جہانگیر ترین کی حکمت عملی ، کامیابی بذریعہ جنوبی پنجاب کیا رنگ لائیگی ؟

جہانگیر ترین کی حکمت عملی ، کامیابی بذریعہ جنوبی پنجاب کیا رنگ لائیگی ؟
جہانگیر ترین کی حکمت عملی ، کامیابی بذریعہ جنوبی پنجاب کیا رنگ لائیگی ؟

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

ویسے تو تحریک انصاف میں گروہ بندی کا اعتراف خود عمران خان بھی عام جلسے میں کر چکے ہیں جہاں انہوں نے خود تسلیم کیا کہ پارٹی کے اندر چھ گروپ ہیں لیکن پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے درمیان جو جھڑپ ہوئی، اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پارٹی کے اندر گروپ بندی کہاں تک پھیلی ہوئی ہے۔ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کا تعلق آج کے محاورے میں جنوبی پنجاب سے ہے اور ان دنوں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے جو ارکان قومی و صوبائی اسمبلی تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں، اس کا سہرا جہانگیر ترین کے سر بندھتا ہے، جن کا بیٹا اگرچہ لودھران میں ان کی جیتی ہوئی نشست ہار گیا تھا تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ اس وقت جو بھی ارکان تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں وہ ان کی کوششوں کا ثمر ہے لیکن عمران خان کی موجودگی میں ان کے اور شاہ محمود قریشی کے درمیان جو جھڑپ ہوئی اس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ جہانگیر ترین کی ان کوششوں کا کریڈٹ شاہ محمود قریشی چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاہ صاحب بہت نستعلیق شخصیت ہیں اور بات کرتے ہوئے حفظ مراتب کا لحاظ رکھتے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے اجلاس میں جہانگیر ترین کا براہ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ انہوں نے تو رائے حسن نواز کا ذکر کیا تھا جو قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے نااہل قرار پا چکے ہیں تاہم ان کے پاس کوئی پارٹی عہدہ ہے اور وہ اس حیثیت میں اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ شاہ محمود کا کہنا تھا کہ وہ نااہل ہیں اس لئے ان کے اقدامات پر کل کو اعتراض ہو سکتے ہیں۔ اس لئے اس سلسلے میں احتیاط برتنی چاہئے۔ کہنے کو تو شاہ محمود نے یہ بات رائے حسن نواز سے کہی لیکن اس کا ہدف جہانگیر ترین یوں بنتے تھے کہ نااہل تو وہ بھی ہو چکے ہیں تاہم پارٹی پالیٹکس میں اب بھی چھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے شاہ محمود کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، بالواسطہ طور پر انہی کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے پارٹی کے لئے اپنی خدمات گنوانا شروع کر دیں اور کہا کہ وہ پارٹی پر خرچ کر رہے ہیں۔ جہانگیر ترین کی پارٹی میں کیا حیثیت ہے اور وہ پارٹی کے اخراجات کس حد تک برداشت کرتے ہیں یہ کوئی راز نہیں ہے، اسی وجہ سے انہیں محبت کے ساتھ عمران خان کی اے ٹی ایم کہا جاتا ہے۔ جہانگیر ترین کے بیان سے مترشح ہوتا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے پنجاب کی وزارت علیا پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ چودھری محمد سرور بھی وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں، شاید عبدالعلیم خان کو بھی اس پر اعتراض نہ ہو لیکن جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ سندھ، شاہ محمود کے حوالے کیا گیا تھا، وہاں انہوں نے پارٹی کو ڈبو دیا اور اگر ان کا رویہ ایسا ہی رہا تو وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ اور عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکیں گے جبکہ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد کا حاصل تو عمران خان کو وزیراعظم بنانا ہے اور وہ الیکٹ ایبلز کو اس مقصد کے لئے پارٹی میں لا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان وزیراعظم بن جائیں گے تو وہ چلے جائیں گے۔ شاہ محمود اور جہانگیر ترین میں جو تلخی ہوئی ہے، پارٹی کے ہمدرد اسے نہیں مانتے تو بھی اس گفتگو کو ایک ایسا مکالمہ کہا جا سکتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی کے بعض رہنما ایک دوسرے کے بارے میں مثبت رائے نہیں رکھتے۔ الیکشن شیڈول کا اعلان ہوتے ہی اختلافات مزید واضح ہو جائیں گے کیونکہ جو لوگ پہلے سے پارٹی کے اندر موجود تھے وہ ٹکٹوں کی امید لگائے بیٹھے تھے اب جب الیکٹ ایبلز نے پارٹی پر یلغار کی ہے تو انہیں اپنی امیدیں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اور وہ سمجھنے لگے ہیں کہ نئے آنے والوں سے ٹکٹ کے وعدے کر لئے گئے ہیں، ایسے میں ان کو ٹکٹ ملنے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ اس وقت بھی بہت سے حلقے ایسے ہیں جہاں پارٹی کے کئی کئی امیدوار اس آس پر مہم چلا رہے ہیں کہ انہیں ٹکٹ مل جائے گا لیکن جب ایسا نہ ہوا تو گروہ بندی اپنا کام دکھائے گی اور عین ممکن ہے پارٹی کے اختلافات مزید نمایاں ہو کر سامنے آ جائیں غالباً اس کی پیش بندی کے طور پر پارٹی میں اسمبلیوں کی رکنیت کے امیدواروں سے ایک حلف نامہ پر کرایا جا رہا ہے کہ اگر پارٹی نے انہیں ٹکٹ نہ دیا تو وہ اس کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کریں گے اور پارٹی کے فیصلے کو قبول کریں گے۔ ویسے تو یہ حلف نامہ ہر کوئی پر کر دے گا لیکن اس پر عمل کتنے لوگ کرتے ہیں یہ تو اس وقت معلوم ہوگا جب ٹکٹ کے امیدوار مایوس ہوں گے اور ان کی مایوسی کی وجہ نئے آنے والے ہی ہوں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ اپنی پارٹی چھوڑ کر اس مرحلے پر تحریک انصاف جائن کر رہے ہیں، ان سے بھی تو کوئی وعدے وعید ہوئے ہوں گے ورنہ انہیں کیا ضرورت ہے کہ وہ ایسا کریں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو اختلافات عرصے سے دبے ہوئے تھے، وہ اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ بدھ کو تحریک انصاف کا جو اجلاس اسلام آباد میں ہوا، اس میں شاہ محمود قریشی نے شرکت نہیں کی اور جمعرات کو جو اجلاس ہو رہا ہے اس میں لاہور کے منتخب ارکان اسمبلی نہیں جا رہے۔ انہیں علیم خان سے شکایت ہے کہ وہ پارٹی عہدے کا فائدہ اٹھا کر مال بنا رہے ہیں۔

یہ تو پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے، باہر یہ حالت ہے کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما نعیم الحق نے ایک چینل کے پروگرام میں وفاقی وزیر دانیال عزیز کو تھپڑ رسید کر دیا، وہ جس لفظ پر مشتعل ہوئے وہ ’’چور‘‘ تھا جبکہ پی ٹی آئی کے جلسوں میں باقاعدہ کورس کے انداز میں ’’دیکھو دیکھو کون آیا، چور آیا‘‘ گایا جاتا ہے یا پھر ’’گلی گلی میں شور ہے، سارا ٹبر چور ہے‘‘ اصولاً تو ان پر بھی مسلم لیگ (ن) کے لوگ اشتعال میں آ سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا البتہ نعیم الحق نے جو تھپڑ رسید کیا ہے، اس کا ردعمل کسی نہ کسی انداز میں آئے گا کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اس طرح کی حرکت کرنے والے بعد میں مکافات عمل کا شکار نہ ہوں، بس اب انتظار کرنا چاہئے کہ ردعمل کہاں اور کیسے آتا ہے۔

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...