مجھے پیغام دیا گیا مستعفی ہو جاؤ یا طویل رخصت پرچلے جاؤ ، بد عنوانی مقدمات پرویز مشرف کیخلاف مقدمہ کی سزاہیں ، سر جھکاکر نوکری سے انکار کیا : نواز شریف

مجھے پیغام دیا گیا مستعفی ہو جاؤ یا طویل رخصت پرچلے جاؤ ، بد عنوانی مقدمات ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ دیسک ، نیوز ایجنسیاں ) سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کے قائد میاں نواز شریف نے احتساب عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اور بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اْن کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروانے کی سزا کے طور پر دائر کیے گئے۔ بدھ کو احتساب عدالت میں نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنا بیان مکمل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اْن کا جرم صرف وہی ہے جو اْنھوں نے20 سال پہلے کیا تھا۔میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ جب اْنھوں نے سنہ 2014 میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا تو بہت سے لوگوں نے اْنھیں دھمکی نما مشورہ دیا کہ یہ' بھاری پتھر' ان سے نہیں اْٹھایا جائے گا۔اْنھوں نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی کارروائی کو روکنے سے متعلق اْنھوں نے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا۔عدالت میں اپنا تیار شدہ بیان پڑھتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’سال 2013 کے اواخر میں غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا عمل شروع ہوتے ہی مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ آئین اپنی جگہ، جمہوریت کے تقاضے اپنی جگہ، پارلیمان کی بالادستی اپنی جگہ، قانون کی حکمرانی اپنی جگہ اور پاکستان کے عوام کا مینڈیٹ اپنی جگہ، لیکن ایک آمر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ شاید قانون اور انصاف کے سارے ہتھیار صرف اہل سیاسات کے لیے بنے ہیں۔ جابروں کا سامنا ہوتے ہی ان ہتھیاروں کی دھار کند ہو جاتی ہے اور فولاد بھی موم بن جاتا ہے۔'جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ایک منصوبے کے تحت خصوصی عدالت میں پیش ہونے کی بجائے راولپنڈی کے آرمڈ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں چلے گئے تھے۔'عدالتی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا رویہ کافی جارحانہ تھا۔ اْنھوں نے کہا کہ انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ججز ایک گھنٹے کے لیے بھی فوجی آمر کو جیل نہیں بھجوا سکے۔اْنھوں نے کہا کہ ججز نے ملزم پرویز مشرف کے عالی شان محل کو سب جیل قرار دیا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی قانون یا عدالت غداری کے مقدمے کے ملزم کو ہتھکڑی بھی نہ لگا سکی۔نواز شریف نے کہا کہ سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سنہ2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران عمران خان جو امپائر کی بات کرتے تھے تو وہ امپائر کون تھے۔نواز شریف نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ سال 2014 میں ہونے والے ان دھرنوں کا منصوبہ کیسے بنا۔’طاہر القادری اور عمران خان کیسے یکجا ہوئے؟ کس نے ان کے منہ میں وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ ڈالا اور کون چار ماہ تک مسلسل ان کی حوصلہ افزائی کرتا رہا؟ یہ باتیں اب کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں ہیں۔ عمران خان خود کھلے عام یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ بس ایمپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے۔ کون تھا وہ ایمپائر؟ وہ جو کوئی بھی تھا، اْس کی مکمل پشت پناہی ان دھرنوں کو حاصل تھی۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان دھرنوں کے دوران خفیہ ادارے کے سربراہ کی طرف سے اْنھیں یہ پیغام بھجوایا گیا کہ یا تو مستعفی ہو جائیں یا پھر طویل رخصت پر چلے جائیں۔’دھرنوں کے دوران مجھ پر لشکر کشی کی گئی جس کا مقصد تھا کہ مشرف پر غداری کا مقدہ قائم کرنے کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔ انھی دنوں ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کا پیغام مجھ تک پہنچایا گیا کہ میں مستعفی ہو جاؤں اور اگر یہ ممکن نہیں تو طویل رخصت پر چلا جاؤں۔مجھے اس پیغام سے بے حد دکھ پہنچا اور رنج ہوا کہ پاکستان کس حال کو پہنچ گیا ہے۔ عوام کے منتخب وزیر اعظم کی اتنی توقیر رہ گئی ہے کہ اس کے براہ راست ماتحت ادارے کا ملازم اپنے وزیر اعظم کو مستعفی یا رخصت پر جانے کا پیغام دے رہا ہے۔‘اْنھوں نے کہا کہ پرویز مشرف سے پوچھا جائے انھوں نے افواج پاکستان کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کیوں استعمال کیا؟سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دو چار جرنیل جمہوریت کا تختہ الٹیں اور خود اختیار میں بیٹھیں تو ان پر بھی سوال اٹھنا چاہیے۔ اْنھوں نے کہا کہ ایسے اقدام سے فوج کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔اْنھوں نے کہا کہ فوج کے اصل ہیرو وہ فرزند ہہیں جو اقتدار کی بجائے مورچوں میں ملک کی حفاظت کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔اْنھوں نے کہا کہ ملک میں جب بھی مارشل لگا تو اعلیٰ عدلیہ کے ججز نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے پی سی او پر حلف اْٹھائے۔میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ آمریتوں نے پاکستان کے وجود پر گہرے زخم لگائیاور ڈکٹیٹروں کو بھی آئین شکنی کی سزا ملنی چاہیے۔اْنھوں نے کہا کہ کیوں آج تک کسی بھی منتخب وزیراعظم کو اس کی آئنی مدت پوری کیوں نہیں کرنے دی گئی۔میاں نواز شریف نے احتساب عدالت کے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کاش وہ سابق وزرائے اعظم لیاقت علی خان ، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی روحوں کو عدالت میں طلب کرسکتے اور اْن سے پوچھتے کہ اْن کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا۔اْنھوں نے کہا کہ مجھے بے دخل کرنے اور نااہل قرار دینے والے کچھ لوگوں کو تسکین مل گئی ہو گی۔ اْنھوں نے کہا کہ کچھ افراد کی طرف سے اْنھیں عمر بھر کے لیے نااہل قرار دینا اور سیاست سے آؤٹ کرنا ہی اس کا واحد حل سمجھا گیا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اْنھیں سپریم کورٹ کے ججز کی طرف سے سیسلین مافیا اور گارڈ فادر کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اْنھوں نے کہا کہ میں پاکستان کا بیٹا ہوں اس مٹی کا ایک ایک ذرہ جان سے پیارا ہے اور اس بارے میں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا اپنی توہین سمجھتا ہوں۔