ایک واقعہ کی دو ایف آئی آرز ایف نہیں جاسکتیں : سپریم کورٹ

ایک واقعہ کی دو ایف آئی آرز ایف نہیں جاسکتیں : سپریم کورٹ

اسلام آباد(صباح نیوز)عدالت عظمی نے قرار دیاہے کہ کسی ایک وقعہ کی دو ایف آئی آرز درج نہیں کی جاسکتیں۔ بدھ کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے لاہورمیں پولیس مقابلے میں قتل ہونے والے نوجوان کے مقدمہ میں محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایاہے فیصلہ میں عدالت نے فوجداری مقدمات میں پولیس کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی ایف آئی آر کے اندراج کے بعد دوسری ایف آئی آر رجسٹر کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ پولیس مقدمہ درج ہونے کے فوری بعد نامزد ملزم کی گرفتاری سے پہلے ابتدائی تفتیش کرے، عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ نامزد ملزم کیخلاف ٹھوس شواہد یا مواد آنے تک اسے گرفتار نہ کیا جائے۔عدالت نے کہا ہے کہ کسی واقعہ پر نیا موقف آنے پر نئی ایف آئی آر درج نہ کی جائے اور تحقیقات کے دوران تفتیشی افسر نیا پہلو سامنے آنے پر متعلقہ شخص کا بیان ریکارڈ کرے۔عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ واقعہ کے تمام پہلوں کی تحقیقات کرے۔ تفتیشی کی ذمہ داری ہے کہ وہ سچ کو سامنے لائے ۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ مقدمے کے اندراج کا مقصد سچ کو سامنے لا کر اصل ملزمان کو پکڑنا ہوتا ہے ۔عدالت نے کہا ہے کہ وقوعہ کی تحقیقات مکمل ہونے پر چالان ٹرائل کورٹ میں داخل کیا جائے۔عدالت نے ہدایت کی ہے کہ فیصلے کی نقول تمام پولیس سربراہان کو بھجوائی جائیں۔ تمام آئی جیز ملک بھر کے تھانوں کے افسران کو فیصلے سے آگاہ کریں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ آئی جیز عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل در آمد کو یقینی بنائیں ۔

مزید : صفحہ آخر