ننکانہ صاحب،تحریک انصاف کی ٹکٹوں کیلئے امیدواروں میں گھمسان کا رن

ننکانہ صاحب،تحریک انصاف کی ٹکٹوں کیلئے امیدواروں میں گھمسان کا رن

واربرٹن(ملک عثمان سندرانہ سے) ننکانہ صاحب کے حلقہ این اے 117اور دوصوبائی حلقوں پی پی 131اورپی پی132 میں تحریک انصاف کے امیدوار ٹکٹوں کے حصول کیلئے آمنے سامنے آ گئے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 117 آبادی کے تناسب سے 6لاکھ 82ہزار 338افراد پر مشتمل ہے جس میں تین میونسپل کمیٹیاں سانگلہ ہل، شاہکوٹ اور واربرٹن کے علاوہ 130سے زائد دیہات شامل ہیں۔نئی حلقہ بندیوں کے بعد حلقہ این اے 117 ننکانہ صاحب سے مسلم لیگ نوازکے امیدوارچودھری برجیس طاہر اورآزاد امیدوارچودھری طارق محمود باجوہ دوڑ میں شامل ہیں۔ننکانہ صاحب کے حلقہ این اے 117 اور 2 صوبائی حلقوں پی پی 131،پی پی 132 کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے 10سے زائد امیدواروں نے ٹکٹ کے حصول کیلئے پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے سیکرٹریٹ لاہور میں انٹرویو دیئے۔ پاکستان تحریک انصاف سنٹر ل پنجاب عبدالعلیم خان اورسینئر نائب صدر شعیب صدیقی کو انٹرویو دینے والوں میں این اے 117سے چوہدری محمد ارشد ساہی،شاہد منظور گل،الحاج ملک محمد اعظم،محمد شہباز بھٹی،شفقت رسول گھمن،چوہدری شہریار ورک اور پی پی 131سے سا بق تحصیل ناظم چوہدری طاہر منیرچیمہ،چوہدری طارق سعید گھمن،احسن رضا واہگہ،حاجی ارشد نذیر،محمد اکرم بھٹہ،محمد شہباز بھٹی،سجاد حیدر رندھاواجبکہ پی پی 132 سے جوائنٹ سیکرٹری سنٹرل پنجاب چوہدری نوشیر مان، میاں محمد عاطف،چوہدری شہریار ورک،طاہر منظور گل،رائے محمد ذوالقرنین کھرل،چوہدری وقاص احمد ورک ،اورشہزاد خالد مون خان شامل تھے۔حلقہ پی پی 132میں مسلم لیگ نواز سے الحاج رانا محمد ارشدالیکشن لڑیں گے اور پاکستان پیپلز پارٹی سے ایڈووکیٹ رانا علی امیر جوئیہ امیدوار ہونگے۔ سیاسی بصیرت رکھنے والے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو الیکشن لڑنے کی نیت سے پی ٹی آئی میں شامل ہوا ہے اسے ٹکٹ نہ ملا تو وہ علاقائی سیاست سے آؤٹ ہو جائے گا جبکہ ایک ہی حلقہ سے کم و بیش دس دس امیدوار پارٹی ٹکٹ کے خواہش مند ہے اور یہ امر تقویت پکڑتا جا رہا ہے کہ جس امیدوار کو ٹکٹ نہیں ملے گا، وہ مخالف کھڑا ہو جائے گا یا مخالفت پر اتر آئے گا۔ اگرچہ اس بات سے بچنے کیلئے تحریک انصاف نے ٹکٹ کے خواہش مند امیدواروں اور پارٹی رہنماؤں سے پیشگی حلف لیے ہیں کہ اگر انہیں پارٹی ٹکٹ نہ ملا تو وہ جماعت نہیں چھوڑیں گے، آزاد حیثیت میں الیکشن نہیں لڑیں گے، کسی دوسری سیاسی جماعت کے ٹکٹ کے حصول کیلئے کوشش نہیں کریں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار کی مخالفت بھی نہیں کریں گے لیکن سیاست میں عملاً ایسا ممکن نہیں کیونکہ حلف دینے کے باوجود بھی سیاست دان اس سے منحرف ہو جاتے ہیں اور ماضی میں اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں جبکہ پاکستانی سیاست میں سچ بولنے کا رواج بہت کم ہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...