عدالت عالیہ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفصیلات طلب کر لیں

عدالت عالیہ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفصیلات طلب کر لیں

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ کے فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن مقدمات کی دونوں پولیس فائلز کاریکارڈ اور عوامی تحریک کے شہیداورزخمی ہونے والوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔جسٹس محمد قاسم علی خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے کیس کی سماعت کی،پاکستان عوامی تحریک نے انسداددہشت گردی کی عدالت کی جانب سے میاں محمدنواز شریف ،میاں شہباز شریف سمیت 12حکومتی شخصیات کو استغاثہ میں طلب نہ کرنے کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ کے روبرو چیلنج کر رکھا ہے،عدالتی حکم پر سابق آئی جی مشتاق احمد سکھیرا پیش ہوئے ،پاکستان عوامی تحریک کے راہنماء خرم نواز گنڈا پور بھی عدالتی کمرہ عدالت میں موجود رہے ، سابق آئی جی مشتاق احمد سکھیرا کی جانب سے اعظم نذیر تارڑ نے اپنے دلائل مکمل کئے، اعظم نذیر تاررڑ ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ مدعیوں کی جانب سے درج کروائی گئی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دونوں ایف آئی آرز میں آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا کا نام شامل نہیں، مرضی کی تفتیش نہ ہونے پر ادارہ منہاج القران کے ڈائریکٹر جواد حامد کی جانب سے ایف آئی آرز کے اندراج کے 21ماہ بعد اے ٹی سی میں دائر ہونے والے استغاثہ میں بدنیتی سے آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا کا نام شامل کرلیا گیا۔ انسدادہشت گردی کی عدات نے ماڈل ٹاؤن کیس میں ان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باوجود انہیں طلبی کا نوٹس جاری کردیا ، سابق آئی جی مشتاق احمد سکھیرا کے وکیل نے استدعا کی کہ انسدادہشت گردی کی عدالت کے طلبی کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے ، عدالت نے کیس کی سماعت 24مئی تک ملتوی کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید احتشام قادر شاہ کو دلائل دینے کی ہدایت کی ہے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقدمات کی دونوں پولیس فائلوں کا ریکارڈ اور شہداء و زخمیوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں، عدالت نے سابق آئی جی مشتاق احمد سکھیرا کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن، گلو بٹ کے کیس کا ریکارڈ اور ادارہ منہاج القرآن پر بڑی تعداد میں پولیس تعیناتی پر بھی جواب مانگ لیاہے۔

مزید : صفحہ آخر