ایون فیلڈ ریفرنس،نواز شریف نے 128 سوالات کے جواب دیدئیے

ایون فیلڈ ریفرنس،نواز شریف نے 128 سوالات کے جواب دیدئیے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف نے تمام 128 سوالات کے جواب دیدیے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نے عدالت کی جانب سے پوچھے گئے تمام 128 سوالات کے جواب دے دیے۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات کے جواب تین سماعتوں کے دوران دیے۔نواز شریف نے پہلے روز 55، دوسرے روز 68 اور تیسرے روز 5 سوالات کے جواب دیے، سابق وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر عدالت میں کہا کہ تین ریفرنسز کو ایک نہ کرنے سے میرا بنیادی حق متاثر ہوا، آج بھی مؤقف ہے کہ یہ ایک ہی ریفرنس بنتا تھا لیکن آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس بنایا گیا۔نواز شریف نے کہا کہ تین ریفرنسز کو ایک کرنے کی میری درخواست مسترد کی گئی جبکہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے میں یہ واضح غلطی رہ گئی تھی۔ احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران نواز شریف نے جیو نیوز کے پروگرام 'آپس کی بات' میں گزشتہ روز پیش آئے واقعے کا ذکر کیا، جس میں تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے چور کہنے پر وفاقی وزیر دانیال عزیز کو تھپڑ دے مارا تھا۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تھپڑ مار کلچر تحریک انصاف کا کلچر ہے جس کے ذمہ دار عمران خان ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کے ممبران گتھم گتھا ہوتے رہے، ایک ایک کر کے پی ٹی آئی کے سارے پول کھل رہے ہیں۔صحافی نے سوال کیا ' تحریک انصاف نے سو دن کا پلان دیا ہے، کیا کہیں گے؟ اس پر نواز شریف نے کہا کہ وہ پہلے بھی دے چکے ہیں لیکن عمل کیا کیا، پی ٹی آئی نے کہا تھا 300 ڈیم بنائیں گے، کہاں ہیں ڈیم؟ اور کہاں ہیں وہ درخت جو کہے تھے لگائیں گے'۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا '50 ہزار میگا واٹ بجلی کہاں ہے جو تحریک انصاف نے کہا تھا اور کہاں ہے نیا پاکستان، کہاں ہے نیا خیبرپختونخوا؟۔نواز شریف نے کہا کہ یو این ڈی پی کی رپورٹ کہہ رہی ہے کہ خیبرپختونخوا جنوبی پنجاب سے بھی پیچھے ہے، کے پی کا موازنہ جنوبی پنجاب سے کر کے دیکھ لیں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میڈیا کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، یہ افسوسناک عمل ہے، ہر چیز نوٹ کی جا رہی ہے اور یاد رہے قوم بھی ہر چیز نوٹ کر رہی ہے۔صحافی کا سوال 'اگلا الیکشن کس نعرے پر ہو گا؟ کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اگلا الیکشن "ووٹ کو عزت دو" کے نعرے پر ہوگا، اب تو لوگ مجھے کہتے ہیں ہم نعرہ لگائیں گے "ووٹ کو" اور تم کہنا "عزت دو"۔صحافی نے ایک اور سوال کیا کہ 'آپ کی پارٹی آپ کے بیانیے سے متفق ہے؟ جس پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری قوم میرے بیانیے سے متفق ہے۔قبل ازیں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی جانب سے پانچ سوالوں کا جواب دیگر دو ریفرنسز میں استغاثہ کے گواہوں کے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ریکارڈ کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔ نوازشریف کی جانب سے درخواست میں کہا گیا کہ پانچ رہ جانے والے سوالوں کا جواب العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس اور فلیگ شپ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات مکمل کرنے کے بعد ریکارڈ کرے تاہم نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے نوازشریف کی درخواست کی مخالفت کی گئی جس پر احتساب عدالت نے نوازشریف کی درخواست مسترد کر دی اور پھر نوازشریف نے پانچ سوالات کا جواب ریکارڈ کروا دیا۔

مزید : صفحہ اول