زرداری اور نواز نگراں سیٹ اپ کی تشکیل میں رکاوٹ بن گئے

زرداری اور نواز نگراں سیٹ اپ کی تشکیل میں رکاوٹ بن گئے

کراچی : تجزیہ مبشر میر

نگراں سیٹ اپ کے لیے آصف علی زرداری کی عدم دلچسپی اور میاں نواز شریف کی خواہش کی تکمیل نہ ہونا ،تشکیل میں تاخیر کی اصل وجہ دکھائی دیتی ہے ۔دونوں راہنماؤں کا رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے اور نہ ہی دونوں فیصلہ کرنے کا مینڈیٹ رکھتے ہیں ۔دونوں راہنماؤں کو اپنی اعلیٰ قیادت کی خواہشات کی تکمیل کے لیے تگ و دو کرنی پڑرہی ہے ۔میاں نواز شریف کی متعدد بار خواہش کے باوجود آصف علی زرداری نے ان سے ملاقات تو کجا فون پر بات کرنا بھی گوارا نہیں کیا ۔اب جبکہ حکومت کے اختتام کو صرف آٹھ دن رہ گئے ہیں آصف زرداری بیرون ملک چلے گئے ہیں ۔اب جبکہ میاں نواز شریف کے خلاف ریفرنس کے فیصلے کا وقت بھی قریب آرہا ہے ان کو آصف علی زرداری کی سیاسی سپورٹ کی اشد ضرورت تھی لیکن ان کو اس مرتبہ پیپلزپارٹی کا سیاسی کندھا نصیب نہیں ہورہا ۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ آنے والی نگراں حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بھی اٹھانا پڑے گا ۔ذرائع کے مطابق اعلیٰ حلقوں میں یہ سوچ موجود ہے کہ پاکستان کو اقتصادی میدان میں بڑے چیلنج درپیش ہیں اس لیے کوئی اعلیٰ ترین ماہر معاشیات ہی ملک کو اس گرداب سے نکال سکتا ہے ۔ایسی صورت حال میں سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹرعشرت حسین بہترین انتخاب ہوسکتے ہیں ۔انہیں اصلاحات کے لیے قائم کمیشن کی سربراہی بھی حاصل تھی لیکن وہ مکمل اتھارٹی کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیں گے ۔پاک چین تعلقات اور’’ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے منصوبے‘‘ کے زبردست حامی ہیں ۔ڈاکٹرعشرت حسین کو چین کے کئی اداروں کے ساتھ کام کرنے کا بھی تجربہ حاصل ہے اور ان کو چائنہ میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔اگر قرعہ فال ان کے نام نکلا تو پاکستان معاشی مسائل پر کسی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوجائے گا ۔

نگراں سیٹ اپ

مزید : تجزیہ