سیاست میں تشدد کا عنصر ٹھیک نہیں، ہمیں برداشت کا مادہ رکھنا چاہئے، ارکان قومی اسمبلی

سیاست میں تشدد کا عنصر ٹھیک نہیں، ہمیں برداشت کا مادہ رکھنا چاہئے، ارکان ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی ) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ جسم میں گولی یاد دلاتی رہے گی کہ نفرت کے بوئے گئے بیجوں کوسمیٹنے کی ضرورت ہے،، ہمیں انتہا پسندی رویے کہ خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے، یہ پارلیمنٹ کیلئے چیلنج ہے کہ ہمیں پاکستان کو کیسے انتہا پسندی سے بچانا ہے، اس ملک میں امن قائم اورنفرت کو ختم کرنا ہے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ بلاول بھٹو نے میرے خاندان سے اظہار یکجہتی کیا توان کی آنکھوں میں نمی تھی، دہشت گردی کے ناسور کے باعث بلاول کی ماں بھی شہید ہوئیں، عمران خان نے مجھے گلدستہ بھیجا جس پر ان کا شکر گزار ہوں، خوشی ہوتی یہ گلدستہ شیریں مزاری، شفقت محمود اور اسد عمر لے کر آتے جبکہ دکھ ہوا گلدستہ لے کر آنے والا شام کو ٹی وی پربیٹھ کرحملہ آور کا دفاع کررہا تھا۔احسن اقبال نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ انتہا پسندی کے رویے کی بیخ کنی کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو رنگ، نسل اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم سے بچاناہے جس کی جیب میں پاکستان کا شناختی کارڈ ہے وہ پاکستانی ہے۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ سیاست میں برداشت کا مادہ ختم ہو گیا ہے،میڈیا شو میں کوئی پانی پھینک دیتا ہے کوئی تھپڑ مار دیتا ہے لیکن مخالف کچھ بھی کہے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دینا چاہیے جبکہ یہ ادارہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اس لئے ہمیں برداشت کا مادہ رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دانیال عزیز اور نعیم الحق کے واقعہ کا پی ٹی آئی نے بھی سنجیدہ نوٹس لیا ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ ہمیں اس پارلیمنٹ کو اچھی روایات کے ساتھ ختم کرنا چاہیے اوراگرمیڈیا پرہماری یہ حالت ہے توعوام میں کیا ہو گا۔ شفقت محمود اور شیریں مزاری نے کہا کہ ہم تشدد والی سیاست کی حمایت نہیں کریں گے لیکن جب عابد شیر علی نے گالم گلوچ اور گندی زبان استعمال کی توکسی نے اس کی مذمت نہیں کی حالانکہ عابد شیر علی کو معافی مانگنی چاہیے تھی مگراس وقت مسلم لیگ(ن) کیوں چپ تھی۔شفقت محمود نے کہا کہ احسن اقبال کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا وہ تکلیف دہ تھا سب کو بہت دکھ ہوا تاہم سیاسی معاملات الگ ہیں اور اگر کسی نے غلط بات کی ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہم سب نے دانیال عزیز اور نعیم الحق کے درمیان ہونیوالے ناخوشگوار واقعہ کی مذمت کی ہے۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ آخر