نواز شریف نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیرسے سوال کیا کہ کیاا سپریم کورٹ کے ان ججوں کو جو میرے خلاف فیصلہ دے چکے ہوں بینچ کا حصہ ہوں مانیٹرنگ جج لگایا جاسکتا ہے جس پر احتساب عدالت کے جج نے سابق وزیر اعظم سے کہا کہ وہ ہ سوال ان جج صیاحبان سے پوچھیں۔نواز شریف نے احتساب عدالت کے جج پر ایک اور سوال داغا کہ کیا کسی سپریم کورٹ کے بینچ نے جے آئی ٹی کی نگرانی کی اور کیا کسی نے اقامے پر مجھے نااہل کرنے کیدرخواست دی تھی جس پر جج کا وہی جواب تھا کہ وہ یہ سوال اْنہی جج صاحبان سے ہی پوچھیں۔نواز شریف نے کہا کہ فیصلے پہلے ہوجائیں تو ایسی ہی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ اْنھوں نے کہا کہ ایسے فیصلے عدلہہ کے احترام اور عوام کے حق میں ٹھیک نہیں ہیں۔عدالت کے سامنے اپنے دس سوالات رکھتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مجھے آج تک ان کے جوابات نہیں ملے لیکن میں انھیں اس لیے دہرا رہا ہوں تاکہ آپ ان پر ضرور غور کریں اور سوچیں کہ یہ پر اسرار کہانی کیا کہ رہی ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے خلاف دائر ہونے والے مقدمات میں بدعنوانی تو ابھی تک ثابت نہیں ہوئی البتہ ان ریفرنس میں ناانصافی ضرور نظر آتی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ قوم اور ملک کا مفاد مجھے اس سے زیادہ کچھ کہنے کی اجازت نہیں دے رہا جس کے بعد سابق وزیر اعظم نے اپنا بیان ختم کردیا۔واضح رہے کہ عدالت کی طرف سے سابق وزیر اعظم سے128 سوالات کیے گئے تھے جن کا جواب تین روز کی عدالتی کارروائی کے دوران دیا گیا۔بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ 2014کے دھرنوں کا مقصد مجھے دباؤ میں لانا تھا میں مسلح افواج کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، فوج کی کمزوری ملکی دفاع کی کمزوری ہوتی ہے، قابل فخر ہیں وہ بہادر سپوت جو سرحدوں پر فرائض انجام دے رہے ہیں، سرحدوں پر ڈٹے ہوئے سپوت ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کردیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین شکنی یا اقتدار پر قبضے کا فیصلہ ایک یا دو جرنیل کرتے ہیں اس کی لذتیں مٹھی بھر جرنیلوں کے حصے میں آتی ہیں لیکن اس کی قیمت پوری مسلح افواج کو ادا کرنا پڑتی ہے۔نوازشریف کا کہنا تھاکہ مشرف غداری کیس قائم کرتے ہی مشکلات اور دباؤ بڑھادیا گیا، مجھے دھمکی نما مشورہ دیا گیا کہ بھاری پتھر اٹھانے کا ارادہ ترک کردو، بذریعہ زرداری پیغام دیاکہ مشرف کے دوسرے مارشل لاء کو پارلیمانی توثیق دی جائے، میں نے مشرف کے دوسرے مارشل لاء کوپارلیمانی توثیق دینے سے انکار کیا، آصف زرداری نے مصلحت سے کام لینے کا کہا، وہ میرے پاس ایک قومی لیڈر کے ساتھ آئے تھے۔، منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ میں دباؤ میں آجاؤں گا، کہا گیا وزیراعظم کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے باہر لائیں گے، مقصدتھا مجھے پی ایم ہاؤس سے نکا ل دیں، مشرف کے خلاف کارروائی آگے نہ بڑھے، پی ٹی وی، پارلیمنٹ، وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر فسادی عناصر سے کچھ محفوظ نہ رہا، پاناما میں عالمی لیڈرز کا نام بھی تھا،کتنے سربراہان کو معزول کیا گیا؟ پاکستان میں یہ کارروائی جس شخص کے خلاف ہوئی اس کانام نواز شریف ہے، نواز شریف کا نام پاناما میں نہیں تھا۔ میاں نوازشریف نے کہا کہ میں نے قوم کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، جب بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا پتا چلا تو بلا تاخیر اس وقت کے آرمی چیف اور حکام کوہدایت دی کہ 17دن میں دھماکوں کی تیاری کریں، ایٹمی دھماکے نہ کرنے پرمجھے 5ارب ڈالرکا لالچ دیا گیا، آج بھی وہ ٹیپ دفتر خارجہ میں موجود ہوں گی، میں نے وہی کیا جو پاکستان کے وقار اور مفاد میں تھا، پاکستان کی عزت اربوں کھربوں سے زیادہ عزیز تھی، ایٹمی دھماکے نہ کیے جاتے تو بھارت کی عسکری بالادستی قائم ہوجاتی۔انہوں نے کہاکہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ قوم کو وہ پاکستان دیا جو زندگی کے ہر شعبے میں 2013 کے پاکستان کے مقابلے میں زیادہ روشن مستحکم توانا تھا، یہ اس ملک کے دانشوروں اور مبصرین نے دیکھنا ہے کہ 28 جولائی کے فیصلے نے اس پاکستان اور عوام کو کیا دیا، معیشت، توانائی اور انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کتنا نقصان پہنچایا، ملک میں سیاسی عدم استحکام کو کتنی ہوا دی، ممکن ہے مجھے حکومت سے بے دخل کرنے سے کچھ لوگوں کی تسکین ہوگئی ہے لیکن کوئی بتا سکتا ہے کہ ملک کی جمہوریت، آئینی نظام اور احترام کو کیا ملا۔نوازشریف کا کہنا تھاکہ میں نے سرجھکا کرنوکری کرنے سے انکار کردیا، میں نے اپنے گھر کی خبر لینے اور حالات ٹھیک کرنے پر اصرار کیا، میں نے خارجہ پالیسی کوقومی مفاد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی، سابق وزیراعظم نے کہا کہ چونکہ پاکستان کے عوام مجھ سے محبت کرتے ہیں، مجھے ووٹ دیتے ہیں اور وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھاتے ہیں اس لیے میں نا معتوب شخص قرار پایا، کبھی آئینی معیاد پوری نہیں کرنے دی گئی، سبق سکھانے کے لیے قید کیا گیا، کال کوٹھریوں میں ڈال دیا گیا، ہائی جیکر قرار دے کر عمر قید کی سزا دی گئی، خطرناک مجرموں کی طرح ہتھکڑی ڈال کر جہاز کی سیٹ سے باندھ دیا گیا، ہر ممکن تذلیل کی گئی، ملک سے جلا وطن کیا گیا، جائیدادیں ضبط کی گئیں اور گھروں پر قبضہ جمالیاگیا، جب ساری پابندیا ں توڑ کر واپس آیا تو ہوائی اڈے سے ہی ایک بار پھر ملک بدر کردیا گیا۔نوازشریف کا کہنا تھاکہ کیا آج سے 19 سال قبل یہ سب کچھ پاناما کی وجہ سے ہورہا تھا، کیا میرے ساتھ یہ سلوک لندن فلیٹ کی وجہ سے کیا جارہا تھا، نہیں جناب والا، 19، 20 سال پہلے بھی قصور وہی تھا جو آج ہے، نہ اس وقت کسی پاناما کا وجود تھا نہ آج کسی پاناما کا وجود ہے، اس وقت بھی میں عوام کی حاکمیت اور حقیقی جمہوریت کی بات کررہا تھا اور آج بھی یہی کہہ رہاہوں، اس وقت بھی کہا تھا کہ داخلی و خارجی پالیسیوں کی باگ ڈور متنخب عوام کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، آج بھی کہتا ہوں فیصلے وہی کریں جنہیں عوام نے فیصلے کا اختیار دیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے دفاع میں شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں، میں نے اپنے اقتدار اور ذات کو خطرے میں ڈالا کہ ڈکٹیٹر کو اس کے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ ہے میرے اصل جرائم کا خلاصہ، اس طرح کے جرائم اور مجرم پاکستانی تاریخ میں جابجا ملیں گے، کاش آج آپ یہاں لیاقت علی خان اور ذوالفقار علی بھٹو کی روح کوطلب کرسکتے، ان سے پوچھ سکتے کہ آپ کیساتھ کیا ہوا، کاش آپ سینئر ججز کو بلاکر پوچھ سکتے کہ وہ کیوں ہرمارشل لاء کو خوش آمدید کہتے رہے، کاش آج آپ ایک زندہ جرنیل کو بلاکر پوچھ سکتے کہ اس نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیوں کیا؟نوازشریف نے کہاکہ عدالتی فیصلے کے حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتا، فیصلے میں شروع سے آخر تک بدعنوانی کسی کو نظر نہیں آئی، نا انصافی ہر ایک کو نظر آرہی ہے، گواہ میرے خلاف ادنیٰ ثبوت بھی پیش نہ کرسکے، عملاً میرے مؤقف کی تائید ہوئی، استغا ثہ میرے خلاف کیس ثابت نہیں کرسکا، مجھے اپنے دفاع میں شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں، اب تک ریفرنسز کی حقیقت آپ پرکھل چکی ہوگی۔بدھ کو احتساب عدالت میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا کہ دانیال عزیز کو تھپڑ مارنا افسوسناک عمل ہے، یہ پی ٹی آئی کا کلچر ہے اور اس کے ذمہ دار عمران خان ہیں، خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے ارکان گتھم گتھا ہوتے رہے، ایک ایک کر کے ان کے سارے پول کھل رہے ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف تو پہلے بھی پلان دے چکی ہے اس نے کیا عمل کیا؟ سوائے دھرنوں اور ایمپائر کی انگلی کی طرف دیکھنے کے انہوں نے کیا کیا؟ وہ صوبے میں اپنا کوئی ایک قابل ذکر کارنامہ بتا دیں،انہوں نے کہا تھا کہ 300 ڈیم بنائیں گے کہاں ہیں وہ ڈیم؟ کہاں ہیں درخت جو انہوں نے لگانے کا کہا تھا ؟ 50 ہزار میگا واٹ بجلی کہاں ہے جو پی ٹی آئی نے بنانے کا کہا تھا،کہاں ہے نیا پاکستان، کہاں ہے نیا خیبر پختونخوا؟ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا تو جنوبی پنجاب سے بھی پیچھے ہے۔پارٹی بیانیے سے متعلق سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہر چیز نوٹ کی جا رہی ہے لیکن قوم بھی ہر چیز نوٹ کر رہی ہے، پوری قوم میرے بیانیے سے متفق ہے، اگلا الیکشن ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر ہو گا، اب تو جلسوں میں لوگ مجھے کہتے ہیں ہم نعرہ لگائیں گے ووٹ کو اور تم کہنا عزت دو۔

نوازشریف

اٹک (نمائندہ پاکستان)سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)کے قائد نوازشریف نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے تم جھوٹ بولتے اور منافقت کرتے ہو،کے پی کے کے لوگوں کو دھوکہ دیا، تمہارا پول کھل گیا ہے، ایک نیا پاکستان بن رہا تھا، نوازشریف کو نکال کر پاکستان میں ترقی کی پہیہ روک لیا گیا ،بیس بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کر کے چلے جانیوالوں کو کوئی نہیں پوچھتا ، پا کستا ن میں ووٹ کو عزت دینگے اور عزت کروائیں گے ۔ بدھ کومسلم لیگ (ن)کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاآج اٹک میں بہار آئی ہے، اٹک گونج رہا ہے، آپ کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں ۔میں نو جوانوں کو دیکھ رہا ہوں، نوازشریف دن رات ان نو جوانوں کے روشن مستقبل کیلئے کام کررہا تھا اور یکا یک کام سے ہٹا دیا ، یہ نہیں دیکھا گیا نوازشریف نے چار سالوں میں کیا کیا ؟2013کو یاد کرو، کیا اٹک میں بجلی آتی تھی ؟ کتنے کتنے گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی ؟ اٹھارہ سے بیس گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی ٗ کہاں لوڈشیڈنگ بھاگ گئی ٗ اب بجلی آگئی ہے اور ہم بجلی کو سستا بھی کر ینگے،اٹک ضلع میں سڑکوں کا جال بچھا دیا ہے ۔ وہ کہتے تھے نیا کے پی کے بنائیں گے نیا بنانے سے پہلے اٹک کو آکر دیکھ لیں، تم نے کے پی کے لوگوں کو دھوکہ دیا ٗ ظلم اور زیادتی کی ہے ٗ آج پرانا کے پی کے نظر آ ر ہا ہے ٗ آپ اس کو اثار قدیمہ بنا رہے ہو ٗ جھوٹ بولتے ہو ٗ منافقت کرتے ہو ٗ تمہارا پول کھل گیا ہے ٗ مسلم لیگ (ن) اور نوازشریف سرخرو ہیں ٗ کہتے تھے نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے نکالیں گے یہ بالکل زیرو ہو جائے ٗ کہتے ہیں نوازشریف کو نواز لیگ کی صدارت سے نکالیں گے ٗ یہ زیرو ہو جائے ٗ کہتے تھے نوازشریف کو زندگی بھر کیلئے نا اہل کریں گے تو یہ زیرو ہو جائیگا ٗ یہ سب لوگ ٗمیرے ساتھی او دوست آج ووٹ کو عز ت دو کی باتیں کررہے ہیں۔نوازشریف نے کہا اٹک کے ارد گر د یہاں موٹر وے بن رہے ہیں ٗ حقلہ سے ڈیرہ اسماعیل تک موٹر وے بن رہی ہے اور یہ ژوب اور کوئٹہ تک جائیگی ،جنہوں نے اسلام آباد سے کوئٹہ جانا ہوگا وہ اسی موٹر وے سے جائیں گے ۔ موٹر وے مانسہرہ تک جائیگی ٗ چائنہ پاکستان کے بارڈر تک جائیگی ٗ پشاور سے اسلام آباد اور لاہور تک موٹر وے پہلے سے موجود ہے اور ابھی لاہور سے کراچی موٹر وے بن رہی ہے ٗ ملتان تک موٹر وے تیار ہوگئی ہے ،ایک نیا پاکستان بن رہا تھا آپ نے نوازشریف کو نکال کر پاکستان میں ترقی کی پہیہ روک لیا ہے۔ شیخ آفتاب احمد میرے پرانے اور مخلص دوست ہیں ٗان کا میرا بڑا پکا رشتہ ہے ٗ اٹک والوں سے جیل کا رشتہ ہے مجھے اٹک کے قلعہ میں بند کر دیا گیا ٗ چودہ ماہ اٹک اور کراچی کی جیلوں میں بند رکھا گیا ۔نوازشریف نے کہا میں آپ کی خدمت کررہا تھا ، ووٹ کو عزت دینی اور کرانی بھی ہے ، میں یہاں آؤ ں یا نہ آؤں ووٹ کو عزت دلوائینگے ۔جلسے کے دوران نو جوانوں نے نوازشریف کے حق میں لو یوکے نعرے لگائے جس کے جواب میں نوازشریف نے میں بھی تم سے پیار کرتا ہوں ۔آخر میں نوازشریف نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے بھی لگوائے ۔سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا میاں صاحب نے بتا دیا ہے مجھے کیوں نکلا ؟یہ بھی بتایا کس نے نکالا ؟نوازشریف کو تاحیات نا اہل کر نے ٗ پارٹی صدارت سے ہٹانے اور وزیر اعظم ہاؤس سے نکالنے کے بعد بھی عوام کی محبت کم نہیں ہوئی ہے ٗ جتنی مرضی لوٹے بنالیں ٗ عوام پارٹی نہیں چھوڑتے ووٹ دیتے ہیں۔ میں اٹھارہ سال بعد اٹک آئی ہوں ٗایک طرف میاں صاحب کو مشرف نے اٹک قلعہ میں قید کیا تھا ٗ دوسری طرف میرا بھائی اٹک جیل میں قید تھا ٗ ایک دفعہ میاں صاحب سے ملاقات ہوتی تھی اور پھر بھائی سے ہوتی تھی ہم تھکے ہارے جیل کے باہر دو دو گھنٹے انتظار کرتے تھے ۔ سزائے موت کے قیدیوں کو زنجیریں لگی ہوئی تھیں اور سزائے موت کے قیدیوں کو ہمارے ساتھ بٹھایا جاتا تو پھر بعد میں آدھا گھنٹا ملاقات ہوتی تھی اس وقت بھی اٹک والوں نے ہماری میزبانی کی تھی ۔ شیخ آفتاب نے اس وقت اپنے لیڈر کا ساتھ دیا اور وفا داری نبھائی تھی ۔ نوازشریف اٹھارہ سال پہلے اٹک کے قلعہ کے اندر آپ سے محبت کر نے کی سزا بھگت رہا تھا ٗاس وقت بھی آپ کے ووٹ کو جھکنے نہیں دیا ٗ ووٹ کی پرچی کو روندنے نہیں دیا گیا ، مشرف اور اس وقت کے چند جرنیلوں نے کہا استعفیٰ دے دو میں نے صاحب نے کہا استعفیٰ نہیں دینگے تب بھی ا نہو ں نے آپ سے محبت کی ٗ آپ سے کمٹمنٹ کی سزا بھگتی تھی آج بھی نیب کورٹ میں میاں صاحب روزے کی حالت میں نو بجے سے ایک بجے تک متواتر اپنا بیان ریکار ڈ کرواتے ہیں ۔

نواز، مریم

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...