عوام انتظار میں ہیں سپریم کورٹ پانامہ لیکس کے باقی لوگوں کو کب بلائے گی: سراج الحق

عوام انتظار میں ہیں سپریم کورٹ پانامہ لیکس کے باقی لوگوں کو کب بلائے گی: سراج ...

لاہور ( این این آئی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ عوام انتظار میں ہیں کہ سپریم کورٹ پانامہ لیکس کے باقی لوگوں کو کب بلائے گی،جب تک پانامہ دبئی ،لندن لیکس اور بینکوں سے قرضے لیکر ہڑپ کرنے اور قومی دولت لوٹ کر بیرونی بینکوں میں منتقل کرنے والوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاتا عوام مطمئن نہیں ہونگے،موجودہ سیاستدانوں نے ایوانوں کے دروازے عام آدمی پر بند کردیے ہیں او رتمام پارٹیاں الیکٹیبلزکو قابو کرنے کی دوڑ میں ہیں،عوام آئندہ انتخابات میں ان نام نہاد سیاستدانوں کو مسترد کردیں،ملک و قوم کوآج جن گھمبیر مسائل کا سامنا ہے ان کو پیدا کرنے میں انہی لوگوں کا ہاتھ ہے جو سیاست کو تجارت سمجھتے ہیں اوردولت کے بل بوتے پر اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہوجاتے ہیں۔یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں،عالمی اسٹیبلشمنٹ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے اور ایک مہر ہ پٹ جائے تودوسرے گھوڑے پر کاٹھی ڈال لیتی ہے۔آئندہ انتخابات میں ایم ایم اے ایسے مہروں کا راستہ روکے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دیر کی تحصیل منڈا میں افطار ڈنر کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قوم احتساب کا ایسا خود کار نظام چاہتی ہے کہ کسی کو قومی امانتوں میں خیانت کی جرات نہ ہو اور اگر کوئی بدیانتی اورکرپشن کا مرتکب ہو تو وہ قانون کے شکنجے سے بچ نہ سکے۔انہوں نے کہاکہ جب تک پانامہ لیکس کے دیگر 436لوگوں کو عدالت طلب نہیں کرتی عوام کے اندر مایوسی اور بے یقینی رہے گی۔اب تک اس معاملے کو نپٹ جانا چاہیے تھا مگر حقیقی احتساب جس کا قوم کو انتظار تھا وہ بدقسمتی سے ابھی تک شروع نہیں ہوسکا۔محض ایک فرد یا خاندان کے احتساب سے محاسبہ کا وہ کلچر فروغ نہیں پائے گا جس کی عوام امیدلگائے بیٹھے تھے۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر