تحریک انصاف کو خود سے ہی خطرہ ، امید وار علیم خان پر مشتمل بورڈ کو انٹر ویو دینے سے انکار ی

تحریک انصاف کو خود سے ہی خطرہ ، امید وار علیم خان پر مشتمل بورڈ کو انٹر ویو ...

لاہور (ن م )تحریک انصاف کو آئندہ انتخابات میں اپنے آپ سے ہی خطرہ ہے اور اس امر کا غالب امکان ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار اپنی ہی جماعت کے امیدواروں سے ٹکرائیں گے۔ الیکشن سے قبل ہی جو صورتحال بنتی دکھائی دے رہی ہے، وہ ٹکراؤ کی نئی قسم ہے۔ دو روز قبل اسلام آباد میں ہونیوالے پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس میں سینئر رہنماؤں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی میں جو تلخ کلامی ہوئی، اگرچہ قائد تحریک عمران خان نے معاملہ رفع دفع کروا دیا، لیکن اس کی بازگشت مختلف مرحلوں پر تاحال سنائی دے رہی ہے۔ منگل 22 مئی کو لاہور میں سیالکوٹ اور گرد و نواح سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے کے خواہشمندوں کا جو اجلاس طلب کیا گیا اور انہیں پارلیمانی بورڈ کے سامنے انٹرویو کیلئے پیش کیا گیا، وہاں بھی کئی بار پارٹی کے اندر گروپنگ (پارٹی ود۔ ان پارٹی) کی خبریں سننے کو ملتی رہیں اور ایک اہم اختلافی نقطہ یہ سامنے آیا کہ لاہور سے الیکشن میں حصہ لینے کے خواہشمند پارٹی رہنماؤں (جو پہلے بھی صوبائی دارالحکومت سے پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑ یا جیت چکے ہیں) نے پی ٹی آئی کے صوبائی صدر عبدالعلیم خان کی سربراہی میں قائم پارلیمانی بورڈ کے سامنے پیش ہونے یا انٹرویو دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان میں شفقت محمود، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر شامل ہیں۔ اس طرح کی صورتحال روز بروز بگڑتی معلوم ہوتی ہے اور محسوس ہو رہا ہے کہ جوق در جوق اور قطار اندر قطار تحریک انصاف میں شامل ہونیوالے رہنماؤں کو ٹکٹوں کے حصول میں جس قدر پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس سے کہیں زیادہ پارٹی قیادت الجھاؤ کا شکار ہوگی۔ جن امیدواروں نے پارلیمانی بورڈ کو انٹرویو دینے سے معذوری ظاہر کی ہے، انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ نیا پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا جائے، جس میں سینئر اور غیر جانبدار سنجیدہ سیاستدان شامل ہوں۔ ان میں سے بیشتر کا یہ اعتراض بھی ہے کہ مینار پاکستان لاہور پر حال ہی میں ہونیوالے جلسے میں امیدواروں سے چندے کے نام پر جو کروڑوں روپے اکٹھے کئے گئے ہیں، اس کا بھی آڈٹ ہونا چاہئے۔ ان رہنماؤں کا موقف ہے کہ ایم این اے کے امیدوار سے پانچ لاکھ اور ایم پی اے کے امیدوار سے دو دو لاکھ روپے اکٹھے کئے گئے، اس کا حساب کتاب ہونا چاہئے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصا ف میں آنیوالی سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان مینار پاکستان جلسے کے موقع پر بیرون ملک تھیں، انہیں وہاں رابطہ کرکے پانچ لاکھ روپے منگوائے گئے۔ موجودہ صورتحال کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

پارٹی کے اندر پارٹی

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...