میاں صاحب آئی لو یو!

میاں صاحب آئی لو یو!
میاں صاحب آئی لو یو!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

خواہشیں چھوٹی بڑی نہیں ہوتیں، خواہشیں کرنے والے چھوٹے بڑے ہوتے ہیں۔

ٹی وی پر نواز شریف کا جلسہ دیکھا جس میں لوگ میاں صاحب آئی لو یو کے نعرے بلند کر رہے تھے تو دل میں اک عجب طرح کی امنگ جاگی اور ہم نے بیگم کو مخاطب ہو کر کہا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ بھی میری دفتر سے واپسی پر مجھے دیکھ کر کہا کریں کہ میاں صاحب آئی لو یو!.....اس پر بیگم صاحبہ نے ایسی بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ ہم نے لالچ دیتے ہوئے بات آگے بڑھائی کہ گھر کے ماہانہ خرچے میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ آپ بچوں کو لے کرگیٹ پر آجایا کریں اور مجھے دیکھتے ہی سب مل کر زور زور سے سے میاں صاحب آئی لو یو کہنا شروع کردیا کریں۔ اس پر بیگم نے ایسی عجیب نظروں سے دیکھا جیسے کہنا چاہتی ہوں کہ میری لگاتی ہے جوتی لیکن جب وہ گویا ہوئیں تو بس اتنا بولیں کہ آپ کا دماغ درست ہے!

پس ثابت ہوا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ مریم نواز جلسے میں موجود لوگوں سے باقاعدہ منصوبہ بندی سے یہ نعرے لگواتی ہیں وہ غلط ہیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو وہ اپنے چچا شہباز شریف کے لئے بھی ایسے ہی نعرے لگوا لیتیں ۔

میاں نواز شریف کے حصے میںآنے والا ’میاں صاحب آئی لو یو‘ کانعرہ پاکستان کی سیاسی تاریخ تو ایک طرف ہمارا خیال ہے کہ دنیا بھر کی سیاست میں کسی اور کے حصے میں نہ آیا ہوگا۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ کسی جلسے میں ایک خاتون نے عمران خان کے لئے ایسا ہی نعرہ لگایا تھا مگر وہ بیچاری بھی نعرہ لگانے کے بعد شرمندہ ہی ہوگئی تھیں کیونکہ ان کی تقلید میں کسی اور نے ایسے کھلے جذبات کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔

ویسے ہو سکتا ہے کہ ہم بیگم صاحبہ سے اپنا اصرار جاری رکھتے اور زیادہ نہیں تو عمران خان کی طرح ایک آدھ نعرہ اپنے حق میں لگوانے میں کامیاب ہو ہی جاتے مگر جب سے نعیم الحق نے اس بات پر دانیال عزیز کو تھپڑ جڑا ہے کہ انہیں چور کیوں کہا گیا ہے تب سے ہم محتاط ہو گئے ہیں کہ زبردستی کسی کو کچھ نہیں کہنا چاہئے۔ ویسے چور سے یاد آیا کہ پی ٹی آئی والوں نے تو باقاعدہ ایک گانا بھی بنایا ہوا ہے کہ دیکھو دیکھو کون آیا، چور آیا چورآیا!....اوردلچسپ بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ جب عمران خان کی ریلی میں آمد ہوئی تو عین اس وقت یہ گانا کسی ڈی جے نے چلادیا تھا ، اس واقعے کے بعد سے پی ٹی آئی کے کسی جلسے میں دوبارہ اس کی بازگشت نہیں سنی ہے۔ لگتا ہے کہ وہ گانا بھی نعیم الحق نے ہی بند کروایا ہوگا کیونکہ انہیں پسند نہیں ہے کہ کوئی کسی کو چور کہے اور خاص طور پر تب تو بالکل ہی پسند نہیں کہ جب چور بھی اوروں کو چور چور کہے !

ان دنوں ہمارے صاحبزادے کا LUMSمیں داخلہ ہوا ہے ، انہیں پہلا لیٹر آیا کہ آپ کو یونیورسٹی کے بزنس اینڈ فنانس سکول میں داخلہ دیا جاتا ہے ، کچھ دنوں بعد ایک اور لیٹر آگیا کہ آپ سائنس اینڈ انجنیئرنگ سکول کے لئے بھی کوالیفائی کرتے ہیں۔ اس پر ہمارے گھر میں ایک کابینہ بیٹھ گئی کہ صاحبزادے کو بزنس اینڈ فنانس پڑھنا چاہئے یاسائنس اینڈ انجینئرنگ ....دونوں کا سکوپ کیا ہے ، کس میں زیادہ بہتر مستقبل کے مواقع ہیں وغیرہ وغیرہ!.....طے ہو اکہ ہم انہیں لے کر اپنے جاننے والوں کے پاس جائیں گے جن میں آدھوں نے بزنس اینڈ فنانس پڑھ رکھی ہے اور آدھوں نے انجنیئرنگ اور مزے کی بات یہ ہے کہ بیٹے کا رجحان کمپیوٹر سائنس کی طرف ہے ۔خیر دو تین دن پروگرام بنتا رہا کہ کب جانا ہے ،کتنے بجے جانا ہے ، پہلے کس کے پاس جانا ہے ، پھرکس کے پاس جانا ہے اور آج جب جانے کا دن آیا تو ہم باپ بیٹا سوچتے رہے کہ کسی کے پاس جانے کا کوئی فائدہ بھی ہوگا کہ نہیں کیونکہ ہم کون سا اس ملک میں پہلی مرتبہ بزنس اینڈ فنانس یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پڑھنے جارہے ہیں۔ اس دوران ہمارا گھر سے دفتر جانے کا وقت ہوگیا اور ہم نے لیپ ٹاپ تھام کر نکلتے ہوئے بیٹے سے اتنا کہہ کر بات ختم کردی کہ بیٹا جس ملک میں تین بار کے وزیر اعظم کی چپراسی جتنی عزت نہ ہو وہاں کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ نے بزنس اینڈ فنانس پڑھ رکھی ہے یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ۔ اس لئے بہتر ہے کہ بزنس اینڈ فنانس ہی پڑھ لو جس کی فیس جمع ہو چکی ہے ۔

گاڑی میں بیٹھے تو ہمیں معروف بینکر رشید صاحب یاد آگئے جو پچھلے ہفتے بتا رہے تھے کہ کسی دفتر میں مالی کی نوکری کے لئے میٹرک پاس لوگوں سے درخواستیں مانگی گئیں تو ایک ایم اے پاس نے بھی جمع کروادی۔ انٹرویو کرنے والے نے کہا کہ نوکری آپ کو مل سکتی ہے اگر آپ اپنی درخواست کے ساتھ جڑی ایف اے، بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں اتارلیں ۔ اس نوجوان نے ایسا ہی کیا اور اسے مالی رکھ لیا گیا۔ معاً ایک خیال آیا کہ پاکستان بھی کیا کمال کا ملک ہے کہ کرکٹ کھیلنے والے اور گانے بجانے والے وزیر اعظم اور وزیر بننے جار ہے ہیں اور ایم اے پاس اپنی ڈگریاں چھپا کر مالی کی نوکریاں پا رہے ہیں، ابھی تو ایک کروڑ نوکریاں ملنی ہیں، دیکھیں کون کون کیا کیا کچھ پاتا ہے۔

مزید : رائے /کالم