق وزیر مملکت صمصام شاہ بخاری اور سابق ایم این اے سید گلزار سبطین پی ٹی آئی جوائن کر چکے ہیں یہ ایم این اے کے الیکشن میں دو بڑے نام ہیں جن کا علاقے میں اپنا بھی ووٹ بینک موجود ہے اسطرح گذشتہ الیکشن میں پی پی 185سے سابق چیرمین بلدیہ ملک محمد اکرم بھٹی نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور وہ صرف جیتنے والے امیدوار سے تقریبا سو ووٹ پیچھے رہے وہ بھی اس بار پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اگر اس حوالے سے یہاں کی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو پچھلے الیکشن میں پی ٹی آئی کے پاس بہت کمزور امیدواران تھے جبکہ اس دفعہ ان کے پاس بہت ہی مضبوط امیدواران موجود ہیں بلکہ ان کو ٹکٹ بانٹنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ کس مضبوط امیدوار کو ٹکٹ دیں کیونکہ ان امیدواران کا ایک اچھا سیاسی بیک ورک موجود ہے۔یہاں میں ایک انتہائی اہم بات بھی سب کو بتانا چاہوں گا کہ گذشتہ الیکشن میں موجودہ ایم این اے سید عاشق شاہ کے بارے میں عوام میں یہ جملہ سننے کو مل رہا تھا کہ عاشق شاہ بری طرح شکست کھائے گا لوگوں کی نظریں رانا خضر اور صمصام بخاری کی طرف تھیں لیکن جب اینڈ آف دی ڈے رزلٹ آیا تو وہ ان امیدواران سے بہت آگے تھے اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو مسلم لیگ ن کے جیالے تھے انہوں نے عاشق شاہ کو ہی ووٹ دیا جبکہ جو جیالے نہیں تھے لیکن مسلم لیگی تھے انہوں نے رانا خضر کو ووٹ دیا جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار صمصام بخاری نے اپنے ذاتی تعلق سے ووٹ حاصل کئے اس کا مطلق یہ ہوا کہ یہاں صرف امیدواران کا ذاتی ووٹ بینک ہے یہ پھرن لیگ کا ووٹ بینک پی ٹی آئی کا ووٹ بینک بہت کم دیکھنے میں آیا ہے اگر پی ٹی آئی کے پاس صمصام شاہ بخاری ،ملک محمد اکرم بھٹی ،سید گلزار سبطین شاہ،مسعود شفقت ربیرہ ،راؤ عابد واجد ،مہر محمد جاوید بھونانہ جیسے امیدوار نہ ہوں تو اس دفعہ بھی پی ٹی آئی کے مقابلے کی فضاء بھی نظر نہ آئے پی ٹی آئی کے پاس یہ وہ امیدواران ہیں جن کا اپنا ایک مضبوط ووٹ بینک ہے ہر کسی کا اپنا ایک تجزیہ ہو سکتا ہے میں یہاں کی سیاست کو اپنی نظر سے دیکھ رہا ہوں اور میرے مطابق میں نے ن لیگ کے ووٹرز کو پہلے زندگی میں کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا جتنے اس دفعہ نظر آ رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو پچھلے الیکشن میں شوشل میڈیا پر ن لیگ کی پوسٹ بھی دیکھی ان دیکھی کر دیا کرتے تھے لیکن گالی گلوچ کی سیاست نے ان کو بھی اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ لوگ بھی اب شوشل میڈیا پر اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں اور اب ن لیگی ورکرز اور ووٹرز کو اس بات کا بھی شدید غصہ ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن تھا ایسی صورتحال میں نواز شریف کے ساتھ اچھا نہیں کیا گیا اس لئے اب نواز شریف کے پاس امیدوار کوئی بڑا ہو یا چھوٹا جیت اس دفعہ بھی ن لیگ کا ہی مقدر بنے گی ہاں اگر یہ الیکشن مشرف کے ریفرینڈم کی طرح کا ہوا یا پھر مسلم ق کے الیکشن کی طرح کا ہوا جس میں ہوائی ووٹ زیادہ کاسٹ ہوئے تو نتائج بالکل میرے تجزئیے سے الٹ ہو سکتے ہیں۔

رینالہ خورد

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...